2017-01-09 | سلامتی

پاکستان میں 2016 کے دوران تشدد اور ہلاکتوں میں کمی دیکھی گئی

اشفاق یوسف زئی

سینٹر برائے ریسرچ و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق، پاکستان میں 2016 کے دوران تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں میں 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو 2014 کے مقابلے میں 66 فیصد کمی ہے۔


بیس مئی کو شوال وادی میں ایک پاکستانی فوجی چوکنا کھڑا ہے۔ ایک ںئی رپورٹ گزشتہ دو سالوں کے دوران عسکریت پسندی کے خلاف قابلِ ذکر کامیابی دکھاتی ہے۔ ]ایس ٹی آر/ اے ایف پی[
بیس مئی کو شوال وادی میں ایک پاکستانی فوجی چوکنا کھڑا ہے۔ ایک ںئی رپورٹ گزشتہ دو سالوں کے دوران عسکریت پسندی کے خلاف قابلِ ذکر کامیابی دکھاتی ہے۔ ]ایس ٹی آر/ اے ایف پی[
بیس مئی کو شوال وادی میں ایک پاکستانی فوجی چوکنا کھڑا ہے۔ ایک ںئی رپورٹ گزشتہ دو سالوں کے دوران عسکریت پسندی کے خلاف قابلِ ذکر کامیابی دکھاتی ہے۔ ]ایس ٹی آر/ اے ایف پی[

سینٹر برائے ریسرچ و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق، پاکستان میں 2016 کے دوران تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں میں 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو 2014 کے مقابلے میں 66 فیصد کمی ہے۔

اسلام آباد - ایک ںئی رپورٹ سے آشکار ہوا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کی وجہ قبائلی علاقوں اور ملک کے دوسرے حصوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی مہمات ہیں۔

چار جنوری کو سینٹر برائے ریسرچ و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ ملک میں 2016 کے دوران تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں میں 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو کہ 2014 سے کمی کے جاری رجحان کا تسلسل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 سے تقریبا 66 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سابقہ سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے کہا کہ "یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ 2016 سے عسکریت پسندی میں کمی آئی ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس کا سہرا سیکورٹی افواج کے سر جاتا ہے جنہوں نے قبائلی علاقوں سے طالبان کے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کیا جہاں سے انہوں نے پورے ملک کو نشانہ بنا رکھا تھا"۔

شاہ نے سیکورٹی کی صورت حال کے معمول پر آنے اور جلد ہی امن کی آمد کے لیے امید کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں طالبان کی مکمل شکست تک ان کے خلاف آپریشن میں کسی قسم کی نرمی نہیں دکھانی چاہیے"۔

رپورٹ کی تفصیلات

سی آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق، فاٹا میں 2016 کے دوران تشدد کے باعث 496 ہلاکتوں کو ریکارڈ کیا گیا جو کہ اس کے مقابلے میں 2015 میں 1,924 تھیں۔ سندھ میں بھی تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں میں ڈرامائی کمی دیکھی گئی ہے جو کہ 2015 میں 1,221 سے کم ہو کر 2016 میں 520 ہو گئیں۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) میں ہلاکتوں کی تعداد 2015 میں 441 سے کم ہو کر 2016 میں 357 ہو گئی جب کہ اسلام آباد میں 2015 میں ہونے والی 10 ہلاکتوں کے مقابلے میں 2016 میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔

تاہم، بلوچستان میں تشدد سے ہلاکتوں کی تعداد میں تقریبا 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے اور 2015 میں 719 کے مقابلے میں 2016 میں یہ تعداد 805 تھی۔ پنجاب میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور 2015 میں ہونے والی 328 ہلاکتوں کے مقابلے میں 2016 میں 424 ہلاکتیں ہوئیں۔

دونوں صوبوں کو بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں جانوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ " بلوچستان میں چار خودکش حملے ہوئے، جس میں 97 افراد ہلاک ہوئے جن میں 52 وکلاء بھی شامل تھے جب کہ پنجاب میں گلشنِ اقبال پارک، لاہور میں ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں 74 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے 29 بچے تھے"۔

تاہم، طویل عرصے سے مصائب کے شکار کراچی میں بھی، جو کہ ابھی بھی پاکستان کا سب سے پرتشدد شہر ہے، ہلاکتوں میں سال بہ سال کے مقابلے میں 54 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

امن و امان کی بہتر صورت حال

سی آر ایس ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی کی کامیابی کا سہرا دو بنیادی عناصر کے سر باندھا جا سکتا ہے: آپریشن ضربِ عضب جس کا آغاز فوج نے جون 2014 میں فاٹا میں کیا تھا اور کراچی میں کیا جانے والا رینجرز کا آپریشن .

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے چھوٹے عناصر جسے کہ نفرت انگیز تقریر کے خلاف اقدامات، ملک بھر میں ہونے والا کومبنگ آپریشن اور اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں عسکریت پسندی میں کمی، نے سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

سی آر ایس ایس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز گل نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ کا خاتمہ کرنے سے سیکورٹی میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے کامیابی سے نپٹا ہے جو کہ اسلام کے نام پر امن کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی تھی"۔

امن کے لیے جدوجہد

پشاور سے تعلق رکھنے والے ماہرِ تعلیم اور سیکورٹی کے تجزیہ نگار خادم حسین نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی کی ایجنسیوں کے کام کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ عسکریت پسندوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شہری علاقوں سے مستقبل میں دور رکھا جا سکے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سیکورٹی افواج کے ساتھ، ہمیں عوام میں دہشت گردی کے لوگوں پر ہونے والے مضمرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے سے امن کے لیے کوشش کرنے کی بھی ضرورت ہے"۔

پاکستان تحریک انصاف کی فاٹا شاخ کے کوارڈینیٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ عسکریت پسندی سے آٹھ ملین سے زیادہ قبائلی ارکان نے مصائب اٹھائے ہیں اور وہ امن کو بحال کرنے میں کردار ادا کرنا پسند کریں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں، فوج کے لیے قبائلی آبادی کی مدد نے طالبان کے عسکریت پسندوں کی غیر قانونی حکمرانی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم فوج کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم نے ان کی قربانیوں کا مشاہدہ کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اگر عسکری مہم کی موجودہ رفتار قائم رہی کو پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلا قدم امن اور ترقی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کرنے اور اپنے علاقوں کے لیے علاج کی سہولیات حاصل کرنے اور ان کی ترقی کے لیے بہت مشتاق ہیں"۔

عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ رپورٹ مثبت پیش رفت دکھاتی ہے مگر ملک کو دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مختلف طبقہ ہائے فکر کی نمائںدگی کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ امن کو بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں ان پر کسی قسم کا رحم نہیں کیا جانا چاہیے"۔

افتخار نے متنبہ کیا کہ اگر عسکریت پسندوں کے خلاف اقدامات سست ہو گئے تو وہ دوبارہ سے گروہ بندی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ ہم افواج کی مکمل مدد کریں تاکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دہشت گردی سے نجات حاصل کر لیں۔ لوگ افواج کی مکمل مدد کر رہے ہیں اور عسکریت پسندوں کے خلاف اقدامات میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے"۔

'طالبان تشدد کے مرتکب ہیں'

پشاور یونیورسٹی میں فاٹا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر شوکت عزیز نے کہا کہ طلباء اعداد و شمار سے ظاہر ہونے والی ترقی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس بات کا واضح ثبوت موجود ہے کہ صورتِ حال میں بہتری آئی ہے۔ ہمارے طلباء اب آزادی سے قبائلی علاقوں میں اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ عسکری آپریشن سے پہلے، ہم مہینوں تک ہوسٹل میں رہتے تھے اور ہمارے والدین ہمیں ملنے آتے تھے کیونکہ ہمارے آبائی علاقوں میں امن کی کمی تھی"۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے غلط کاموں نے ان کے حقیقی ایجنڈا کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور وہ اب انہیں مسلمان کہنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "انہوں نے ہمارے فوجیوں کو مارا اور مسجدوں اور بازاروں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔ طالبان کو کیسے مسلمان قرار دیا جا سکتا ہے؟ اسلام کا مذہب امن اور محبت کا درس دیتا ہے جب کہ طالبان تشدد کے مرتکب افراد ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی آبادی عسکریت پسندی سے تھک گئی ہے اور وہ پاکستانی فوج کے ان کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

عزیز نے کہا کہ "ہمارے لوگ طالبان کی شکست فاش پر خوشی منا رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کو روکنے کے دیرپا اقدامات کیے جائیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا آپ کے خاندان کے بچوں کو تعلیم تک مناسب رسائی حاصل ہے؟

نتائج