|

سلامتی

سیکیورٹی فورسز نے پورے پاکستان میں دہشت گردوں کی اسلحے کی بڑی کھیپیں پکڑ لیں

گرفتار شدہ دہشت گردوں سے ملنے والی معلومات نے فرار ہونے والے دہشت گردوں کی چھپائی ہوئی اسلحے کی کھیپوں تک پہنچنے میں سیکیورٹی فورسز کی مدد کی ہے۔

از محمد اہل


آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 29 جنوری کو جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل شاکائی میں ہتھیاروں اور بارودی مواد کی ایک بڑی مقدار (تصویر میں دکھائی گئی) قبضے میں لے لی۔ [آئی ایس پی آر]

آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 29 جنوری کو جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل شاکائی میں ہتھیاروں اور بارودی مواد کی ایک بڑی مقدار (تصویر میں دکھائی گئی) قبضے میں لے لی۔ [آئی ایس پی آر]

پشاور -- دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز جاری عسکری کارروائیوں سے بھاگنے پر مجبور ہونے والے دہشت گردوں کی جانب سے چھپائے گئے اسلحے کی بڑی کھیپیں قبضے میں لے رہی ہیں اور چھپائے گئے ہتھیار برآمد کر رہی ہیں۔

جون 2014 میں شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب نے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا تھا۔.

اس کے بعد ہونے والے آپریشن رد الفساد، جو فروری 2017 میں شروع کیا گیا تھا، میں اہم عسکریت پسند کمانڈروں کی گرفتاریاں اور ہتھیار ڈالنا دیکھا گیا، جن میں سے بہت سوں نے حکام کو معلومات فراہم کی ہیں جن کے نتیجے میں ہتھیاروں کی کھیپوں کو قبضے میں لیا گیا اور تباہ کیا گیا۔.

اپنے مضبوط ٹھکانوں سے نکالے گئے فرار ہونے والے دہشت گرد اکثر اپنے ہتھیار اور گولہ بارود زمین دوز مکانوں اور سرنگوں میں چھپا دیتے یا کھیتوں اور حتیٰ کہ مساجد میں بھی چھپا دیتے۔

پشاور کے مقامی صحافی اور قبائلی امور کے ماہر، عقیل یوسفزئی نے کہا، "چونکہ اب دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے حملوں کو جھیلنے سے قاصر ہیں، وہ گرفتاریوں سے بچنے کے لیے ان ہتھیاروں کو چھپاتے یا دباتے ہوئے ان سے چھٹکارا حاصل کر رہے ہیں۔"

ہتھیاروں، گولہ بارود کی دریافت

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ایک حالیہ مثال میں، سیکیورٹی فورسز نے 29 جنوری کو جنوبی وزیرستان ایجنسی کے علاقے شاکائی تحصیل میں بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لیا۔

اسلحے کی کھیپ، جو کہ مخبری کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کے دوران دریافت ہوئی، میں راکٹ، کلاشنکوفیں، دستی بم اور ہزاروں کی تعداد میں گولیاں شامل تھیں۔

پہلے 26 جنوری کو، سیکیورٹی فورسز نے - گرفتار شدہ دہشت گردوں سے حاصل کردہ معلومات استعمال کرتے ہوئے -- اورکزئی ایجنسی میں ایک سرنگ سے بھی اسلحے کی ایک بڑی کھیپ برآمد کی تھی۔

برسوں تک چھپی رہنے والی ایک پیچیدہ سرنگ کے اندر کیچڑ میں پچاس راکٹ لانچر، 50 تین فٹ لمبے میزائل، ہزاروں کی تعداد میں گولیاں، راکٹ سے پھینکے جانے والے گرنیڈ، خودکش جیکٹیں، بارودی مواد، دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) اور دیگر آلات چھپائے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، ایک اور کارروائی میں، فرنٹیئر کور نے 18 جنوری کو بلوچستان کے ضلع پشین میں ایک تلاشی کی کارروائی انجام دی تھی، اور کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لیا تھا۔

14 جنوری کو، پشاور پولیس نے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا اور شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی۔ اس کارروائی نے پورے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے مہیا کیے جانے والے ہتھیاروں کی غیرقانونی نقل و حمل کی کارروائی کو روک دیا تھا۔

5 جنوری کو، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن ردالفساد کے جزو کے طور پر سوئی، مسلم باغ، سامبازا، مختار، لورالائی اور مستونگ کے علاقوں سے ہتھیار، گولیاں اور بارودی مواد برآمد کیا تھا۔

دہشت گردوں کی محفوظ پناگاہوں کا خاتمہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کو قبضے میں لینے کی ان کارروائیوں نے دہشت گردوں کی چھپنے اور مستقبل کے استعمال کے لیے ہتھیار سمگل کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔

ایک دفائی تجزیہ کار اور فاٹا کے سابق سیکریٹری دفاع، پشاور کے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا، "گرفتار شدہ دہشت گردوں سے ملنے والی اطلاعات اسلحے کی ایسی کھیپوں اور ڈپو تلاش کرنے میں اہم ہیں، جو کہ دہشت گردوں نے قبائلی علاقوں میں [عسکری] کارروائی سے فرار ہوتے وقت زیرِ زمین چھپا دیئے تھے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ ایک حقیقت ہے کہ فاٹا کے زیادہ تر حصے اور پاک افغان سرحد کے ساتھ دونوں اطراف کے علاقے دہشت گردوں کی محفوظ پناگاہیں تھے اور یہ کہ انہوں نے ان علاقوں کو اپنے ہتھیار چھپانے کے لیے اس وقت استعمال کیا جب ان کا عسکری کارروائیون کے دوران صفایا کر دیا گیا تھا۔"

شاہ نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران "سوات اور قبائلی علاقوں جہاں سے [عسکری] کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کو نکال دیا گیا تھا، سے ہزاروں ٹن بارودی مواد اور ہتھیار قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔"

افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر اور فاٹا کے امور کے ماہر، پشاور کے مقامی رستم شاہ مہمند کے مطابق قبضے میں لیے گئے ہتھیار دو ذرائع سے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا، چند صورتوں میں، دہشت گرد انہیں اس وقت چھوڑ جاتے تھے جب وہ اپنے خلاف فوجی حملوں کے شروع ہونے پر بھاگے تھے، جبکہ افغان جنگجو اپنے دیگر ہتھیار پاکستانی فوج کے قبائلی علاقوں کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کرنے سے قبل فاٹا میں چھپاتے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اس بات کی کوئی تردید نہیں ہے کہ جنگجو رہنماء جو زیرِ حراست تھے اور جنہوں نے -- اسلحے کی کھیپوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو تسلیم کیا ہے ۔۔۔ ان غاروں تک سیکیورٹی فورسز کی [رہنمائی] کر رہے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 10

3 تبصرے 💬

💬

Muhammad Arif dayo | 02-11-2018

Mojoda halat Pakistan ki army ki kamyabyan


💬

Abdulrehman | 02-05-2018

Salam g ma ny police ma job karni hai hai agar muje 1 moqa mil jata tu ap ka bohat shukria matric hai


💬

Zahid Hussain | 02-02-2018

میں ہر صورت پاک آرمی میں شامل ہونا چاہتا ہوں میں کیسے پاک آرمی میں شامل ہوسکتا ہوں


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج