|

سلامتی

علاقائی سلامتی پر بات چیت کے لئے باجوہ نے کابل میں فوجی سربراہان سے ملاقات کی

پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتایا، علاقائی امن اور استحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے۔

سلام ٹائمز


منگل (13 فروری) کو کابل میں ایک سیکورٹی کانفرنس میں نیٹو ریزولیوٹ سپورٹ مشن کمانڈر جنرل جان نکلسن نے علاقائی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بہت سے فوجی حکام کے ہمراہ پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سنا۔ [آئی ایس پی آر]

منگل (13 فروری) کو کابل میں ایک سیکورٹی کانفرنس میں نیٹو ریزولیوٹ سپورٹ مشن کمانڈر جنرل جان نکلسن نے علاقائی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بہت سے فوجی حکام کے ہمراہ پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سنا۔ [آئی ایس پی آر]

راولپنڈی – افغانستان، پاکستان، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کئی وسطی ایشیائی ممالک کے اعلیٰ فوجی سربراہان نے سیکورٹی معاملات پر بات چیت کے لئے منگل (13 فروری) کو کابل میں ملاقات کی۔

حاضرین میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹیل، نیٹو ریزولیوٹ سپورٹ مشن کمانڈر جنرل جان نکلسن، پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور افغان آرمی چیف لیٖفٹننٹ جنرل محمد شریف یافت علی موجود تھے۔

کئی وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے فوجی سربراہان کے علاوہ نیٹو کے حکام کی ایک بڑی تعداد بھی ملاقات میں موجود تھی۔

طلوع نیوز نے خبر دی ہے کہ کانفرنس کا نقطہ ارتکاز بغاوت سے لڑنے اور ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا تھا.

پاکستان کے انٹر سروس پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق باجوہ نے کانفرنس کو بتایا " علاقائی امن اور استحکام کا راستہ افغانستان سے گزرتا ہے".

آئی ایس پی آر کے مطابق، باجوہ نے بتایا، "تمام چیلنجوں کا جواب ایک مشترکہ حکمت عملی اور تسلسل ہے، جس کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے."

افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کو بتایا، "مجھے یقین ہے کہ آخرکار پاکستان بین الاقوامی دباؤ کے آگے جھکے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہو گا۔"

منگل کا اجلاس افغانستان بھر میں طالبان اور"دولت اسلامیہ" (داعش) کےعسکریت پسندوں کے حملوں کے باوجود وقوع پذیر ہوا۔

تعاون 'امن کی ضمانت دے سکتا ہے'

پشاور میں مقیم سیکورٹی تجزیہ کار برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے بتایا، پاکستان اور افغانستان علاقے میں ناختم ہوتی دکھائی دینے والی دہشت گرد کارروائیوں کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا، "سرحد کے دونوں اطراف عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لئے پاکستان، افغانستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان اتھاد کی فوری ضرورت ہے۔"

انہوں نے بتایا، "افغانستان اور پاکستان کے درمیان ٹھوس تعاون مکمل امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔"

شاہ نے بتایا، کابل میں منگل کا اجلاس اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور عسکریت پسندوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے کے طریقوں اور ذرائع کو تلاش کرنا چاہئے.

انہوں نے بتایا، وہ عسکریت پسندی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب کافی وقت ہوگیا ہے کہ انھیں سمجھ لینا چاہیئے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں سرحد کے دونوں اطراف تباہی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا، "دونوں ملکوں کے عوام امن چاہتے ہیں اور دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں۔"

[اس رپورٹ کے لئے پشاور سے اشفاق یوسف زئی نے تعاون کیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

4 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
M.Sameer Rafeeq | 04-03-2018

میں پی ایم اے میں شامل ہونا چاہتا ہوں

جواب
M Hanif | 03-11-2018

مجھے پاکستان پسند ہے

جواب
agha rhmat Ahsas | 03-01-2018

میں پاکستان ہوں

جواب
Afia zia | 02-26-2018

میں سب سے زیادہ پاکستان ایئر فورس کو پسند کرتا ہوں

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج