| معاشرہ

کراچی میں پاکستان سُپر لیگ "عسکریت پسندی کی شکست" کی علامت

ضیاء الرحمان


پولیس 10 مارچ کو کراچی میں پی ایس ایل -4 کے لیے سیکورٹی سخت کیے جانے کے بعد، ایک چوکی کی نگرانی کر رہی ہے۔ ]ضیاء الرحمان[

پولیس 10 مارچ کو کراچی میں پی ایس ایل -4 کے لیے سیکورٹی سخت کیے جانے کے بعد، ایک چوکی کی نگرانی کر رہی ہے۔ ]ضیاء الرحمان[

کراچی -- کرکٹ کے ہزاروں شائقین اور اہلکاروں نے پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل-4) کے ہفتہ (9 مارچ) کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہونے پر جشن منایا اور سیکورٹی میں بہتری کی علامت کے طور پر شہر میں کرکٹ کے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہا۔

اس میچ میں لاہور قلندرز کا مقابلہ اسلام آباد یونائٹڈ کے ساتھ ہوا جس میں اسلام آباد یونائٹڈ نے کامیابی حاصل کر لی۔

پی ایس ایل جو کہ ٹوئنٹی 20 (ٹی 20) کرکٹ لیگ ہے، کے پہلے 26 میچ، متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے۔ باقی کے 8 میچ کراچی میں منعقد ہوں گے۔


پی ایس ایل-4 کے کھلاڑی 9 مارچ کو کراچی میں کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

پی ایس ایل-4 کے کھلاڑی 9 مارچ کو کراچی میں کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

گزشتہ اتوار (10 مارچ) کو کراچی کنگز کا مقابلہ کوئٹہ گلیڈیٹرز کے ساتھ کراچی میں ہوا۔ دریں اثناء لاہور قلندرز پیر (11 مارچ) کو ملتان سلطانز کے خلاف کھلیں گے۔

فائنل میچ اتوار (17 مارچ) کو کراچی میں منعقد ہونا طے پایا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی

کرکٹ کے حکام اور تجزیہ نگاروں کے مطابق، پی ایس ایل-4 کے آخری مرحلے نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے امکانات کو بڑھا دیا ہے جو کہ عرصہ دراز سے دہشت گردی کے باعث رکے ہوئے تھے۔

تقریباً 40 غیر ملکی کھلاڑی -- جن میں آسٹریلیا کے سابقہ آل راونڈر شین واٹسن، نیوزی لینڈ کے موجودہ اوپنر کولن منرو اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی دوائین براوو، ڈیرن سیمی اور کیرون پولارڈ شامل ہیں -- پی ایس ایل-4 میں کھیلنے کے لیے کراچی پہنچے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اہلکار سمیع الحسن نے کہا کہ "بلاشبہ پی ایس ایل کے میچ، بین الاقوامی کرکٹ کو بحال کرنے کے لیے ملک کے امکانات کو بہتر بنائیں گے"۔

حسن نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم خوش ہیں کہ غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل کے لیے پاکستان آئے ہیں اور یقینی طور پر اس سے ہمیں ملک میں مزید بین الاقوامی میچوں کو لانے میں مدد ملے گی"۔

بین الاقوامی کرکٹ، لاہور میں مارچ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم کو لے جانے والی بس پر دہشت گردانہ حملے کے بعد سے پاکستان میں معطل کر دی گئی تھی۔ دہشت گردوں نے 20 افراد کو زخمی کیا جن میں سری لنکا کے 7 کھلاڑی بھی شامل تھے۔ سات پاکستانی اس حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی حکام نے کالعدم لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) پر الزام لگایا تھا۔ قاری اجمل، جو اس پلاٹ کے منصوبہ ساز تھے، کو افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں اکتوبر 2016 میں افغان اور اتحادی افوج کی طرف سے کیے جانے والے ایک آپریشن میں مبینہ طور پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس بدنام حملے کے بعد، تمام کھیلوں میں پاکستان کی نمائںدگی کرنے والی ٹیموں نے عمومی طور پر بیرونِ ملک کھیلوں میں حصہ لیا۔ تاہم، پاکستانی حکام کی طرف سے 2014 میں عسکریت پسند گروہوں کے خلاف شروع کیے جانے والے ایک کریک ڈاون کے باعث ملک میں معمول کے حالات واپس آنا شروع ہو گئے اور دہشت گردانہ حملوں میں قابلِ قدر کمی آئی۔

کینیا اور زمبابوے کی کرکٹ کی ٹیموں نے بالترتیب 2014 اور 2015 میں پاکستان کا دورہ کیا جو کہ ملک میں سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال کی طرف اشارہ تھا۔

پھر 2017 میں پاکستان نے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی شروع کی۔ مارچ 2017 میں قذافی اسٹیڈیم لاہور نے پی ایس ایل کے فائنل میچ کی میزبانی کی۔ اس کے بعد،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ورلڈ - XI اسکواڈجو کہ مکمل طور پر غیر ملکیوں پر مشتمل تھا، نے ستمبر 2017 میں لاہور میں تین میچ کھیلے۔ سری لنکا بھی اکتوبر 2017 میں ٹی 20 انٹرنیشنل کے ایک میچ کے لیے واپس لوٹ آیا۔

2018 میں، کراچی اور لاہور نے پی ایس ایل -3 کے میچوں کی میزبانی کی۔

سخت حفاظتی انتظامات

کراچی میں مرکزی سڑکوں پر روشنیاں اور کھلاڑوں کی گتے پر بنائی گئی تصاویر سجی ہوئی تھیں۔ بڑے بڑے بل بورڈز پر چھہ ٹیموں کی نمائںدگی کرنے والے کئی غیر ملکی کھلاڑیوں کی تصاویر بھی نظر آ رہی تھیں۔

نیشنل اسٹیڈیم میں، قریب کے مختلف علاقوں میں بڑی سکرینیں لگائی گئی تھیں تاکہ کرکٹ کے شائقین میچوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

کراچی کے کمشنر افتخار علی شوانی نے کہا کہ کراچی کرکٹ سے محبت کرنے والا شہر ہے۔

شوانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جس طرح شہر کے رہائشیوں نے بین الاقوامی کرکٹروں کو 2018 میں خوش آمدید کہا تھا اس سے اس کھیل کے لیے ان کی محبت کا اظہار ہوتا ہے"۔

کراچی کے حکام نے میچوں کے لیے نیشنل اسٹیڈیم کے اندر اور باہر دونوں جانب سیکورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا ہے۔ کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا کہ پولیس پی ایس ایل کے کھلاڑیوں، غیر ملکی وفود، دیگر مہمانوں اور عملے کی حفاظت بین الاقوامی معیار کے مطابق کر رہی ہے "۔

سندھ پولیس کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق، تقریبا 13,000 پولیس اہلکار جن میں سینئر پولیس افسران اور 700 خاتون پولیس اہلکار شامل ہیں، کو پی ایس ایل -4 سیکورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

شیخ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی پاکستان میں سیکورٹی کی بہتر صورت حال، خصوصی طور پر کراچی میں، کے لیے ایک گواہی اور اعتماد کا ووٹ ہے۔

شیخ نے کہا کہ "پاکستانیوں نے کئی سالوں تک غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنی زمین پر نہیں دیکھا مگر اب عسکریت پسندی کی شکست کے باعث، پاکستان بڑے پیمانے کے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کرنے کے قابل ہو گیا ہے"۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے شیدائی طفیل سیٹھی نے کہا کہ "یہ صرف پی ایس ایل -4 کے میچ نہیں ہیں۔ یہ تشدد کی شکست اور ملک کی ساکھ کی بحالی ہے کہ کھیلوں کے بین الاقوامی کھالڑی کسی خوف کے بغیر ملک میں آ رہے ہیں"۔

سیٹھی کے مطابق، پورا ملک پی ایس ایل -4 کو پچھلے دس دنوں سے منا رہا ہے اور خاندان بین الاقوامی کھلاڑیوں کے کٹ آوٹس کے ساتھ تصاویر لے رہے ہیں" اور سیٹھی کے مطابق "کراچی میں عید کا سماں ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

7
3
نہیں
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 03-20-2019

یہ پاکستان میں ایک اچھی تقریب تھی کیونکہ کراچی کی عوام اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اس تقریب سے لطف اندوز ہوئے اور کرکٹ مقابلوں سے لطف اندوز ہوئے۔

جواب
| 03-17-2019

�رانا بلال

جواب
| 03-17-2019

رانا بلال

جواب