|

سفارتکاری

پاکستان کے آرمی چیف اور افغان صدر نے دو طرفہ تعاون کو فروغ دیا

پاکستان کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات کی تاکہ علاقائی سیکورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کے بارے میں بات چیت کی جا سکے۔

سلام ٹائمز


افغانستان کے صدر اشرف غنی (دائیں) اور پاکستان کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، یکم اکتوبر کو کابل میں ملاقات کے دوران علاقائی سیکورٹی، دو طرفہ تعلقات، امن اور استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ ]افغانستان کا صدراتی محل[

افغانستان کے صدر اشرف غنی (دائیں) اور پاکستان کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، یکم اکتوبر کو کابل میں ملاقات کے دوران علاقائی سیکورٹی، دو طرفہ تعلقات، امن اور استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ ]افغانستان کا صدراتی محل[

کابل -- پاکستان کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اتوار (یکم اکتوبر) کو کابل میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ تجزیہ نگار اس ملاقات کو تعمیری دو طرفہ تعاون کی طرف ایک قدم کے طور پر سراہا رہے ہیں۔

اس ملاقات کے بعد، صدراتی دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، دونوں اطراف نے دوسرے اہم معاملات کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی، دو طرفہ تعلقات، امن و استحکام، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کاروبار اور ٹرانزٹ کے تعلقات کے بارے میں بات چیت کی۔

غنی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ باہمی اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرنے جس کا دونوں ممالک کو سامنا ہے اور افغانستان کی زیرِ قیادت امن کے عمل کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ یہ بات پاکستان کے وفد نے کہی جس میں انٹر سروسز انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹینٹ جنرل نوید مختار بھی شامل ہیں۔

غنی، جن کے ساتھ دوسروں کے علاوہ، ان کے قومی سیکورٹی کے مشیر اور وزارتِ دفاع کے حکام شام تھے، نے ایسا نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا جو دونوں اطراف سے کیے جانے والے وعدوں کی نگرانی کرے۔

پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال، جنہوں نے اس ملاقات میں شرکت کی، نے ٹوئٹ کی کہ ملاقات "مخلصانہ، مثبت، با اخلاق، تعمیری اور حوصلہ افزاء رہی"۔

دو طرفہ تعلقات میں ایک نیا باب

کابل سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ نگار لطیف نظری نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "موجودہ صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے، پاکستان کے آرمی چیف کا کابل کا دورہ بہت موثر رہا اور اس کے اچھے نتائج سامنے آ سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں اور اس سے سرحد کی دونوں اطراف موجود چیلنجوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گردی عالمی سیکورٹی اور خصوصی طور پر پاکستان اور افغانستان کی سیکورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اس لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے"۔

افغان پارلیمنٹ کے ایک رکن فرہاد صدیقی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون سے سیکورٹی بہتر ہو گی اور علاقے میں استحکام پیدا ہو گا۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت طویل سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اچھے تعلقات سے نہ صرف سیکورٹی میں مدد ملے گی بلکہ علاقے میں صنعت و تجارت بھی بہتر ہو گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان وسطی ایشیاء کے ممالک کے ساتھ اپنے کاروبار کے لیے افغانستان کے اسٹریٹجک مقام سے فائدہ اٹھا سکتا ہے"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا کہ باجوہ کا کابل کا دورہ، علاقے سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "پاکستان اور افغانستان دونوں کو ہی انتہاپسندی سے بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے تعاون کے بغیر ہم تشدد کا خاتمہ کرنے اور سرحد کی دونوں اطراف پر موجود آبادی کو درپیش مسائل کو ختم کرنے میں ممکنہ طور پر کامیاب نہیں ہو سکیں گے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ بہت اہم ہے کہ دونوں اطراف ان لوگوں کے خلاف متحد ہو جائیں جو امن کو متاثر کرنے کے ذمہ دار ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملاقات سے ان لوگوں کی زندگیاں بہتر ہوں گی جن کی زندگیوں کو عسکریت پسندوں نے گزشتہ دو دیہائیوں سے یرغمال بنایا ہوا ہے۔

شاہ نے کہا کہ "دونوں ممالک کو انتہاپسندی کے مسئلے کا سامنا ہے اور اس مسئلے پر زیادہ توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے"۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے امن

پشاور یونیورسٹی میں پاکستان اسٹڈیز کے لیکچرار شاہ جہان نے کہا کہ آرمی چیف کا کابل کا دورہ، عسکریت پسندی سے متاثر ہمسایہ ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "کوئی اور ملک پاکستان اور افغانستان میں امن نہیں لا سکتا اور ایسا کرنا ان دونوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ اب، دونوں ممالک میں حکمرانوں کو احساس ہو گیا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے سے بات چیت نہ کرنے کی بھاری قیمت چکائی ہے اور اس سے عسکریت پسندوں کو ہی فائدہ حاصل ہوا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ، سرحدی انتظام کو مضبوط بنانے اور عسکریت پسندوں کو رسائی دینے سے انکار کرنے کے لیے نہایت اہم بھی ہے۔

خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات شاہ فرمان نے کہا کہ امن، پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کے بہترین مفاد میں ہے اور دونوں حکومتوں کو تشدد ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو جاری رکھنا چاہیے۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "پاکستان اور افغانستان کے درمیان اتحاد، حتمی طور پر دہشت گردی کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ ہمیں تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے پرامن ماحول کی ضرورت ہے"۔

] کابل سے سلیمان اور پشاور سے اشفاق یوسف زئی نے اس خبر کی تیاری میں حصہ لیا۔[

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج