2017-10-12 | سلامتی

پاکستانی فوج نے افغان طالبان کی طرف سے اغوا کیا جانے والا شمالی امریکہ کا خاندان رہا کروا لیا

پاکستان فارورڈ

کیٹلن کولمین اور جوشوا بوائل کو طالبان نے افغانستان میں بیک پیکنگ کرتے ہوئے 2012 میں اغوا کر لیا تھا اور وہ گزشتہ دسمبر میں ایک یرغمالی ویڈیو میں نظر آئے تھے جس میں انہوں نے اپنی رہائی کے لیے اپیل کی تھی۔


گزشتہ سال عسکریت پسندوں کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو سے لی گئی تصویر جس میں کیٹلن کولمین، جوشوا بوائل اور ان کے بیٹے کو دکھایا گیا ہے۔ ]ایس آئی ٹی ای انٹیلیجنس گروپ/ اے ایف پی[
گزشتہ سال عسکریت پسندوں کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو سے لی گئی تصویر جس میں کیٹلن کولمین، جوشوا بوائل اور ان کے بیٹے کو دکھایا گیا ہے۔ ]ایس آئی ٹی ای انٹیلیجنس گروپ/ اے ایف پی[
گزشتہ سال عسکریت پسندوں کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو سے لی گئی تصویر جس میں کیٹلن کولمین، جوشوا بوائل اور ان کے بیٹے کو دکھایا گیا ہے۔ ]ایس آئی ٹی ای انٹیلیجنس گروپ/ اے ایف پی[

کیٹلن کولمین اور جوشوا بوائل کو طالبان نے افغانستان میں بیک پیکنگ کرتے ہوئے 2012 میں اغوا کر لیا تھا اور وہ گزشتہ دسمبر میں ایک یرغمالی ویڈیو میں نظر آئے تھے جس میں انہوں نے اپنی رہائی کے لیے اپیل کی تھی۔

راولپنڈی -- انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے جمعرات (12 اکتوبر) کو کہا کہ پاکستانی فوج نے یرغمال بنائے جانے والے ایک خاندان کو، جسے تقریبا پانچ سال سے قید رکھا گیا تھا، کامیابی سے رہا کروا لیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ "رہا کروایا جانے والا خاندان، جس میں کینیڈا کا ایک شہری، اس کی امریکی شہری بیوی اور ان کے تین بچے شامل ہیں، کو افغانستان میں دہشت گردوں نے 2012 میں اغوا کر لیا تھا اور انہیں اس وقت پاکستان منتقل کر دیا گیا تھا جب پاکستانی فوجیوں نے انہیں بہ حفاظت بازیاب کروا لیا"۔

کیٹلن کولمین اور جوشوا بوائل کو طالبان نے افغانستان میں بیک پیکنگ کرتے ہوئے اغوا کیا تھا اور وہ گزشتہ دسمبر میں ایک یرغمالی ویڈیو میں نظر آئے تھے جس میں انہوں نے اپنی رہائی کے لیے درخواست کی تھی۔ انہیں اپنے دو کم عمر بچوں کو اٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا، جو ان کی اسیری کے دوران پیدا ہوئے تھے۔

حقانی نیٹ ورک پر افغانستان کے دارالحکومت میں کئی ہائی پروفائل کے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ سازی کرنے کا الزام ہے اور وہ مغربی یرغمالیوں کو اغوا کرنے اور انہیں سرحد پار پاکستان منتقل کرنے کے لیے مشہور ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ کرم ایجنسی میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیا جانے والا آپریشن، بدھ (11 اکتوبر) کو ہوا جس کے لیے امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے بھی معلومات سانجھی کی تھیں۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ بازیاب کیے جانے والے خاندان کو جلد ملک سے روانہ کر دیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ کامیابی بروقت انٹیلیجنس کو سانجھا کرنے کی اہمیت اور پاکستان کی طرف سے ایک مشترکہ دشمن کے ساتھ جنگ کو جاری رکھنے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔

[لاہور سے عبدل ناصر خان نے اس خبر کی تیاری میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں افواج چھوڑنے کے نئے امریکی عہد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

نتائج