2016-06-06 | معاشرہ

ازبکستان ازبک زبان کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے

ماکسم ژینیسیژیو

حکومت سوویت دور سے روسی زبان کی روانی کی ترجیح دیے جانے کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔


20 مئی کو تاشقند میں ایک لڑکی ایک سٹور پر ازبک زبان کی کتابیں دیکھ رہی ہے۔ حکومت ملک بھر میں ازبک زبان میں روانی کو فروغ دینے کے لیے پر امید ہے۔ [ماکسم ژینیسیژیو]
20 مئی کو تاشقند میں ایک لڑکی ایک سٹور پر ازبک زبان کی کتابیں دیکھ رہی ہے۔ حکومت ملک بھر میں ازبک زبان میں روانی کو فروغ دینے کے لیے پر امید ہے۔ [ماکسم ژینیسیژیو]
20 مئی کو تاشقند میں ایک لڑکی ایک سٹور پر ازبک زبان کی کتابیں دیکھ رہی ہے۔ حکومت ملک بھر میں ازبک زبان میں روانی کو فروغ دینے کے لیے پر امید ہے۔ [ماکسم ژینیسیژیو]

حکومت سوویت دور سے روسی زبان کی روانی کی ترجیح دیے جانے کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

تاشقند — ازبکستان کے ان باشندوں کے لیے ازبک زبان میں روانی حاصل کرنے کی ایک کاوش جاری ہے جو ابھی تک ایسا نہیں کر سکے۔

حکومت کو امید ہے کہ ازبک زبان کی تعلیم نوجوان مرد و خواتین کو آزادانہ طور پر سوچنے اور شدت پسندی کو مسترد کرنے کے قابل بنائے گی۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ازبکستان شام اور عراق میں جنگوں میں حصہ لینے کے لیے بنیاد پرستی کا شکار ان شہریوں کے انخلاء کو روکنے کے لیے کوشاں ہے جن کی تعداد 2011 سے اب تک ہزاروں میں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، جبکہ پڑھا لکھا شہری طبقہ ازبک سے بہتر روسی زبان بولتا ہے، حکومت کو سوویت دورِ حکومت کے ورثہ اور اس آبادی کے تنوع سے بھی نمٹنا ہے جن میں سے ہر ایک کی اول زبان ازبک نہیں ہے۔

ایک متنوع قوم

ازبکستان میں آبادی کا تنوع ازبک زبان میں ہمہ گیر روانی کو ایک چیلنج بناتا ہے، تاہم ملک میں متعدد نسلی گروہ پرامن طور پر مل جل کر رہتے ہیں۔

خان نے کہا، ”140 سے زائد نسلی گروہوں کے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ ازبک دفتری زبان ہے۔ لیکن سب کے لیے اسے استعمال کرنا ضروری نہیں ۔۔۔ دفتری دستاویزات میں روسی اور اسی طرح دیگر زبانوں کی بھی اجازت ہے۔“

تاشقند کے کالج طالبِ علم عطابیک سلطان خواجہ ژیو نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، ”بہت سے ممالک ازبکستان کی مثال کی پیروی کر سکتے ہیں۔ [ازبک شہری] اپنی زبانوں میں بآسانی ایک دوسرے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ یہ بالخصوص اس صورت میں اہم ہے، جب متعدد شدت پسند اپنے بیانات سے وسط ایشیائی ممالک میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش میں ہیں۔“

ایک نئی جامعہ

ملک بھر میں ازبک زبان میں روانی کو بڑھانے کے امید میں صدر اسلام کریموف نے مئی میں ازبک زبان و ادب کی ایک جامعہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

اس جامعہ کا آغاز ستمبر میں تاشقند میں طے ہے۔ اس کے مقاصد میں حب الوطنی اور آفاقی انسانی اقدار کی روح میں ازبک نوجوانوں کو تعلیم دینا ہے۔

یہ 15 ویں صدی کے شاعر علی شیر ناؤئی سے منسوم ہو گی۔

یہ جامعہ علاقائی استحکام اور باہمی اتفاقِ رائے کو مضبوط کرنے کی توقع میں قریبی ممالک میں ازبک زبان بولنے والے متعدد افراد کے لیے آؤٹ ریچ کے طور پر بھی کام کرے گی۔

متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے ان ازبک النسل افراد میں سے چند شام میں امام بخاری جماعت کے ارکان کے طور پر لڑ رہے ہیں، جبکہ دیگر تحریکِ اسلامیٔ ازبکستان (آئی ایم یو) میں ہیں اور پاکستان اور افغانستان میں لڑ رہے ہیں۔

تاشقند کے سیاسیات دان والیری خان نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ازبک حکومت کے مطابق، تقریباً 2.8 ملین ازبک بولنے والے تاجکستان، قرغیزستان، قازقستان اور ترکمانستان میں رہتے ہیں۔“

خان نے مزید کہا، ”افغان آئین کے مطابق، شمال میں ازبک سرکاری زبان ہے، جہاں تقریباً 3 ملین ازبک النسل رہتے ہیں۔ اس طرح بولنے والوں کی تعداد کے حوالے سے ازبک وسط ایشیا میں روسی کے بعد دوسری زبان ہے۔ ازبک زبان ثقافتی تعاون اور یگانگت کے لیے ایک آلہ کے طور پر کام کر سکتی ہے۔“

اعلیٰ اور ثانوی مخصوص تعلیم کی وزارت کے ترجمان جاؤخیر خاتاموف نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامعۂ ازبک زبان و ادب ”ازبک زبان کی تعلیم کے لیے ایک متحدہ تعلیمی مرکز بن جائے گا۔ ہمیں طویل عرصہ سے ایک ایسے مرکز کی ضرورت تھی۔“

انہوں نے کہا، ”ایک بنیادی مقصد ۔۔۔ وطن کی محبت، قومی اور آفاقی انسانی اقدار، دنیا سے متعلق ایک وسیع نقطۂ نظر اور آزادانہ سوچ کی روح میں نوجوانوں کی تعلیم ہو گا۔“

عوام کی جانب سے جامعہ کے آغاز کے منصوبہ کی پذیرائی

ملک کی زبان کے لیے مختص جامعہ پر عوام پرجوش ہے۔

تاشقند کی رہائشی عزیزہ جوراژیوا نے سنٹرل ایشیا آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ایسا بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ ہمارے ملک میں ناکافی [تحریری] مواد پیدا ہوتا ہے۔“

انہوں نے کہا، ”اگر آپ انٹرنیٹ کے ازبکستانی حصہ کو دیکھیں تو آپ کو دلچسپ اور بکثرت دیکھی جانے والی سائیٹس ازبک کی نسبت روسی زبان میں کہیں زیادہ ملیں گی۔ ازبک زبان میں ترجمہ شدہ زیادہ غیر ملکی کتابیں پڑھنا اور غیرملکی فلمیں دیکھنا ممکن ہونا چاہیے۔“

ازبک زبان کی کتابیں پڑھنے کو مقبولیت دینے کے لیے حکومت نے 26-28 مئی کو ملک بھر میں ایک کتاب میلے کا انعقاد کیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج