|

میڈیا

پاکستانی صحافی افغان میڈیا پر داعش کے حملوں کی مذمت کرنے والوں میں شامل

پاکستانی میڈیا کے کارکنوں اور تنظیموں نے کابل میں ہونے والے دو ہلاکت خیز بم دھماکوں کی مذمت کی ہے جن میں 9 افغان صحافی ہلاک اور دیگر 6 زخمی ہو گئے۔

جاوید خان


سوگواران پیر (30 اپریل) کو ایجنسی فرانس پریس کے کابل میں چیف فوٹوگرافر، شاہ ماری کے جنازے میں اکٹھے ہوئے ہیں جو داعش کے خودکش حملے کی کوریج کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ ]نصراللہ عطار/ اے ایف پی ٹی وی /اے ایف پی[

سوگواران پیر (30 اپریل) کو ایجنسی فرانس پریس کے کابل میں چیف فوٹوگرافر، شاہ ماری کے جنازے میں اکٹھے ہوئے ہیں جو داعش کے خودکش حملے کی کوریج کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ ]نصراللہ عطار/ اے ایف پی ٹی وی /اے ایف پی[

پشاور -- پاکستان میں صحافی، بین الاقوامی برادری کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں جو پیر (30 اپریل) کو کابل میں ہونے والے دوہرے خودکش دھماکوں کی مذمت کر رہی ہے، جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے جن میں نو صحافی بھی شامل ہیں۔

پہلے خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو کابل میں افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹرییٹ آف سیکورٹی کے قریب اڑا دیا۔ دوسرا حملہ اس کے 20 منٹ بعد صحافیوں کے درمیان ہوا جو جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں دوسروں کے علاوہ اے ایف پی، ریڈیو فری یورپ اور افغان براڈکاسٹروں طلوع نیوز اور ون ٹی وی سے تعلق رکھنے والے صحافی شامل ہیں۔

رپورٹرز وداوٹ بارڈرز نے اس واقعہ کو، 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے افغان میڈیا پر سب سے زیادہ ہلاکت خیز واحد حملہ قرار دیا ہے۔

دریں اثنا، پیر کو ایک الگ واقعہ میں، بی بی سی پشتو کے رپورٹر احمد شاہ کو موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے صوبہ خوست میں ہلاک کر دیا جس سے ایک دن میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد 10 ہو گئی۔

کابل کا سانحہ جس کی ذمہ داری"دولتِ اسلامیہ" (داعش) نے قبول کی ہے، پر اقوامِ متحدہ (یو این) اور بین الاقوامی برادری سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد نے مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ وہ خودکش دھماکوں سے "انتہائی غمزدہ" ہوئے تھے جن میں دیگر 49 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ۔۔۔ ایک بار پھر ان خطرات کو اجاگر کرتا ہے جن کا سامنا میڈیا سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اپنے انتہائی اہم کام کو انجام دیتے ہوئے، کرتے ہیں"۔

امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بھی اس "خارج ازعقل اور سفاکانہ حملے" کی مذمت کی ہے۔

ایک 'المناک اور تاریک دن'

پاکستان بھر میں صحافیوں نے اس قتلِ عام کی مذمت کی ہے جسے ہیومن رائٹس واچ نے "جنگی جرم" کے طور پر بیان کیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون صحافی آمنہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ افغانستان کے لیے ایک المناک اور تاریک دن تھا"۔

خان نے کہا کہ "ہم ماضی میں اسی تکلیف سے گزر چکے ہیں اس لیے ہم ان کے درد کو محسوس کرتے ہیں"۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی اور جیو ٹی وی کے ساتھ کام کرنے والے ایکنر حامد میر نے ٹوئٹ کی "افغانستان میں صحافیوں کے لیے بہت المناک دن۔ اللہ کرے میڈیا کے تمام شہیدوں کی روحوں کو سکون پہنچے۔ اللہ کرے تمام علاقے میں امن ہو جائے"۔

پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والی صحافت کی پیشہ ورانہ تنظیموں نے اس مذمت میں شرکت کی جن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس بھی شامل ہے جس نے علاقے میں تمام صحافیوں کے لیے زیادہ سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

راولپنڈی - اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے پیر کو ایک تقریب منعقد کی جس میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اقبال خٹک جو پاکستان میں صحافیوں کی حفاظت اور حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم، فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ "فریڈم نیٹ ورک کو اتنے زیادہ بہادر افغان صحافیوں کے قتل پر دھچکا لگا ہے اور ہم آزاد افغان میڈیا کے دکھ اور درد میں شریک ہیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ دوہرے خودکش دھماکوں نے ہر کسی کو یاد کروا دیا ہے کہ صحافت کا کام کرنا نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی کس قدر خطرناک ہے"۔

مزید سیکورٹی کی ضرورت

پشاور پریس کلب کے سابقہ جنرل سیکریٹری یوسف علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم، پاکستانی صحافی افغانستان میں صحافیوں کے قتلِ عام پر بہت حیران اور پریشان ہیں"۔

علی نے مزید کہا کہ "صحافیوں کے لیے مزید سیکورٹی اور پیشہ ورانہ تربیت کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ میڈیا تنظیموں کے مالکان کو پاکستان اور افغانستان میں میڈیا کے کارکنوں کو مزید سیکورٹی فراہم کرنی چاہیے جہاں صحافت ایک آسان کام نہیں ہے"۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ٹیلی ویژن جرنسلٹ اور سیکورٹی کے نمائںدے اسلام الدین ساجد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم کابل میں صحافیوں پر کیے جانے والے اس سفاکانہ اور ظالمانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں اور افغان دوستوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں

ساجد نے کہا کہ "ہم نے افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سے ہم عصروں کو کھویا ہے اور ابھی بھی دونوں ملکوں میں صحافیوں کے لیے کوئی سیکورٹی نہیں ہے"۔

ساجد نے کہا کہ "مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو باقاعدہ نمائںدوں اور اسٹرنگرز (غیر باقاعدہ نمائںدوں) اور ان کے اہلِ خاندان کے لیے، حملوں یا دھمکیوں کی صورت میں زیادہ کام کرنا چاہیے"۔

پشاور میں ایک بین الاقوامی میڈیا تنظیم کے لیے کام کرنے والے صحافی اظہار اللہ نے کہا کہ "حکومت کو اپنے علاقوں میں صحافیوں کی حفاظت اور سیکورٹی کو یقینی بنانا چاہیے اور صحافیوں کو ہلاک کرنے کی دھمکیوں میں ملوث افراد کو سامنے لایا جانا چاہیے اور انہیں سزا دی جانے چاہیے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

امين الله فطرت | 05-04-2018

یہ ایک عمدہ مکالہ ہے۔ پاکستان بھرمیں اور بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آئے روز صحافیوں کو سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں پہنچنے والی سختیوں سے متعلق ایک رپورٹ شائع ہونی چاہیئے۔


انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج