|

دہشتگردی

رہائی پانے والے کینیڈین یرغمالی کا کہنا ہے کہ حقّانی نیٹ ورک نے اس کی بچی کو قتل اور اس کی بیوی سے زیادتی کی

طالبان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اے ایف پی


رہائی پانے والے یرغمالی جوشوا بوئل (بائیں) نے 13 اکتوبر کو ٹورانٹو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں اس کے اہلِ خانہ کی اسیری کے دوران حقّانی نیٹ ورک کے کارندوں نے اس کی اہلیہ کے ساتھ زیادتی کی اور اس کی نومولود بچی کو قتل کر دیا۔ طالبان نے ان الزامات کی تردیدی کی۔ [سی بی سی نیوز سے سکرین شاٹ]

رہائی پانے والے یرغمالی جوشوا بوئل (بائیں) نے 13 اکتوبر کو ٹورانٹو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں اس کے اہلِ خانہ کی اسیری کے دوران حقّانی نیٹ ورک کے کارندوں نے اس کی اہلیہ کے ساتھ زیادتی کی اور اس کی نومولود بچی کو قتل کر دیا۔ طالبان نے ان الزامات کی تردیدی کی۔ [سی بی سی نیوز سے سکرین شاٹ]

ٹورانٹو – کینیڈا کے رہائی پانے والے یرغمال جوشوا بوئل نے جمعہ (13 اکتوبر) کو اپنے اہلِ خانہ کی ٹورانٹو آمد پر ایک جگرسوز بیان میں اپنے اغوا کنندگان پر اپنی امریکی اہلیہ کیٹلن کولمین کے ساتھ زیادتی اور ان کی نومولود بیٹی کے قتل کا الزام لگایا۔

2012 میں افغانستان کے ایک دورافتادہ علاقہ میں، پاک-افغان سرحد کے دونوں جانب کارگر طالبان سے ملحقہ حقانی نیٹورک نے بوئل اور کولمین کو اغوا کیا۔ حقانی نیٹ ورک کی قیادت سراج الدین حقّانی کر رہا ہے جو افغان طالبان کا نائب امیر بھی ہے۔

پاکستانی افواج نے 11 اکتوبر کو امریکی انٹیلی جنس پر کاروائی کرتے ہوئے کرم ایجنسی، پاکستان میں اس جوڑے اور دورانِ اسیری پیدا ہونے والے ان کے تین بچوں کو رہا کرا لیا۔ ان کے اغوا کنندگان نے کسی وقت اس خاندان کو افغانستان سے پاکستان منتقل کیا تھا۔

بظاہر برہم دکھائی دینے والے بوئل نے صحافیوں کو بتایا کہ حقانی نیٹ ورک نے ان کی جانب سے کی جانے والی ایک پیشکش کو قبول نہ کرنے کی پاداش میں ان کے بچے – ایک چوتھا بچہ، جس کی موجودگی قبل ازاں معلوم نہ تھی— کو قتل کرنے کے احکام دیے۔ انہوں نے پیشکش کی تصریح نہیں کی۔

انہوں نے کہا، ”افغانستان کے طالبان کے زیرِ انتظام ایک علاقہ میں عام دیہاتیوں کی مدد کرنے میں مشغول ایک مسافراور اس کی پوری طرح سے حاملہ اہلیہ کو اغوا کرنے کی نامعقولیت اوربرائی پر میری نومولود بچی کے قتل کا حکم دیے جانے کی نامعقولیت اور برائی ہی حاوی ہو سکتی ہے۔“

بائلے نے یہ بھی کہا کہ اس کی اہلیہ کے ساتھ محافظ نے بطورِ خود نہیں بلکہ اپنے کپتان اور ایک حقانی کمانڈر، جس کی انہوں نے ابو ہجر کے طور پر شناخت بتائی، کی معاونت سے زیادتی کی۔

بائل نے کہا کہ دونوں سانحات 2014 میں پیش آئے۔

انہوں نے ”مجرمانہ شرپسندوں“ کے خلاف انصاف پر عمل کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2016 میں ایک تفتیش میں افغان حکومت نے جرم کے ہونے کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا، ”جن مجرموں نے ہمیں اسیر رکھا۔۔۔ وہ اچھے مسلمان نہیں تھے۔ وہ برے مسلمان بھی نہ تھے۔ وہ بلاشبہہ مجرم تھے، بلا شبہہ بے دین تھے؛ انہیں وہ کمانڈر ہدایات دے رہے تھے جو اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا نہ تھے۔“

طالبان نے بائل کے الزامات کی تردید کی۔

اغواکاروں کی تلاش جاری ہے

دریں اثنا، اتوار (15 اکتوبر) کے بم دھماکے میں چار پاکستانی فوجی جاں بحق ہوگئے جو اغوا میں ملوث عسکریت پسندوں کی تلاش کر رہے تھے۔

واقعہ افغانستان کی سرحد سے ملحق وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کرم ایجنسی میں پیش آیا۔

فوج نے ایک بیان میں بتایا "دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ پھٹنے سے سیکورٹی فورسز کےایک کیپٹن سمیت چار جوانوں نے شہادت پائی ہے جبکہ دیگر تین کو زخم آئے ہیں۔"

دیگر تفصیلات کے بغیر مزید بتایا گیا ہے کہ "فوجی رہا کرائے گئے غیرملکیوں کے ہینڈلرز کو تلاش کرنے والی پارٹی کا حصہ تھے۔"

حکام نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ تلاش کرنے والی پارٹی کا تعلق فرنٹیئر کور سے تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Saifullah | 10-21-2017

میں اس الزام سے متفق نہیں ہوں کیوں کہ مریم (ہیڈلی) بھی طالبان کی اسیر تھی لیکن ایک مختلف کہانی سناتی ہے۔ ٹی ٹی پی ایسا کر سکتی ہے لیکن حقانی نیٹ ورک ایسی شرمناک حرکت نہیں کر سکتا۔ خدا بہتر جانتا ہے


انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج