|

سفارتکاری

پاکستان نے افغانستان کی طرف سے امن مذاکرات کی پیشکش کو خوش آمدید کہا ہے

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنے عید الاضحی کے پیغام میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کرنے کی پیش کش کی تھی۔

اشفاق یوسف زئی


افغانستان کے صدر اشرف غنی یکم ستمبر کو کابل میں عید الاضحی کے پہلے دن قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ افغان صدارتی محل[

افغانستان کے صدر اشرف غنی یکم ستمبر کو کابل میں عید الاضحی کے پہلے دن قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ افغان صدارتی محل[

پشاور -- پاکستان کے سیاست دانوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات منعقد کرنے کے مطالبے کو خوش آمدید کہا ہے اور کہا ہے کہ یہ عسکریت پسندوں کے خلاف متحد ہونے اور سرحد کے دونوں طرف رہنے والے افراد کے لیے پائیدار امن قائم کرنے کا سنہری موقع ہے۔

غنی نے یکم ستمبر کو عید الاضحی کے اپنے پیغام میں کہا کہ "ہم جامع سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان کے ساتھ امن، افغانستان کے قومی ایجنڈا میں شامل ہے، ایک باعزت امن جو سیاسی عمل کا نتیجہ ہو"۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ محمد اشرف نے ایک دن بعد کہا کہ اسلام آباد علاقے میں امن اور استحکام کے لیے کابل کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

دفترِ خارجہ کی طرف سے دیے جانے والے بیان کے مطابق، آصف نے کہا کہ "پاکستان کا موقف افغانستان کے تناظر میں بہت واضح ہے۔ ہم افغانستان میں امن اور استحکام دیکھنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات میں پاکستان اپنا کردار ادا کرنا جاری رکھے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے پاس افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے لیے پہلے سے ہی دو طرفہ، سہ طرفہ، چہار طرف اور کثیر طرفہ طریقہ کار موجود ہے۔ ان طریقہ ہائے کار کو ان کی مکمل صلاحیت تک استعمال کیا جانا چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ تازہ ترین بات چیت میں "دونوں اطراف نے تعاون کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے"۔

دو طرفہ تعلقات میں اضافہ کرنا

پاکستان کے سیاسی راہنماوُں نے مذاکرات کی سمت اٹھائے جانے والے دو طرفہ اقدام کو خوش آمدید کہا۔

قومی اسمبلی کی رکن اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کی اسمبلی میں چیف وہیپ، شیریں مہرالنساء مزاری نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان اور افغانستان کے درمیان جامع مذاکرات ہی ان کے پریشان کن تعلقات کو بہتر بنانے کا واحد راستہ ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بہت زیادہ مصائب اٹھائے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ہمسائے مل کر امن کو قائم کریں۔ عسکریت پسندی کے شکار ممالک میں تعاون سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا"۔

مزاری نے کہا کہ "دہشت گردی کے خاتمے کے لیے، ہم طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پر زور دے رہے ہیں، جو ایک چوتھائی صدی سے زیادہ کے عرصے سے پھیلا ہوا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم امن مذاکرات کے لیے غنی کی پیش کش کو خوش آمدید کہتے ہیں اور حکومت کو مذاکرات شروع کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے"۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان نے کہا کہ غنی کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مزاکرات شروع کرنے کی پیش کش ایک مثبت قدم ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان موجود کشیدگی میں کمی آئے گی"۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات سے دونوں ممالک میں موجود عدم اعتماد ختم ہو سکتا ہے۔

طلوع نیوز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ "پاکستان کو اس سلسلے میں ابتدائی قدم اٹھانا چاہیے۔ کابل اور اسلام آباد کو تعلقا بہتر بنانے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کرنے چاہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشتونوں میں اتحاد بہت اہم ہے اور غیر ملکی عناصر کو علاقے میں دخل اندازی بند کر دینی چاہیے۔

خان نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں، طالبان کے عسکریت پسندوں نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان موجود کشیدہ تعلقات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات شروع کرنے اور عسکریت پسندوں کا راستہ روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں شروع کرنے میں کسی قسم کی دیر نہیں کی جانی چاہے۔

قومی وطن پارٹی کے چیرمین آفتاب احمد خان شیرپاوُ نے بھی افغانستان کی طرف سے پاکستان کی طرف امن کا ہاتھ بڑھانے کو خوش آمدید کہا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں دوستانہ تعلقات علاقے میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا

پشاور یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ایک پروفیسر عبدل رحمان کے مطابق، دونوں اطراف پر موجود پناہ گاہوں نے علاقے میں عسکریت پسندی کو پنپنے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان اور افغانستان کا موثر اتحاد بارآور ہو سکتا ہے۔ جب دونوں ملک عملی اقدامات کرتے ہیں تو وہ بہت سے عسکریت پسند گروہوں کو شکست دے سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن کی دونوں اطراف پر رہنے والے لوگ دہشت گردی سے تنگ آ گئے ہیں اور وہ اس بحران کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس سے انہیں گزشتہ کچھ دیہائیوں سے قیدی بنا رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "تشدد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کوئی مستقل حل ہونا چاہیے"۔

ایک افغان مہاجر مرزا خان جو بورڈ بازار پشاور میں پھل فروخت کرتے ہیں، نے کہا کہ وہ غنی کے بیان سے بہت جذباتی ہو گئے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دونوں حکومتوں کو مل کر بیٹھنا چاہیے اور عوام کو جو مسائل درپیش ہیں انہیں حل کرنا چاہیے۔ یہ ایک غیر معمولی صورتِ حال ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشمنی سے عسکریت پسندوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو ختم کرنا چاہیے اور عسکریت پسندی کے شکار ممالک کی ترقی کے لیے راہ ہموار کرنی چاہیے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم علاقائی تجارت کے واسطے مکمل امن دیکھنا چاہتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج