|

سلامتی

تصاویر میں: پاکستانی فوج نے کرم ایجنسی میں ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ پکڑ لی

حکام نے تین افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن پر پاراچنار میں دہشت گرد حملوں کا شبہ ہے۔

از محمد آحل

  • 
حکام اس اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے جو انہوں نے 10 اپریل کو کرم ایجنسی سے پکڑا تھا۔ [آئی ایس پی آر]

    حکام اس اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے جو انہوں نے 10 اپریل کو کرم ایجنسی سے پکڑا تھا۔ [آئی ایس پی آر]

  • 
فوج کی جانب سے 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں پکڑے گئے مختلف انواع کے ہتھیاروں کی نمائش کی گئی ہے۔ [آئی ایس پی آر]

    فوج کی جانب سے 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں پکڑے گئے مختلف انواع کے ہتھیاروں کی نمائش کی گئی ہے۔ [آئی ایس پی آر]

  • 
فوج 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں پکڑی گئی بہت سے کلاشنکوفیں پیش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

    فوج 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں پکڑی گئی بہت سے کلاشنکوفیں پیش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

  • 
فوج 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں دریافت ہونے والے مارٹر گولوں کی نمائش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

    فوج 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں دریافت ہونے والے مارٹر گولوں کی نمائش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

  • 
حکام 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں آپریشن ردالفساد کے جزو کے طور پر پکڑے گئے بارودی مواد کی نمائش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

    حکام 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں آپریشن ردالفساد کے جزو کے طور پر پکڑے گئے بارودی مواد کی نمائش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

  • 
حکام 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں پکڑے گئے مارٹر گولے پیش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

    حکام 10 اپریل کو کرم ایجنسی میں پکڑے گئے مارٹر گولے پیش کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

پاراچنار، کرم ایجنسی -- فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل (10 اپریل) کے روز ایک بیان کے مطابق، پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے کرم ایجنسی میں ایک بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو توڑتے ہوئے اور ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ پکڑتے ہوئے، تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔

حکام نے مشترکہ طور پرآپریشن ردالفساد کے جزو کے طور پر دفاعی کارروائیاں انجام دیں۔

گرفتار شدہ ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ پاراچنار، صوبائی دارالحکومت، میں خود کش بم دھماکوں سمیت، تین بڑے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے۔

آئی ایس پی آر نے کہا، وہ اس دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھ بھی منسلک تھے جو کرم ایجنسی کے اندر غیر قانونی ہتھیار، گولہ اور بارود اسمگل کرتا تھا۔

ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر، حکام نے ہتھیاروں، گولیوں، بموں، دیسی ساختہ بارودی بموں (آئی ای ڈیز)، سرنگوں اور دیگر بارودی مواد کی ایک بڑی مقدار دہشت گردوں کی ایک زیرِ زمین عمارت سے قبضے میں لے لی۔

اسلام آباد کے مقامی دفاعی تجزیہ کار، لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایسی کارروائیاں ایجنسی میں اور پورے ملک میں بھیہتھیاروں اور بارود کی رسد کو منقطعکر دیں گی، اس طرح دہشت گردی کا منبع خشک ہو جائے گا۔"

اسلام آباد کے مقامی ایک اور دفاعی تجزیہ کار، جنرل (ر) طلعت مسعود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ دہشت گرد اس بارودی مواد کو عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کرتے، اس لیے ایک بڑے سانحے سے بچت ہو گئی ہے۔

مسعود نے کہا، "یہ دہشت گردوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہپاکستانی فوج چوکس ہےاور یہ کہ دہشت گرد یہاں کارروائیاں نہیں کر سکتے، حتیٰ کہ چھپ کر بھی نہیں۔"

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار اور سابق دفاعی سیکریٹری برائے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا)، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق، کرم اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی سرحدیں تین افغان صوبوں -- پکتیا، پکتیکا اور خوست -- سے ملتی ہیں اور بارودی مواد اور اسلحے کی برآمدگی نہ صرف فاٹابلکہ سرحد کے پار بھیدہشت گردی کو شکست دینے میں مددگار ہو گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 16

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

5 تبصرے 💬

💬

fahad | 07-03-2018

عظیم کام


💬

Ali Afzaal | 06-29-2018

مجھے فوج میں ملازمت کی ضرورت ہے-


💬

میاں جان آفریدی | 05-01-2018

2002 سے پہلے تمام قبائیلی علاقہ جات میں اسلحہ کی فروخت ہو رہی اور ہر ایجنسی میں بڑی بڑی مارکیٹس تھے اور روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں کا کا روبار ہو رہا تھا اور ہزاروں لوگ بشر روزگار تھے اس ٹائم نہ کسی کا گلہ کھا ٹا جا رہا تھا اور کسی کو اغوا کیا جا تا تھا اور نہ کسی سے کروڑوں روپے لئے جاتے تھے نہ ائ ڈی پیز ہو رہا تھا اور نہ کوئ مولوی فتواح جاری کرتا اور نہ کوئ واجب القتل تھا ہر کوئ اپنی داڑی بھی اپنی مر زی سے چھوڑتا اور ہر اپنی داڑی منڈواتا اور یہ بھی کہ قبائیلی علاقہ جات میں اج یہ بڑے قلعے نہیں بنے لنڈیکوتل میں انگریزوں کے زمانے سے لیکر اب تک بھی وہ فوجی قلعے موجود ہیں اسی طرح ہر ایجنسی میں اس طرح کے سرکاری یعنی حکومت پاکستان کے فورس کے رٹ قائم تھی اور اس طرح رٹ قائم تھی کہ ہر کوئ بہت آسانی سے کنٹرول ہوتا تھا اور یہاں تک ایک آدمی کی ذمہ داری پورے قبیلے پر عائد ہوتی تھی اور کوئ بھی بھی بچ نہیں سکتا تھا اور دہشت گردی پہاڑوں سے منتقل نہیں ہوئے بلکہ جہاں پر پاکستان کا آئیں مکمل طور پر قائم ہے وہاں سے یہ دہشت گردی فاٹا کے پہلے میدانی علاقوں میں منتقل ہوئے اور بعد میں پہاڑوں تک منتقل کر دی گئ جہاں پر بعد میں قتل وغارت کا بازار بھی گرم ہو گیا اور علاقے کی عوام بھی ٹی ڈی پیز ہو گئے اور ان کے عزت سمیت مال وااملاک کو حد سے بھی زیادہ نقصان پہنچا اور یہ بھی نہیں ملک کی محافظوں نے بہت لوٹ مار بھی اور ہزاروں لوگوں کو بے گنا قید وبند کر دیا


💬

جبران علی خان | 04-28-2018

یہ مضمون میں پڑھنا چاہتا ہو۔


💬

Mohammad Ayub | 04-19-2018

دہشت گردی کے خلاف پاک فوج اور انٹیلی جنس کی بہترین کامیابی۔ قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔ ملک اور پاکستان کے معصوم پر امن عوام کی سلامتی میں کیے گئے ہر اقدام میں۔ ملک کے اندر اسلام کی ڈھال میں مختلف گروہوں کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود ہے۔ آپریشنز کی ضرورت ہے۔


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج