http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/04/05/feature-02
| سفارتکاری

پاکستان میں ازبک سفیر کا تعلیم پر زور بطور دہشت گردی کے خاتمے کا ذریعہ

از ظاہر شاہ شیرازی


پاکستان میں ازبک سفیر، فرقات صدیقوف (نیلے سوٹ اور ٹائی میں) نے 3 اپریل کو یونیورسٹی آف پشاور کے علاقائی مطالعاتی مرکز کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پاکستان میں ازبک سفیر، فرقات صدیقوف (نیلے سوٹ اور ٹائی میں) نے 3 اپریل کو یونیورسٹی آف پشاور کے علاقائی مطالعاتی مرکز کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور -- پاکستان میں ازبک سفیر فرقات صدیقوف نے کہا ہے کہ وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے لازمی ہے کہ وہ تعلیم کو خطے میں پرتشدد انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کریں۔

ایک خصوصی انٹرویو میں، صدیقوف نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ازبکستان نے ایک کثیر شاخہ حکمتِ عملی تیار کی ہے جس میں قانون کا سختی سے نفاذ اور "تشدد کے خاتمے کے لیے تعلیم" دونوں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا، "ازبک حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ایک بڑا قدم اماموں کی تعلیم و تربیت ہے جو ایک 'مشکوک' فہرست میں تھے۔" انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے تقریباً 45،000 ازبکوں کو بحال کیا ہے اور انہیں فہرست سے خارج کیا ہے۔

فہرست سزایافتہ یا مشتبہ انتہاپسندوں کے ناموں پر مشتمل تھی۔

صدیقوف نے مزید کہا، "ازبکستان کے پاس پرتشدد انتہاپسندی سے لڑنے کے لیے دیگر راستے بھی ہیں -- بذریعہ معاشی ترقی اور تعلیم۔"

جبکہ پاکستان ہمیشہ سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے، صدیقوف نے انتہاپسندوں کو شکست دینے کی کوششیں کرنے میں ملک کے کردار کو سراہا۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا، "پاکستان نے جرائم پیشہ عناصر کو شکست دے کر ثابت کیا ہے کہ ترقی کے لیے واحد راستہ امن ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی امن وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کی جانب سے معاشی اور تعلیمی دونوں محاذوں پر کوششیں کرنے پر منحصر ہو گا۔

صدیقوف نے کہا، "پرتشدد رجحانوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں نئے معاشی مقامات کھولنا ہوں گے اور اپنے تعلیمی پروگراموں کو بہتر بنانا ہو گا۔"

صدیقوف نے کہا کہ ازبکستان علاقائی ترقی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کا خواہاں ہے اور چند برسوں میںپاکستان کے ساتھ سالانہ تجارت کو بڑھا کر90 ملین ڈالر سے 300 ملین ڈالر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے تعلیمی روابط کی جستجو کرنے میں بھی اظہارِ دلچسپی کیا جو کہ دونوں ممالک کی قربت کی وجہ سے سستے ہوں گے۔

صدیقوف نے کہا کہ دونوں ممالک پہلے ہی مشترکہ کاروباروں میں شرکت کر رہے ہیں، جن میں سے 21 پر سنہ 2018 میں دستخط ہوئے تھے اور گزشتہ 20 برسوں میں ایسے 47 معاہدے ہو چکے ہیں۔

افغان تنازعہ

صدیقوف نے مزید کہا کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں امن قائم کرنا علاقائی استحکام کی کلید ہے۔

افغانستان کے مستقبل کے بارے میں 27-26 مارچ 2018 کو تاشقند میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "افغانستان میں عمل ازبکستان کے لیے انتہائی اہم ہے، اور تاشقند میں ہونے والی حالیہ سربراہی کانفرنس، جس میں افغان حکومت کی جانب سے بھی خطاب کیا گیا تھا، ایک پُرامن وسطی اور جنوبی ایشیاء کے لیے اس کے عزم کا کافی ثبوت ہے۔"

صدیقوف نے کہا کہ افغانستان میں امن ممکن ہے اگر تمام حصہ دار، بشمول طالبان، میز پر آ جائیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلیمی اور معاشی تعاون افغانستان میں امن اور ترقی واپس لانے میں مدد کرے گا۔"

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے جواب میں ازبکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کو کبھی بند نہیں کرے گا، انہوں نے مزید کہا کہ ایسے خطرات ازبکستان کے خطے میں لڑنے اور دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے اور امن کو بحال کرنے کے عزم کو متزلزل نہیں کر پائیں گے۔

انہوں نے کہا، "علاقائی استحکام صرف تبھی آئے گا جب ہمارا برادر ملک افغانستان پُرامن ہو گا۔"

علاقائی امن پر توجہ مرکوز کرنا

پاکستان اور ازبکستان دونوں میں ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ خطے کے امن کا انحصار افغانستان پر ہے۔

یونیورسٹی آف پشاور کے علاقائی مطالعاتی مرکز کے ایک سابق ڈائریکٹر، ڈاکٹر عظمت حیات خان نے کہا، "یہ علاقائی ریاستوں پر ہے کہ وہ خطے کی مجموعی ترقی کے لیے امن قائم کریں اور اسے برقرار رکھیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان اور ازبکستانخطے کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ افغانستان میں امن علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔"

علاقائی مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر شبیر احمد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "افغانستان میں امن سے بلاشبہ افغانستان کے راستے پاک-ازبک تجارت، سیاحت اور عوام کا عوام سے رابطہ انسلاک کے ایک بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے بہتر ہو جائے گا۔"

خان نے بتایا کہ پشاور سے تاشقند اور کراچی کا فاصلہ لگ بھگ اتنا ہی ہے جتنا کہ تاشقند اور پشاور کا "جلال آباد، کابل، مزار شریف، ترمیز اور بخارا" سے گزرتے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب دونوں ممالک کے افغانستان کے ذریعے سڑک اور ریل کے رابطے ہوں گے تو پاکستان اور ازبکستان کے روابط کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ ہو جائے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha