|

میڈیا

پریس کے ابتدائی اقدام نے پاکستانی صحافیوں کی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے میں مدد کی ہے

صحافیوں کے کام کی نوعیت انہیں انتہائی زیادہ خطرے میں ڈالتی ہے، یہ وہ چیز ہے جسے پاکستانی پریس کلب روکنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔

از عدیل سعید


17 دسمبر 2014 کو طالبان حملے، جس میں زیادہ تر بچوں سمیت 148 افراد شہید ہوئے تھے، کے ایک روز بعد ایک پاکستانی کیمرہ مین آرمی پبلک اسکول پشاور میں گولیوں سے چھلنی ایک دیوار کے سامنے سے ویڈیو بناتے ہوئے۔ پاکستان پریس کلبوں کے حفاظتی مراکز اقدام کا مقصد ان خطرات کے بارے میں آگاہی کو بڑھانا ہے جن کا صحافیوں کو ان کے کام کے دوران سامنا ہوتا ہے اور ان کا تحفظ کرنا ہے جنہیں جان سے مار دینے کی دھمکیوں اور دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔ [اے ایف پی/فاروق]

17 دسمبر 2014 کو طالبان حملے، جس میں زیادہ تر بچوں سمیت 148 افراد شہید ہوئے تھے، کے ایک روز بعد ایک پاکستانی کیمرہ مین آرمی پبلک اسکول پشاور میں گولیوں سے چھلنی ایک دیوار کے سامنے سے ویڈیو بناتے ہوئے۔ پاکستان پریس کلبوں کے حفاظتی مراکز اقدام کا مقصد ان خطرات کے بارے میں آگاہی کو بڑھانا ہے جن کا صحافیوں کو ان کے کام کے دوران سامنا ہوتا ہے اور ان کا تحفظ کرنا ہے جنہیں جان سے مار دینے کی دھمکیوں اور دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔ [اے ایف پی/فاروق]

پشاور -- پورے پاکستان کے شہروں میں تشکیل دیئے گئے حفاظتی مراکز صحافیوں کی سلامتی کے بارے میں آگاہی کو بڑھانے اور دہشت گردوں کی دھمکیوں کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا صحافیوں کے لیے تحفظ کا ایک ذریعہ بننے کے لیے کوشاں ہیں۔

پشاور پریس کلب پر آویزاں ایک بینر پر تحریر ہے، "اگر آپ کو کسی خطرے کا سامنا ہے، اسے محسوس کرتے ہیں یا کوئی دھمکی ملی ہے، تو اس کی اطلاع یہاں دیں۔"

پشاور کے مقامی ایک سینیئر صحافی اور پاکستان میں آئی ایم ایس کے حفاظتی رابطۂ کار، اقبال خٹک نے کہا، "پاکستان پریس کلبوں کے حفاظتی مراکز اقدام کا آغاز انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (آئی ایم ایس) کی جانب سے 2016 میں اپنے قومی شراکت دار، فریڈم نیٹ ورک کے ذریعے کیا گیا تھا۔"

خٹک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حفاظتی مراکز کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم مراکز وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بھی مدد کرتے ہیں، جہاں ایسے مراکز حفاظتی وجوہات کی بناء پر نہیں کھولے گئے۔

خٹک نے کہا کہ حفاظتی مراکز نے صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بہترین اقدامات کے بارے میں معلومات دینے کے لیے پاکستان میں مختلف شہروں میں 100 سے زائد امدادی اجلاسوں کا اہتمام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حفاظی مراکز کے فعال ہونے کے پہلے سال کے اندر اندر، انہوں نے آٹھ صحافیوں کو امداد فراہم کی ہے، جس میں ایک صحافی کی زندگی کو لاحق شدید خطرات کی وجہ سے اس کی کوئٹہ سے کہیں اور منتقلی شامل ہے۔

ذرائع ابلاغ کے خلاف خطرات کی چھان بین کرنا

پشاور پریس کلب کے حفاظتی مرکز کے مینیجر گوہر علی خان نے کہا، "ایک صحافی کو لاحق خطرے کے بارے میں موصولہ کسی بھی اطلاع کی مصدقہ ہونے کے لیے پڑتال اس کے رفقائے کار، اس کی تنظیم کے سربراہ اور متعلقہ پولیس حکام کے ذریعے کی جاتی ہے۔"

گوہر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کسی بھی واقعہ کی تخمینہ کاری کے بعد، حفاظتی مرکز کے عملے کی ایک کمیٹی خطرے کی سنگینی یا اس کو درپیش خوف کی بنیاد پر ایک لائحۂ عمل کا فیصلہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حفاظتی مراکز ان صحافیوں کے اہلِ خانہ کو مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں جو فرائض کی انجام دہی کے دوران وفات پا چکے ہیں۔

گوہر نے کہا کہ مثال کے طور پر، محبوب علی شاہ آفریدی، قبائلی صحافیوں کی یونین کے سابق صدر جو 19 جنوری 2016 کو خیبر ایجنسی میں ایک خودکش بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے، کے ورثاء کو مالی امداد دی گئی تھی۔

گوہر نے کہا، "ہمارا مقصد صحافیوں اور سرکاری حکام کو صحافیوں کی سلامتی کے بارے میں حساس بنانا ہے جو بم دھماکوں کا ہدف بن رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پریس کلبوں کی کوششیں بارآور ثابت ہوئی ہیں کیونکہ صحافیوں کے تحفظ کے ایک بل کا مسودہ پہلے ہی پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں تیار ہو چکا ہے جو جلد ہی صوبائی اسمبلیوں میں پیش کر دیا جائے گا۔

صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

میڈیا کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق، پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

اسلام آباد کے ایک مقامی صحافی اور پاکستان میں آئی ایم ایس کے پروگرام مینیجر عدنان رحمت نے کہا، "سنہ 2000 سے اب تک، تقریباً 114 صحافی مارے جا چکے ہیں اور تقریباً 2،000 دیگر اغواء اور مسلح حملوں کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستانی صحافیوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کی کوریج دہشت گردوں کو بھڑکا سکتی ہے اور کیونکہ وہ حقیقتاً خطرناک مقامات پر جاتے ہیں۔

عدنان، جنہوں نے "صحافی خطرے کی زد میں" نامی کتاب لکھی ہے جو پاکستان میں 100 ایسے صحافیوں کی ذاتی داستانوں پر مشتمل ہے جنہیں جبر اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، نے کہا کہ صحافیوں کے کام کی نوعیت ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو مسلح حملوں سے واسطہ پڑتا ہے اور انہیں دہشت گردوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "حفاظتی مراکز کا قیام ایک اچھا اقدام ہے جو ایسے صحافیوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کرے گا جو خطرے میں رہ رہے ہیں۔"

حفاظت کو مقدم رکھنا

پشاور میں جیو نیوز کے بیورو چیف، محمود جان بابر نے کہا کہ پہلی بار، پاکستانی صحافیوں کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کے اعدادوشمار مرتب کر رہے ہیں۔

حفاظتی مراکز صحافیوں میں خود اپنی سلامتی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں مدد کر رہے ہیں، ایک ایسی چیز جسے وہ بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

محمود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "12 فروری 2017 کو کراچی میں تحریکِ طالبان پاکستان [ٹی ٹی پی] دہشت گرد گروہ کی جانب سے سماء ٹی وی کی ڈی ایس این جی وین پر مسلح حملے، جس میں عملے کا ایک رکن جاں بحق ہوا تھا، کے بعد جلد ہی میں نے یقینی بنایا کہ میری ٹیم کے ارکان واقعات کی خبروں کی کوریج کرتے وقت حفاظتی سامان استعمال کریں۔"

انہوں نے کہا کہ حفاظتی سامان میں ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹیں شامل ہیں۔

محمود نے اپنے تمام عملے اور خیبرپختونخوا (کے پی) کے ٹیلی وژن چینلوں کے تمام بیورو چیفس کو مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے انہیں مصروفِ عمل صحافیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کے معیاری دستور اختیار کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ کام کی نوعیت صحافیوں کی زندگیوں کو سنگین خطرے میں ڈالتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو یہ تعلیم دینے کی اشد ضرورت ہے کہ بریکنگ نیوز کی خاطر خود کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے، وہ ذاتی سلامتی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

پشاور میں جیو نیوز کے ایک رپورٹر، عادل پرویز نے کہا، "ذاتی حفاظت کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے بعد، میں اپنے آپ کو خطرے سے باہر رکھنے کے لیے اضافی احتیاط کرتا ہوں۔

عادل نے کہا کہ پشاور پریس کلب کے حفاظتی مرکز اور ایسی دیگر تنظیموں کی جانب سے اہتمام کردہ ایک امدادی اجلاس نے انہیں بم دھماکوں پر رپورٹنگ کرتے وقت محفوظ رہنے کے طریقوں کے بارے میں تعلیم دی۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر وہ اپنا کام کرتے وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور ایک بڑے ہجوم سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہنا چاہیئے کیونکہ صحافیوں کے لیے خطرہ موجود ہے اور حفاظت کو صرف حفاظتی اقدامات کے ذریعے ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج