http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/04/feature-01
| معیشت

مہمند ڈیم منصوبے کی تعمیر مقامی شہریوں کے لیے امید لائی ہے

ظاہر شاہ شیرازی


مہمند ڈیم کے لیے رسائی کی سڑکوں پر تعمیر 31 مئی کو جاری ہے۔ [بہ شکریہ ظاہر شاہ شیرازی]

مہمند ڈیم کے لیے رسائی کی سڑکوں پر تعمیر 31 مئی کو جاری ہے۔ [بہ شکریہ ظاہر شاہ شیرازی]

غلانائی -- مہمند ڈسٹرکٹ کے شہری ایک نئے ڈیم کی تعمیر کے بارے میں پرامید ہیں جس سے توقع ہے کہ علاقے میں ترقی آئے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے 2 مئی کو طویل عرصے سے انتظار کیے جانے والے مہمند ڈیم پن بجلی منصوبے کی بنیاد کھودی۔

پانچ دہائیوں سے زیادہ کے عرصے تک ملتوی کیے جانے کے بعد، اب یہ منصوبہ جولائی 2024 تک مکمل ہو جانے کی توقع ہے۔ اس ڈیم میں 1.2 ملین ایکڑ فیٹ (ایم اے ایف) پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا، 800 میگا واٹ کم لاگت پن بجلی پیدا کی جا سکے گی اور پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کو سیلاب کے خطرات سے بچانے میں مدد ملے گی۔


اس تصویر میں جو کہ 20 جولائی 2011 کو لی گئی میں پاکستانی خاندان روایتی چارپائیوں پر دریائے سوات کے کنارے بیٹھے ہیں جو کہ بحرین کا ایک مشہور پہاڑی مقام ہے۔ مہمند میں ایک نئے ڈیم کی تعمیر سے سیلاب کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ [اے مجید/ اے ایف پی]

اس تصویر میں جو کہ 20 جولائی 2011 کو لی گئی میں پاکستانی خاندان روایتی چارپائیوں پر دریائے سوات کے کنارے بیٹھے ہیں جو کہ بحرین کا ایک مشہور پہاڑی مقام ہے۔ مہمند میں ایک نئے ڈیم کی تعمیر سے سیلاب کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ [اے مجید/ اے ایف پی]

یہ منصوبہ تقریبا 16,700 ایکڑ سے زیادہ نئی زمین کو سیراب بھی کرے گا اور پشاور کو فی دن 300 ملین گیلن پینے کا پانی بھی فراہم کرے گا۔

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) جسے اس ڈیم کی تعمیر کا کام سونپا گیا ہے، نے پہلے ہی اس منصوبے کے بہت سے حصے مکمل کر لیے ہیں۔

اس میں منصوبے کے علاقے میں موسمیاتی اسٹیشن قائم کرنا، دریائے سوات کے ساتھ ساتھ پانی کے اخراج کو ناپنے کے لیے آلات کو نصب کرنا اور ابتدائی جیو-ٹیکنیکل کھدائی شامل ہیں۔

دریں اثنا، دریا کے دونوں کناروں تک رسائی کی مستقل سڑکوں کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ منڈا ہیڈورکس سے شروع ہونے والی 15.5 کلومیڑ طویل سڑک ڈیم کی تعمیر،سپل وے اور آب پاشی کی سرنگوں کے لیے رسائی فراہم کرے گی۔

واپڈا کے چیرمین لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) مزمل حسین اور دیگر حکام جن میں قومی اسمبلی (این اے) کے رکن ساجد خان نے 31 مئی کو کام کی جگہ کا دورہ کیا۔

حسین نے کہا کہ "مہمند ڈیم منصوبہ 6,000 سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "زمین اور اثاثوں کے لیے معاوضے کے علاوہ، اعتماد قائم کرنے کے اقدامات کے تحت، منصوبے کے علاقے کی ترقی کے لیے 4.61 بلین روپے (28 ملین ڈالر) خرچ کیے جائیں گے اور تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی، سڑکوں، درخت لگانے اور ماہی پروری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ کے دور دراز کے علاقوں کی ترقی کے علاوہ، مہمند ڈیم پن بجلی منصوبہ ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے میں بہت آگے تک جائے گا کیونکہ اس سے ملک کی پانی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

'ایک خواب سچا ہوا'

این اے کے رکن خان جو کہ مہمند ڈسٹرکٹ کی نمائںدگی کرتے ہیں، نے کہا کہ "ہر کوئی اس منصوبے کے مکمل ہونے تک اپنی پوری پوری مدد فراہم کرے گا اور مقامی افراد کو اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ ہو گا"۔

انہوں نے ڈیم کو "ایک خواب کی تعمیر" قرار دیا اور مزید کہا کہ مقامی افراد سماجی اور معاشی ترقی، ملازمت کے مزید مواقع دیکھیں گے اور اس منصوبے کے نتیجے میں غربت کا خاتمہ بھی ہو گا۔

مہمند سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی صحافی فوضی خان مہمند نے کہا کہ یہ ڈیم مہمند کے لیے "امن کا بڑا نشان" ہے جس نے دہشت گردی سے بہت نقصان اٹھایا ہے اور جو ترقی میں پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی شہری "پرامید اور خوش ہیں کیونکہ وہ نئی ملازمتوں کو ڈسٹرکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھتے ہیں"۔

مہمند سے تعلق رکھنے والے ایک اور قبائلی صحافی آفتاب مہمند نے کہا کہ اگر یہ ڈیم پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے کے لیے اگر التوا میں نہ پڑا ہوتا تو علاقے کو عسکریت پسندی، خون خرابہ اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کو دیکھنا نہ پڑا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ"ڈیم امن اور ترقی کا ایک حقیقی نشان ہے اور یہ علاقے کو سماجی و معاشی طور پر آگے بڑھانے میں بہت زیادہ مددگار ہو گا جس نے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے"۔

مہمند سے تعلق رکھنے والے ترقیاتی ماہر شاہ سوار مہمند نے کہا کہ یہ منصوبہ "ڈسٹرکٹ کو توجہ کا مرکز بنائے گا کیونکہ مواصلات کے نیٹ ورک علاقے کو بیرونی دنیا سے ملا دیں گے، سرمایہ کاری لائیں گے اور مقامی تجارت کو فروغ دیں گے ۔۔۔ یہ ڈیم علاقے کے کاروباروں اور تجارت کے لیے بھی معاشی محرک ثابت ہو گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیم مقامی نوجوانوں کے لیے ملازمتیں لائے گا اور انہیں عسکریت پسندی کی طرف لے جانے سے بچائے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 07-20-2019

مجھے بہت پسند آیا ہے

جواب
| 07-17-2019

Kam kab start ho raha Hy have any information

جواب
| 07-13-2019

اگر 18 رکنی قومی کمیٹی ہٹائی جائے اور تو پھر براہ راست ترقی اور روزگار کی راہ ہموار ھوگی اگر اسی طرح پرانا ملک ازم روایت برقرار رہا تو نوجوانوں کو ترقی کی کوئی امید نہیں ھے

جواب