|

سلامتی

پاکستان سیکورٹی فورسز نے وزیرستان میں آئی ای ڈیز، بارودی سرنگوں کے بارے میں آگاہی بڑھائی

آگاہی کی ایک جاری مہم وزیرستان میں مقامی افراد کو سکھا رہی ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے پیچھے چھوڑی جانے والی آئی ای ڈیز، بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز آلات کو کیسے شناخت کیا جا سکتا ہے۔

دانش یوسف زئی


سیکورٹی کا عملہ 8 اپریل کو تحصیل مکین، جنوبی وزیرستان میں مقامی افراد کو بارودی سرنگوں کے خطرات کے بارے میں تعلیم دے رہا ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

سیکورٹی کا عملہ 8 اپریل کو تحصیل مکین، جنوبی وزیرستان میں مقامی افراد کو بارودی سرنگوں کے خطرات کے بارے میں تعلیم دے رہا ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

پشاور -- پاکستانی سیکورٹی فورسز شمالی اور جنوبی وزیرستان کے شہریوں میں، عسکریت پسندوں کی طرف سے پیچھے چھوڑے جانے والے گھریلو ساختہ بموں (آئی ای ڈیز) اور بارودی سرنگوں کے بارے میں آگاہی بڑھا رہی ہیں۔

اگرچہ اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے بہت سے افراد امن کی بحالی کے بعد وزیرستان واپس آ گئے ہیں مگر آزادانہ نقل و حرکت، ہزاروں بکھری ہوئیبارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کے باعث، ابھی بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔

آگاہی کی مہم جس کا آغاز مئی 2016 میں ہوا تھا، کا مقصد زندگیوں اور اعضاء کے نقصان کو کم سے کم کرنا ہے اور مقامی افراد کو آئی ای ڈیز اور بارودی سرنگوں کے خطرات کے بارے میں حساس بنانا ہے۔

یہ کوشش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ سارے کا سارا علاقہ ایسے دھماکہ خیز مواد سے صاف نہیں ہو جاتا۔

حکام کے مطابق، اس مہم میں معلوماتی پمفلٹ اور بینر تقسیم کرنا اور اسکولوں اور حجروں (مردوں کے سماجی اجتماع) میں روزانہ مُتعامِل سیشن منعقد کرنا شامل ہے۔

بارودی سرنگوں کا پتہ لگانا اور ٹھکانے لگانا

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق، سیکورٹی کے عملے نے علاقے میں سینکڑوں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے مقام کا نقشہ بنا لیا ہے اور انہیں نکالنے کا کام جاری ہے۔

تاہم، علاقے میں عسکری مہم کے آغاز سے اب تک کے نو سالوں کے دوران، بارشوں، سیلاب اور کٹاؤ سے ہو سکتا ہےکہ بہت سی بارودی سرنگیں وہاں سے ہل گئی ہوں جہاں انہیں پہلے دبایا گیا تھا۔

اس وجہ سے یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ مقامی شہریوں کو علم ہو کہ بارودی سرنگوں اور آئی ای ڈیز کی شناخت کیسے کی جاتی ہے۔

بموں کو ناکارہ بنانے کے ماہرین دیہاتیوں کی طرف سے شانخت کیے جانے والے بموں کو ناکارہ بناتے ہیں اور دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد اور معاوضے کی پیشکش کی جاتی ہے۔

بموں کو ناکارہ بنانے کے ماہرین کی خصوصی ٹیموںنے دسمبر 2017 میں وزیرستان کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے کام کو تیز کرنا شروع کیا مگر یہ کام بہت احتیاط سے کرنے والا اور خطرناک ہے۔

فروری 2018 میں کور کمانڈر پشاور احمد نذیر بٹ نے کہا کہ پاکستانی فوج کے 46 فوجی وزیرستان میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بناتے ہوئے زخمی ہوئے ہیں۔ یہ خبر ٹرائبل نیوز نیٹ ورک (ٹی این این) نے دی ہے۔

بہت سے ہلاک و زخمی

ٹی این این نے گزشتہ ستمبر میں خبر دی کہ پاکستان ریڈ کریسنٹ کے ایک اہلکار کے مطابق، گزشتہ چند سالوں کے دوران فاٹا میں بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے 2,000 سے زائد واقعات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کی اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی جو یا توہلاک ہو گئے یا ہاتھوں اور پاؤں سے محروم ہو گئے۔

متاثرین کا عام طور پر خیبرپختونخواہ اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) بھر میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتالوں (سی ایم ایچ) میں، علاج کیا جاتا ہے۔

سروکی، شمالی وزیرستان کے 50 سالہ شہری خان رسول، آئی ای ڈیز کے ہونے والے دھماکوں کے متاثرین میں سے ایک ہیں۔

رسول گاوں میں اپنی بہن کے گھر جا رہا تھا جب 27 فروری کو وہ آئی ای ڈی کے دھماکے کا نشانہ بن گیا جس سے اس کی ٹانگیں زخمی ہو گئیں۔ اس کا سی ایم ایچ پشاور میں علاج کیا گیا اور اسے 13 مارچ کو ہسپتال سے فارغ کیا گیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مقامی افراد کو آئی ای ڈی بموں کے بارے میں تعلیم دینا بہت اچھا قدم ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "مقامی افراد اور خصوصی طور پر بچوں کو آگاہی کی ضرورت ہے کیونکہ باہر کھیلنے والے بچوں کی اکثریت آئی ای ڈیز کو کھلونا سمجھ لیتی ہے"۔

رسول نے کہا کہ "ہم علاقے میں واپس آئے کیونکہ امن بحال ہو گیا تھا اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے کیے جانے والے ایسے اقدامات، ان لوگوں تک مثبت پیغامات پہنچائیں گے جو ابھی تک اپنے آبائی علاقوں میں واپس آنے سے خوفزدہ ہیں"۔

حفاظتی اقدامات نافذ کرنا

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے ایک سرگرم کارکن حمزہ محسود نے کہا کہ آئی ای ڈیز کی آگاہی کی مہم علاقے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "لوگ بارودی سرنگوں سے لاعلم ہیں خصوصی طور پر بچے کیونکہ وہ باہر کھیلتے ہیں اور ان بارودی سرنگوں کو کھلونا سمجھتے ہیں جس سے ممکنہ ہلاکتیں ہوتی ہیں"۔

محسود نے کہا کہ آگاہی کی مہم، آئی ای ڈی کے بارے میں حفاظتی اقدامات اور انہیں شناخت کرنے کے بارے میں شہریوں کو تعلیم دینے کے لیے موثر اور ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ "مقامی قبائل کو بھی آئی ای ڈیز اور بارودی سرنگوں کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے ایسی سرگرمیوں میں شرکت کرنی چاہیے"۔

محسود نے کہا کہ "حکام کو علاقے میں ٹیلی فون لائنوں کو قائم کرنا چاہیے تاکہ شہری بارودی سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع دے سکیں۔ فوجی یونٹ اور چیک پوائنٹس اکثر گاوں سے بہت دور ہوتی ہیں اور دیہاتیوں کے پاس دھماکہ خیز آلات کی اطلاع دینے کے لیے کوئی اور راستہ نہیں ہوتا"۔

لدھا تحصیل، جنوبی وزیرستان کے ایک رہائشی حبیب اللہ خان نے کہا کہ فاٹا، خصوصی طور پر جنوبی وزیرستان گزشتہ دہائی سے تنازعہ کا شکار رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان فاروڈ کو بتایا کہ "قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگوں اور نہ پھٹنے والے گولہ بارود کی شکل میں جنگ کی باقیات موجود ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے باعث بہت سے لوگ زخمی، اپاہج یہاں تک کہ ہلاک بھی ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اگرچہ جنوبی وزیرستان سے بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز مواد کو نکالنے کی پاکستانی فوج کی حالیہ مہم طویل عرصے سے التوا پذیر تھی مگر پھر بھی یہ ایک اچھی خبر ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج