|

سفارتکاری

عباسی کا کابل کا دورہ پاکستان-افغانستان تعلقات میں نئے قدم کا اشارہ ہے

سرحد کی دونوں اطراف کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے جنگ اور علاقے میں پائیدار امن کو قائم کرنے کے لیے ایک متحدہ محاذ اور مضبوط تر تعلقات ضروری ہیں۔

کابل سے سلیمان اور پشاور سے اشفاق یوسف زئی


پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے 6 اپریل کو کابل میں صدارتی محل میں ملاقات کی۔ ]افغان صدارتی محل[

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے 6 اپریل کو کابل میں صدارتی محل میں ملاقات کی۔ ]افغان صدارتی محل[

کابل -- پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے افغانستان کے تازہ ترین دورے کو، ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے اور ان کے تعاون کو مضبوط بنانے کی طرف ایک قدم کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

عباسی نے جمعہ (6 اپریل) کو افغانستان کے صدر اشرف غنی سے کابل میں صدارتی محل میں ملاقات کی۔

انہوں نے بہت سے معاملات پر بات چیت کی جس میں علاقائی تعاون، دہشت گردی کے خلاف جنگ، امن اور استحکام کے لیے تعاون اور پاکستان سے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی شامل ہیں۔ یہ بات افغانستان کے صدارتی ترجمان شاہ حسین مرتضوی کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں بتائی گئی۔

انہوں نے غنی کی طرف سے 28 فروری کو بے نقاب کیے جانے والے، طالبان کے ساتھ امن عمل کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "عباسی اور ان کے ساتھ جانے والے وفد نے افغان حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے امن کے قدم کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ وہ اس سعی میں افغان حکومت کی مدد کریں گے"۔

مرتضوی نے کہا کہ "افغانستان کا جغرافیائی مقام پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور پاکستان کو اس انتہائی اہم معاملے کی سمجھ ہے۔ مثال کے طور پر، افغانستان وسطی ایشیائی ممالک سے بجلی کو درآمد کرنے میں پاکستان کی مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان افغانستان کے ذریعے اپنی مصنوعات کو آرام سے وسطی ایشیائی ممالک تک برآمد کر سکتا ہے"۔

انہوں نے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان- انڈیا قدرتی گیس پائپ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک اور اچھی مثال تاپی کا منصوبہ ہے"۔

پچھلی دفعہ جب عباسی افغانستان میں تھے توایران نے طالبان عسکریت پسندوں کے ایک گروہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ہرات صوبہ میں تاپی پائپ لائن کی تعمیر کی افتتاحی تقریب پر حملہ کریں۔ عسکریت پسندوں نے توانائی کے علاقائی منصوبے پر حملہ کرنے کے منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے مقامی حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

انتہاپسندی، دہشت گردی سے مشترکہ جنگ

کابل سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار نصیر احمد ترکی نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "پاکستان کے وزیراعظم کا کابل کا دورہ افغان عوام اور حکومت کے لیے غیر معمولی بین الاقوامی حمایت کے دوران ہوا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خصوصی طور پر "افغان حکومت کی سالمیت کو تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کے خطرے کو بھی"۔

انہوں نے کہا کہ "اس لیے اولین اور اہم ترین یہ ہے کہ یہ دورہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کی صورت میں نکلے گا۔ علاوہ ازیں اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون مضبوط ہو گا"۔

ترکی نے کہا کہ "گزشتہ سال کے دوران، مذاکرات اور سفارت کاری افغانستان کے مفاد میں رہے ہیں۔ ایسے مذاکرات اور سفارت کاری کی نمایاں مثالوں میں کابل پراسیس کانفرنس اور تاشقند امن کانفرنس شامل ہیں جن میں شریک ہونے والے ممالک نے افغان حکومت کے امن کے اقدامات کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا"۔

ولسی جرگہ (افغانستان کی پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں) میں کوچی اقلیت کی نمائںدہ ہیلی ارشاد نے کہا کہ "پاکستان دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ اور علاقے میں امن اور استحکام لانے کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے خصوصی طور پر افغانستان میں اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پاکستانی حکام توجہ سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "اگر ایسے مذاکرات خیرسگالی سے ہوں تو کچھ عرصے میں ہی ہم تشدد میں کمی کا مشاہدہ کریں گے جب کہ اس کے طویل المعیاد اثرات افغانستان میں دہشت گردانہ گروہوں کی ناکامی کی صورت میں ہو گا"۔

ارشاد نے کہا کہ "افغانستان-پاکستان تعلقات کے درمیان اچھے تعلقات کی موجودگی اور تعاون دہشت گرد گروہوں کے درمیان جنگ کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم مہیا کرے گا اور دونوں ممالک میں امن اور مصالحت کو لائے گا"۔

ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد قائم کرنا

پاکستان کے سیاست دان اور تجزیہ نگار بھی امید رکھتے ہیں کہ عباسی کا دورہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی کی علامت ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما میاں افتخار حسین نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "یہ دورہ کابل اور اسلام آباد میں اس وقت موجود عدم اعتماد کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون دہشت گردوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور افغانستان کے درمیان قریبی تعاون کے بغیر علاقے سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ناممکن ہے۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے کاموں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان کے درمیان اتحاد کا ایک بندھن قائم کرنا ہی ایک ٹھوس حل ہے"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکورٹی کے تجزیہ نگار خادم حسین نے کہا کہ عباسی کا دورہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنائے گا۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے عسکریت پسند ہی رہے ہیں اور دونوں کو دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے تعلقات کو مضبوط بنانا ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور افغانستان کے راہنماؤں کو ایسا طریقہ کار بنانا چاہیے تاکہ سرحد کی دونوں اطراف امن کو متاثر کرنے والوں کے خلاف بھرپور اقدامات کیے جا سکیں"۔

پاکستان، افغانستان اکٹھے مضبوط

عبدل ولی خان یونیورسٹی مردان میں سیاسی سائنس دان رسول شاہ نے کہا کہ عباسی کا دورہ عدم اعتماد کو کم کرنے اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مرمت کرنے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کا واحد راستہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے ساتھ سیاسی، معاشی، سیکورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے سابقہ سیکورٹی سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں کامیابی دہشت گرد گروہوں کو کمزور کر دے گی"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت امن کی کوششں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جس کے لیے دونوں فریقین کی طرف سے طویل سرحد پر تعاون کے طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 4

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج