| سلامتی

پاکستانیوں کی طرف سے عالمی کرکٹ کی وطن واپسی کا خیرمقدم

عبدل ناصر خان


چار ستمبر کو لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دفتر کے سامنے ایک تماشائی کرکٹ کے کھلاڑیوں کی تصویر کو سراہا رہا ہے۔ ]عبدل ناصر خان[

چار ستمبر کو لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دفتر کے سامنے ایک تماشائی کرکٹ کے کھلاڑیوں کی تصویر کو سراہا رہا ہے۔ ]عبدل ناصر خان[

لاہور -- بین الاقوامی کھیلوں کے اچھوت کے طور پر آٹھ سال گزارنے کے بعد، کرکٹ کے پاکستانی شائقین غیر ملکی کھلاڑیوں اور ٹیموں کو دوبارہ سے اپنے ملک میں کھیلتا دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔

لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر مارچ، 2009 میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد، غیر ملکی ٹیموں نے تقریبا مکمل طور پر پاکستان کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس میں سات پاکستانی ہلاک اور سری لنکا کے سات شہری زخمی ہوئے تھے۔

ان سالوں کے دوران، تمام کھلیوں کی نمائندگی کرنے والی پاکستانی ٹیموں کو عمومی طور پر بیرونِ ملک کھیلنا پڑا یا بالکل بھی کھیلنے کا موقع نہ ملا۔ دو نایاب استثناء کینیا اور زمبابوے کی ٹیموں کی طرف سے بالترتیب 2014 اور 2015 کے دورے تھے۔

غیر ملکی ٹیمیں منصوبے بنا رہی ہیں

اب، سنجیدہ فوجی مہمات کی طرف سے ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے سیلوں، ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو کو تباہ کیے جانے کے بعد، ٹیمیں پاکستان میں دوبارہ سے کھیلنے کے منصوبوں کا اعلان کر رہی ہیں۔

ویسٹ انڈیز اور بہت علامتی طور پر سری لنکا -- وہ ملک جس کی ٹیم مارچ 2009 میں گولیوں کی بوچھاڑ کا شکار ہوئی تھی -- نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ورلڈ - XI اسکواڈ (جو مکمل طور پر غیر ملکی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے) کی طرف سے ستمبر کے وسط میں لاہور میں اپنے تین میچوں کو ختم کرنے کے بعد، پاکستان میں کھیلنے کے منصوبوں سے آگاہ کیا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سپورٹس رائٹر حافظ شہباز علی نے کینیا اور زمبابوے کو پاکستان میں کھیلانے میں کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی اور کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کو واپس آنے کے لیے مسلسل مناتی رہی ہے"۔

علی نے پیش گوئی کی کہ "میرے خیال میں ورلڈ اسکواڈ XI، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کو پاکستان لانا عالمی کرکٹ کو پاکستان میں دوبارہ سے بحال کرنے میں زیادہ فائدہ مند ہو گا۔ اس کا سہرا، پی سی بی کے چیرمین نجم سیٹھی کے سر جاتا ہے جنہوں نے مارچ میں لاہور میں پاکستان سپر لیگ (پی سی ایل) کا ایک پرامن فائنل میچ منعقد کیا تھا"۔

علی نے پشاور کے زلمیز کی کوئٹہ کے گلیڈئیٹرز پر فتح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "بہت سے غیر ملکی کھلاڑیوں نے فائنل میں حصہ لیا۔ پی ایس ایل کے فائنل کی کامیابی نے آئی سی سی، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں"۔

سابقہ فرسٹ کلاس کرکٹر علی نے کہا کہ اگر پی سی بی پرامن میچ منعقد کرنے میں کامیاب رہی تو آئی سی سی اور کرکٹ کھیلنے والے دوسرے ملک پاکستان پر دوبارہ سے نظر ڈالیں گے۔

آئی سی سی کا ورلڈ اسکواڈ - XI جو کہ سات ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، پہلے کھیلے گا جس کے بعد سری لنکا اکتوبر میں اور ویسٹ انڈیز نومبر میں کھیلیں گے۔

ورلڈ XI ٹیم ستمبر 12، 13 اور 15 کو پاکستان کے خلاف تین ٹوئنٹی 20 میچ کھیلے گی۔ آئی سی سی نے لاہور میں انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اپنی سیکورٹی ٹیم بھیج دی ہے۔

پی سی بی کے مطابق، ورلڈ XI کے کپتان، ساوتھ افریقہ کے فوف دو پلایسس نے کہا کہ "میں لاہور کے اپنے پہلے دورے اور پاکستان میں عالمی کرکٹ کی محفوظ اور بتدریج بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کا مشتاق ہوں"۔

سرفراز احمد پاکستانی ٹیم کے کپتان ہیں۔

حکام نے ناقابلِ تسخیر سیکورٹی کی تعریف کی ہے

سیکورٹی کے حکام آنے والے مہمانوں کا پاکستان پر اعتماد کا صلہ دینے کا مکمل عزم رکھتے ہیں۔

پنجاب پولیس کے ترجمان نیان حیدر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "عالمی ٹیموں کے دورے ہماری سیکورٹی کی صورتِ حال پر اعتماد کے ووٹ کا ثبوت ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان تمام قسم کے کھیلوں کے لیے محفوظ ملک ہے۔ ہم نے پی ایس ایل کی میزبانی کی اور سیکورٹی کی بہتری کے شروع ہونے کے بعد سے عالمی فٹ بالروں، ریسلروں اور باڈی بلڈروں کی میزبانی کی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "کھلاڑیوں کو وہ سیکورٹی دی جائے گی جو سربراہانِ مملکت کو ملتی ہے۔ ہم لاہور میں سیکورٹی کے لیے اضافی دستے تعینات کریں گے"۔

حیدر نے کہا کہ "سیکورٹی کے انتظامات پی ایس ایل کے فائنل سے زیادہ سخت ہوں گے"۔

لاہور کے کرائم رپورٹر عرفان ملک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "صرف ٹکٹ رکھنے والوں کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ہو گی۔ انہیں پارکنگ کے علاقوں سے اکٹھا کیا جائے گا اور خصوصی شٹل کے ذریعے اسٹیڈیم میں چھوڑا جائے گا"۔

جوش جذبہ بڑھ رہا ہے

پی سی بی نے کہا کہ آن لائن ٹکٹوں کی فروخت یکم ستمبر سے شروع ہو گی جب کہ منتخب شدہ بوتھوں پر جا کر ٹکٹ منگل (5 ستمبر) سے خریدے جا سکتے ہیں۔

کرکٹ کے شائقین غیر ملکی ستاروں کو کھیلتا دیکھنے کے لیے بیتاب ہیں کیونکہ انہیں آٹھ سالوں تک براہ راست میچ دیکھنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے شیدائی اسد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ہاشم آملہ (جن کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے) اور دو پلایسس کو پاکستان کی زمین پر کھیلتا ہوا دیکھنا بہت عظیم لمحہ ہو گا۔

لاہور کے ایک اور شائق وحید بٹ نے کہا کہ "میں تینوں (ورلڈ XI میچوں) کے لیے ٹکٹ خریدنے کی کوشش کر رہا ہوں"۔

پی سی بی کے مطابق پاکستانی ٹیم کے تین سابقہ کپتان، وسیم اکرم، وقار یونس اور انظمام الحق نے پی سی بی کو طرف سے عالمی کرکٹ کو پاکستان واپس لانے کی کوششوں کی بہت زیادہ تعریف کی۔

انظمام نے کہا کہ ورلڈ سیریز "پاکستان کے لیے ایک بار پھر یہ دکھانے کا سنہری موقع ہے کہ یہ امن سے محبت کرنے والا اور کرکٹ کا شیدائی ملک ہے جسے اس کے اپنے کسی قصور کے بغیر بین الاقوامی کرکٹ دیکھنے سے محروم کیا گیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

1
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha