|

نوجوان

افغان اور پاکستانی نوجوان سفیر مرکوزیت، ہم آہنگی کے لیے کام کر رہے ہیں

پاکستانی اور افغان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی، دہشت گردی اور جنگ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں اور دونوں کو مل کر ان کے خلاف جنگ کرنی چاہیے۔

از سلیمان


پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان سفیروں نے 20 دسمبر کو کابل میں ملاقات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کو قائم  کیا جا سکے۔ ]سلیمان[

پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان سفیروں نے 20 دسمبر کو کابل میں ملاقات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کو قائم کیا جا سکے۔ ]سلیمان[

کابل -- افغان اور پاکستانی نوجوان سفیروں نے 20 دسمبر کو کابل میں ملاقات کی تاکہ مذاکرات کے لیے ایک صحت مندانہ ماحول پیدا کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔

درجنوں نوجوانوں نے ینگ ایمبسڈر ان افغانستان اینڈ پاکستان کی اولین کانفرنس میں شرکت کی جو کہ دونوں ممالک میں مستقل امن حاصل کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ اس تقریب کا انعقاد میڈیوٹیک نے کیا تھا جو کہ افغانستان میں امن اور جمہویت کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او ہے۔

میڈیوٹیک کے انتظامی ڈائریکٹر اور اس کانفرنس کے منتظم حمید اللہ زازی نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "ایک سال کی کوششوں اور افغان اور پاکستانی نوجوانوں کو اکٹھا کرنے سے، ہمارا ادارہ امن اور کابل اور اسلام آباد میں دوستی قائم کرنے کے لیے راہ ہموار کرنے کی طرف عملی اقدامات اٹھانے میں کامیاب رہا ہے"۔

زازی نے کہا کہ "افغانستان اور پاکستان میں بہت سی ثقافتی، سماجی اور تاریخی مماثلتیں ہیں۔ کانفرنس میں افغانستان اور پاکستان کے نوجوانوں کے نمائندوں نے نئے طریقہ کار کو اپنانے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد قائم کرنے کی کوششوں سے تضاد اور عدم اعتماد کا ماحول ختم کرنے کا فیصلہ کیا "۔

زازی نے مزید کہا کہ "چودہ افراد جو پاکستان کے صوبوں، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں، طلباء اور سول اداروں کی نمائںدگی کر رہے تھے کے ساتھ ساتھ سات افغان صوبوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں نوجوان افغانیوں نے دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو مضبوط بنانے کے ارادے سے کانفرنس میں شرکت کی"۔

دو سو سے زیادہ افغان نوجوانوں نے، جن میں کچھ سرکاری حکام، سول سوسائٹی کے حکام اور نوجوانوں کے حقوق کے سرگرم کارکن بھی شامل تھے، نے اس کانفرنس میں حصہ لیا۔

زازی نے کہا کہ "اس کانفرنس کا ایک اور مقصد، دونوں ممالک کے لوگوں میں جنگ کے لیے نفرت پیدا کرنا اور مشترکہ مفادات کو حاصل کرنے کے راستے تلاش کرنا تھا"۔

مسائل کا مل کر مقابلہ کرنا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان، عامر خان، جنہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی، سلام ٹائمز کو بتایا کہ افغانستان اور پاکستان کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ایسے مسائل پر قابو پانے کے لیے، دونوں ممالک کے نوجوانوں کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے"۔

خان نے کہا کہ "پاکستان اور افغانستان مسلمان اور بھائی بھائی ہیں اور ان کی بہت سی مشترکہ ثقافتی سماجی خصوصیات ہیں۔ تنازعہ کی بجائے انہیں ہم آہنگی اور مرکوزیت سے رہنا چاہیے"۔

ایک اور پاکستانی نوجوان جاوید احمد نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "دہشت گردی، انتہاپسندی، بے روزگاری اور غربت پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے ہی مشترکہ چیلنج ہیں۔ دونوں ممالک کی مرکوزیت اور یک جہتی ہی اس چیلنج پر قابو پانے کا واحد راستہ ہے"۔

احمد نے مزید کہا کہ "تنازعات میں سینکڑوں پاکستانی اور افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب یہ دونوں ممالک کے لیے درست وقت ہے کہ وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے جنگ کرنے میں تعاون کریں اور اس کے علاوہ امن اور استحکام کو قائم کریں"۔

احمد نے کہا کہ "گھر واپس آنے کے بعد، ہم پاکستانی حکام کو بتائیں گے کہ جنگ دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہے اور صرف اچھے سیاسی، اقتصادی، سماجی و ثقافتی تعلقات ہی دونوں ممالک کو فتح اور استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں"۔

اچھے تعلقات کی تلاش

شرکت کرنے والی نوجوان افغان خاتون سمیرا خیرخاہ نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "کانفرنس کا ایک مقصد نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا کہ وہ پرامن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور مرکوزیت کو قبول کریں اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ "مستقبل میں، دونوں ممالک کے نوجوان دونوں ممالک کے سیاست دانوں اور راہنماؤں کی حوصلہ افزائی میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے کہ وہ اچھے تعلقات کو اپنائیں"۔

سمیرا نے کہا کہ "تقریبا ایک دہائی میں، ہو سکتا ہے کہ نوجوان اپنے اپنے ممالک میں قیادانہ مقام حاصل کر لیں۔ اس لیے، ایسی کانفرنسیں انہیں ذہنی طور پر اچھے مستقبل اور مستقبل کے اسٹریٹجک تعلقات کے لیے تیار کر سکتی ہیں"۔

ایک اور نوجوان افغانی محمد علی نے افغان ٹائمز کو بتایا کہ "ایک ہی زبان اور ثقافت کو سانجھا کرنے کے علاوہ، پاکستانی اور افغان شہری ایک جیسے ہی درد کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسے حلقوں کو جو ہمارے ملکوں کے درمیان خوف اور دشمنی کو بونا چاہتے ہیں، ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دینی چاہیے"۔

علی نے کہا کہ "سول سوسائٹی کی تنظیمیں، تعلیم یافتہ نوجوان اور دوسرے جمہوری ادارے دونوں ممالک میں موجود ہیں۔ آج کی کانفرنس کے شرکاء کی طرح وہ دونوں ممالک اور حکومتوں کو قریب لانے اور برادارانہ دوستی اور مل جل کر رہنے کو حاصل کرنے کے پرامن طریقوں کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

افغانستان کی وزارتِ اطلاعات و ثقافت کےنائب وزیرِ اشاعت سید آق حسین فضل سانچاکی نے کانفرنس کے موقع پر سلام ٹائمز کو بتایا کہ "دونوں ممالک کو اپنی موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے اپنے نوجوانوں کی کوششوں اور تعاون کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "افغانستان اور پاکستان کے مفادات دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات اور یک جہتی پر منحصر ہیں اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے مفادات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا چاہیے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 4

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Jalil ahmad | 03-08-2018

جناب میں بی ایس مطالعہ پاکستان کا طالبِ علم ہوں۔ میری تحقیق کا عنوان بعد از 9/11 پاک افغان تعلقات ہیں۔ کیا آپ اس مضمون میں میری مدد کر سکتے ہیں۔


انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج