|

دہشتگردی

پاڑاچنار بازار میں بم دھماکے کی مذمت میں پاکستانی متحد

عسکری اور مذہبی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اپنی کھوئی ہوئی نسبت کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے اور پاکستانی متحد ہی رہیں گے۔

جاوید خان


سوگواران ہفتہ (21 جنوری) کو پاڑاچنار، کرم ایجنسی میں اس دن ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کی نمازِ جنازہ ادا کر رہے ہیں۔ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے شعیہ اکثریت کے علاقے میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم چوبیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ]علی جان/ اے ایف پی[

سوگواران ہفتہ (21 جنوری) کو پاڑاچنار، کرم ایجنسی میں اس دن ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کی نمازِ جنازہ ادا کر رہے ہیں۔ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے شعیہ اکثریت کے علاقے میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم چوبیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ]علی جان/ اے ایف پی[

پشاور - پاکستان کے سیاسی، مذہبی اور فوجی راہنما کرم ایجنسی، پاڑاچنار کی سبزی منڈی میں ہونے والے ایک بم دھماکے کی مشترکہ طور پر مذمت کر رہے ہیں۔ اس دھماکے میں جو کہ ہفتہ کی صبح (21 جنوری) کو ہوا کم از کم چوبیس افراد ہلاک اور دیگر نوے زخمی ہوئے۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے اس بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے اس دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے کاموں سے ان کے حوصلے کمزور نہیں ہوں گے۔

انہوں نے پشاور کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت دہشت گردوں کے خاتمے تک، امن کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی"۔

جھگڑا نے امدادی پیکج کا اعلان کیا جس کے تحت ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خاندان کو 300,000 روپے (2,861 امریکی ڈالر)، شدید زخمی ہونے والوں کو 150,000 روپے (1,430 امریکی ڈالر) اور دیگر زخمی ہونے والوں کو 100,000 روپے (953 امریکی ڈالر) دیے جائیں گے۔

خون کے تالاب

یہ بم دھماکہ صبح نو بجے سے ذرا پہلے اس وقت ہوا جب سینکڑوں لوگ مقامی بازار سے سبزی خرید رہے تھے۔ ابتدا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا بیس بتائی گئی تھی جن میں سے تقریبا سب کا تعلق کرم ایجنسی سے تھا۔

کرم سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن ساجد حسین توری نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بہت سے لوگ موقع پر ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر افراد ہسپتال میں وفات پا گئے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

علاقے کے انتظامی اہلکار، نصیر اللہ خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ "اب دھماکے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24 ہے کیونکہ زخمی ہونے والے مزید چار افراد وفات پا گئے ہیں"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد نوے ہے۔

انہوں نے کہا کہ "تقریبا 33 زخمیوں کا ڈسٹرکٹ ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے جب کہ پچیس کو پشاور کے ملٹری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ دیگر معمولی زخمی افراد کو طبی امداد کے بعد گھروں کو بھیج دیا گیا ہے"۔

ہفتہ کے دن کی ویڈیوز انتشار کے مناظر دکھاتی ہیں جس میں لوگ بدحواسی میں دوڑتے اور چلاتے نظر آتے ہیں جب کہ متاثرین سبزیوں کی دکانوں کے باہر ٹوٹے ہوئے کریٹیوں اور ریڑھیوں میں بکھرے ہوئے پڑے ہیں۔

عینی شاہد حامد حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دھماکہ کاروبار کے انتہائی مصروف وقت پر ہوا جب سینکڑوں افراد خرید و فروخت میں مصروف تھے"۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ زبردست دھماکہ ہوا اور جب گرد بیٹھی تو لوگ ٹماٹروں اور شلجموں کے کریٹوں کے پاس خون کے تالاب میں پڑے تھے۔

دھماکے کے ابتدائی متاثرین کی اجتماعی نمازِ جنازہ ہفتہ کی شام کو پاڑاچنار کی مرکزی امام بارگاہ میں ادا کی گئی۔

دو عسکری گروہوں نے ذمہ داری قبول کی

حکام نے کہا کہ سبزیوں کے ایک ڈبے، جو کہ ممکنہ طور پر کوہاٹ کے ایک بازار سے آیا تھا، میں چھپائے گئے گھریلو ساختہ بم (آئی ای ڈی) کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔

تاہم اس کی ذمہ داری قبول کرنے والے دو عسکری گروہوں میں سے ایک نے اسے خودکش دھماکہ قرار دیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک ترجمان نے بظاہر ایک نوعمر نظر آنے والے لڑکے کی تصویر جاری کی ہے جس کی شناخت سیف اللہ کے طور پر کی گئی ہے اور انہوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ حملہ اس نے کیا تھا۔

ڈان نے خبر دی ہے کہ صحافیوں کو بھیجے جانے والے ایک ٹیکسٹ میسج میں، لشکرِ جھنگوی العالمی نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ٹی ٹی پی کے ذیلی گروہ شہریار محسود کے ساتھ مل کر یہ حملہ کیا۔ تاہم شہریار محسود گروہ نے جُداگانہ طور پر اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دریں اثنا، ٹی ٹی پی کے حکیم اللہ محسود دھڑے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس کی وجہ شام میں ہونے والی جنگ کے حوالے سے انتقام لینے کو قرار دیا ہے۔

سات ملزمان گرفتار

پولیس نے اتوار کو پاڑاچنار سے سات ملزمان کو گرفتار کیا۔ یہ بات اسسٹنٹ کرم پولیٹیکل ایجنٹ شاہد علی خان نے صحافیوں کو بتائی۔ انہوں نے ملزمان کی شناخت یا اتہ پتہ نہیں بتایا مگر کہا کہ ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کی جگہ سے ملنے والی نامعلوم افراد کی باقیات کو ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیےاسلام آباد بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے دھماکے کی جگہ سے نٹ اور بولٹ بھی اکٹھے کیے ہیں۔

ڈان نے خبر دی ہے کہ کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی ایک فرینزک ٹیم جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے لیے آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بم میں 12 کلوگرام دھماکہ خیز مواد تھا۔

یہ دھماکہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں ہونے والا پہلا بڑا دہشت گردانہ حملہ تھا۔ دہشت گردوں نے حالیہ سالوں میں اس علاقے کو کئی بار نشانہ بنایا ہے۔

دسمبر 2015 میں اسی بازار میں آئی ای ڈی سے کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی تقسیم نہیں ہوں گے

پاکستانی راہنماؤں اور عام شہریوں نے متفقہ طور پر ان دھماکوں کی مذمت کی ہے جس نے فاٹا میں نسبتا امن کے کافی طویل دورانیے کو منتشر کر دیا ہے۔

کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک طالبِ علم زاہد علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکومت کو فرقہ ورانہ دہشت گردی کو خاتمہ کرنے کے لیے زیادہ محنت سے کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ "کرم ایجنسی کے بہت سے شہریوں نے 22 جنوری کو پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا تاکہ وہ پاڑاچنار اور علاقے میں ماضی میں ہونے والے حملوں کے خلاف احتجاج کر سکیں"۔

پاکستان علماء کونسل کے چیرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ "امن سے محبت کرنے والے تمام افراد پاڑاچنار کے حملے کے شدید مذمت کرتے ہیں جسے پاکستان کے دشمنوں نے کیا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں اور شہریوں کو ہلاک کرنا ان کے شکست کی طرف جانے کا مزید ثبوت ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ "تمام مذہبی مکتبہ ہائے فکر کے پیروکار دہشت گردی کے اس سفاک عمل کی مذمت کرنے میں متحد ہیں اور وہ متاثرین کے دکھ میں شریک ہیں"۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ دہشت گرد "مایوسی کا شکار" ہو کر عام شہریوں کے خلاف حملے کر رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فاٹا اور باقی ملک میں دیرپا امن کے لیے مزید اقدامات کرے۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دھماکے کے بعد ہفتہ کو کہا کہ "دہشت گرد اپنی کھوئی ہوئی مطابقت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوششوں میں ناکام رہیں گے"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہوئے اور قبائلی عمائدین سے ملاقات میں باجوہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حمایت کی تعریف کی اور امن کے لیے ان کی قربانیوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی مدد کے ساتھ، فوج، فرنٹئر کور اور قانون نافذ کرنے والی دوسری ایجنسیوں نے علاقے کو مستحکم کرنے میں بہت عمدہ کام کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد اس کامیابی کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی مذہب، صوبے، قبیلے، زبان، نسل، فرقے یا کسی بھی دوسری تقسیم کے بغیر، ہم سب کا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج