2017-03-29 | سلامتی

بہادر خواتین نے بم ناکارہ بنا کر دقیانوسی تصورات کو للکار دیا

محمد عاحل

یہ تین بہنیں خیبر پختونخواہ کی ان 12 خواتین میں سے ہیں جنہوں نے بم ڈسپوزل سکواڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔


جنوری میں بم ڈسپوزل سکواڈ کی خواتین کمانڈوز ضلع نوشہرہ میں ایک تربیتی مشق میں شریک ہیں۔تعلیم حاصل کرنے والی 24 رکنی جماعت میں گیارہ خواتین شامل ہیں۔ [محمد عاحل]
جنوری میں بم ڈسپوزل سکواڈ کی خواتین کمانڈوز ضلع نوشہرہ میں ایک تربیتی مشق میں شریک ہیں۔تعلیم حاصل کرنے والی 24 رکنی جماعت میں گیارہ خواتین شامل ہیں۔ [محمد عاحل]
جنوری میں بم ڈسپوزل سکواڈ کی خواتین کمانڈوز ضلع نوشہرہ میں ایک تربیتی مشق میں شریک ہیں۔تعلیم حاصل کرنے والی 24 رکنی جماعت میں گیارہ خواتین شامل ہیں۔ [محمد عاحل]

یہ تین بہنیں خیبر پختونخواہ کی ان 12 خواتین میں سے ہیں جنہوں نے بم ڈسپوزل سکواڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

پشاور – خیبرپختونخواہ (کے پی) کی خواتین صرف بہادر ترین مردوخواتین کے لیے مخصوص کام کا انتخاب کرکے دقیانوسی تصورات اور جنس کے لیے مخصوص روایتی کرداروں کو للکار رہی ہیں۔

صابرآباد، ضلع کرک کے دورافتادہ علاقہ سے تین بہنیں ان 12 دلیر خواتین میں سے ہیں جنہوں نے 24 رکنی کے پی بم ڈسپوزل سکواڈ (بی ڈی ایس) کی کمانڈو فورس میں شمولیت اختیار کر کے دہشتگردی اور شدت پسندی سے لڑائی کرنے کا انتخاب کیا۔

ان بہنوں، پروین گل، سمینہ اور رخسانہ ناز نے کہا کہ جب انہوں نے بی ڈی ایس تربیت یافتہ پہلی خاتون پولیس اہلکار کے بارے میں سناتو ایسا تھا جیسے کوئی خواب سچ ہو گیا ہو۔

انہوں نے 2016 میں اپنی ایلیٹ کمانڈو تربیت مکمل کی اور جنوری میں نوشہرہ میں دھماکہ خیز مواد سے نمٹنے کے سکول میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے فروری میں اپنی 15 روزہ بنیادی بی ڈی ایس تربیت مکمل کی۔ ان 12 میں سے ایک، رانا قسیم کو جلد ہی اعلیٰ بی ڈی ایس کورس میں ترقی دے دی گئی، جو کہ 30-45 روز تک جاری رہے گا۔

صوبائی بی ڈی ایس میں بطورِ کل تقریباً 500 اہلکار ہیں۔

منوع پسِ منظر

تین بہنوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے والی دیگر آٹھ خواتین بی ڈی ایس کمانڈوز عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع، نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہنگو، چارسدہ، مردان، بونیر اور بنوں سے تھیں۔

بھاری اسلحہ، حفاظتی سازوسامان، دھماکہ خیز مواد سے نمٹنےاور دست بدست لڑائی کی تربیت حاصل کرنے والی نوجوان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ دہشتگردی سے کے پی کا پیچھا چھڑانے کے لیے پرعزم ہیں جس نے متعدد عورتوں سے ان کے شوہر، باپ اور بھائی چھین لیے۔

پروین گل نے کہا کہ جب وہ سکول جاتے ہوئے پولیس کے گشت دیکھتی تو وہ ایک خاتون پولیس اہلکار بننے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہمیں فخر ہے کہ پولیو ہونے کے باوجود ہمارے والد نے ہم سب کو پڑھانے کے لیے اپنی پوری کوشش کی۔لہٰذا اب ہم نے ان سے خاندان کی کفالت کا بوجھ لے لیا ہے۔"

دھماکہ خیز مواد کی ایک ماہر، پری گل نے کہا، "ایک ایسی فورس کا حصہ بننا فخر ہے جو مادرِ وطن اور عوام کی جانوں کی حفاظت کے لیے ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ وہ "کبھی بم اور دھماکہ خیز مواد سے خوفزدہ نہیں ہوئی [...] مجھے چیلنج پسند ہیں۔"

اس نے کہا، "میرا حفاظتی سازوسامان پہننا ایک عام بات ہے، اور میں فی الحقیقت اس سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔"

پوشیدہ ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کی ماہر، رخسانہ نے کہا کہ اسے امید ہے کہ خواتین کمانڈو دوسروں کو فورس میں شمولیت اختار کرنے کے لیے راغب کریں گی۔

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم لڑکیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ یہ صرف ایک مرد ہی کا کام نہیں۔ ہم بموں کو ناکارہ بنا کر اپنے لوگوں کی جانوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔"

رخسانہ نے کہا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف کسی بھی فعال آپریشن میں حصہ لینے اور ان کے دھماکہ خیز آلات کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔

سمینہ نے کہا کہ ابتدائی طور پر اس نے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے فورس میں شمولیت اختیار کی، لیکن اب قوم کی خدمت اس کا جذبہ بن چکا ہے۔

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں؛ وہ اپنے خاندانوں اور اپنے ملک کی خدمت کرنے کے لیے بیک طور مضبوط ہوتی ہیں۔"

اس نے کہا، "آئندہ مرحلہ میں ہم کھلونہ بموں] کھلونوں جیسے دکھائی دینے والے بموں[، خود کش جیکٹوں اور احمق بنانے والے پھندوں کے لیے خصوصی تربیت حاصل کرنے کا انتخاب کریں گے۔"

اس نے کہا، "دہشتگردوں کے خلاف جنگ اور اپنے ہم وطنوں کا تحفظ ہمارا مشن ہے۔ میں خوفزدہ نہیں؛ ہر کسی کو ایک دن مرنا ہے۔ باوردی مرنا میرے لیے باعثِ فخر ہوگا۔"

خواتین کے ہنر کے استعمال کی کوشش

اس نے کہا کہ حال ہی میں سبکدوش ہونے والے کے پی انسپکٹرجنرل پولیس ناصر خان درانی نے بہادر پشتون خواتین کے ہنر کو استعمال میں لانے کے لیے ایلیٹ تربیت اور بی ڈی ایس کے لیے خواتین پولیس کمانڈوز کی شمولیت کے تصور کا آغاز کیا۔

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "تین برس قبل پولیس کو تربیت دینے کے لیے کوئی انتظام نہیں تھا۔ آج کے پی پولیس کے پاس 15,000 سے زائد عمدہ تربیت یافتہ افسران بشمول خواتین پولیس کمانڈو اور بی ڈی ایس میں تربیت یافتہ خواتین ہیں۔"

پولیس ترجمان ریاض خان کے مطابق، جونیئر کلرک سے ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ تک کی حیثیت میں 600 سے زائد خواتین کے پی پولیس میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

دھماکہ خیز مواد سے نمٹنے کے سکول کے سربراہ معلم نوشہرہ شفیق خٹک نے دھماکہ خیز مواد کے نو تربیت یافتہ افراد کی پذیرائی کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "بہادر نوجوان خواتین میں آگے بڑھنے کی بہترین صلاحیت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خواتین کمانڈوز کو "دورانِ تربیت پرجوش اور بے خوف پایا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج