|

سلامتی

پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ قبائلی علاقوں کو بحال کر رہا ہے

حکومت بے گھر ہو جانے والے قبائلی ارکان کی فاٹا کو باعزت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بحالی کی پائیدار حکمتِ عملی نافذ کر رہی ہے۔

عدیل سعید


کے پی کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا (درمیان میں) نو جون کو خیبر ایجنسی میں گشتی پانی اسکیم کا افتتاح کر رہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کی شکار قبائلی پٹی کی تعمیرِ نو اور بحالی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ ]بہ شکریہ کے پی گورنر ہاوس[

کے پی کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا (درمیان میں) نو جون کو خیبر ایجنسی میں گشتی پانی اسکیم کا افتتاح کر رہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کی شکار قبائلی پٹی کی تعمیرِ نو اور بحالی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ ]بہ شکریہ کے پی گورنر ہاوس[

پشاور - پاکستان کے حکام عسکریت پسندی کے شکار قبائلی علاقوں کی تعمیرِ نو اور بحالی کا کام کر رہے ہیں جن کا مقصد وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے تقریبا 4.8 ملین رہائشیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔

اس صدی کے دوران، فاٹا کے تین ملین سے زیادہ قبائلی ارکان کو کسی نہ کسی وقت اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں اس وقت جانا پڑا جب عسکریت پسندوں اور حکومتی افواج کے درمیان جنگ جاری تھی۔ حکومت نے ان بے گھر ہو جانے والے قبائلی ارکان میں سے اسی فیصد سے زیادہ کو حالیہ سالوں میں گھروں کو واپس جانے کے قابل بنا دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت تعمیرِ نو کے لیے "پہلے سے بہت تعمیر" کی حکمتِ عملی استعمال کر رہی ہے جس میں ملک کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

باعزت واپسی کی تلاش

فاٹا سیکریٹریٹ کے لیے منصوبہ بندی اور ترقی کے سابقہ سیکریٹری شکیل قادر نے کے سال کے لیے سیکریٹریٹ کے آبادکاری اور تعمیرِ نو کے یونٹ (آر آر یو) کی سالانہ رپورٹ، جو یکم جولائی کو مالی سال 2016-2015 کے آغاز کے بعد جاری کی گئی، میں کہا کہ "حکومت بے گھر ہو جانے والے قبائلی ارکان کی فاٹا کو باعزت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بحالی کی پائیدار حکمتِ عملی نافذ کر رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "نئی حکمت عملی میں ہم نے تباہی کے بعد نو آبادکاری کے روایتی طریقہ کار کو استعمال کرنے کی بجائے انسداد عسکریت پسندی کے لینز کو استعمال کیا ہے اور آر اینڈ آر (واپسی اور آبادکاری) کے مختلف ماڈل کو استعمال کیا ہے مسائل پر قابو پانے اور بحران کو متاثرین اور بچ جانے والوں کی خدمت کرنے کے لیے"۔

شکیل، جو حال ہی میں داخلہ اور قبائلی امور کے سیکریٹری بنے ہیں، نے کہا کہ اتنی بڑی آبادی کی نوآبادکاری جو کہ ایک وسیع اور متنوع علاقے پر پھیلی ہوئی ہے، کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس کے لیے انتہائی سوچ بچار سے منصوبہ بندی کرنے،سیاسی خواہش،انتہائی زیادہ ہم آہنگی اور واپس آنے والے خاندانوں کے لیے دیرپا امداد کی ضرورت ہے۔

فاٹا سیکرٹریٹ کے منصوبوں کے ڈائریکٹریٹ کے لیے کوآرڈینیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان مجاہد نے کہا کہ "بے گھر ہو جانے والے تین ملین قبائلی ارکان میں سے اسی فیصد کی ان کے گھروں کو واپسی کے بعد، حکومت فاٹا کی تعمیرِ نو اور قبائلی افراد کی بحالی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے بے گھر ہو جانے والے قبائلی افراد کی گھروں کو واپسی کا عمل شروع کرنے کے لیے نومبر 2016 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی اور ہم نے تقریبا اپنا حدف حاصل کر ہی لیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "واپسی اور نوآبادکاری کی حکمت عملی کے اسٹریجک ستونوں میں طبعی بنیادی ڈھانچے کی بحالی، امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا، حکومتی سہولیات کی فراہمی کو وسیع کرنا، معیشت کو بحال کرنا اور سماجی ہم آہنگی اور امن کی تعمیر کو مضبوط کرنا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے واپس آنے والے قبائلی ارکان کے لیے 118 ملین امریکی ڈالر (12.4 بلین روپے) نقد کی امدد رکھی ہے اور اس کے علاوہ اپنے شہری نقصانات کے معاوضہ پروگرام کے حصہ کے طور پر قبیلوں کی مدد کے لیے دوسری رقوم بھی مختص کی ہیں۔

خوشحالی کا نیا دور

کے پی کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا نے نو جون کو فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی پشاور میں ہونے والی میٹنگ میں کہا کہ "ترقیاتی منصوبے قبائلی افراد کی اقتصادی اور سماجی خوشحالی کے ایک ںئے دور کے لیے راہ ہموار کر دیں گے"۔

انہوں نے کہا کہ قبیلوں نے امن کی بحالی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں اس کا صلہ دیا جائے۔

انہوں نے فاٹا کی اقتصادی ترقی کو حکومت کی ایک اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ "قبائلی علاقوں کی پیش رفت اور سماجی و اقتصادی ترقی ک یقینی بنانے میں کسی کوشش کی کمی نہیں چھوڑی جائے گی"۔

اس میٹنگ کے دوران، جھگڑا نے فاٹا کے لیے سات ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جن پر2.4 بلین روپے (25 ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ کی لاگت آئے گی۔

شاہ ناصر خان جو کہ فاٹا کے سیکریٹریٹ میں بنیادی ڈھانچے اور دوبارہ ابھرنے کے سابقہ ماہر ہیں اور جو اب عالمی فوڈ پروگرام میں ملازمت کرتے ہیں، نے کہا کہ "جنوری 2015 میں آر آر یو نے سرکاری بنیادی ڈھانچے اور عوامی عمارات کی بحالی کے کام کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کیا تھا"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اس تحقیق میں اسکولوں، طبی مراکز، بجلی کی تاروں اور دوسری اہم سہولیات کو شامل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مرمت کے لیے 1,406 منصوبوں کی نشاندہی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے بے گھر قبائلی افراد کی ان کے گھروں کو واپسی سے پہلے فوری طور پر بحالی کے کام کا آغاز کر دیا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اہم بنیادی سہولیات بحال ہو گئی ہیں"۔

فاٹا کی بہتری کے لیے بھاری سرمایہ

شاہ ناصر نے کہا کہ 2015 کے مالی سال میں، فاٹا ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 2.3 بلین روپے (23.1 ملین امریکی ڈالر) اور وفاقی حکومت نے 3 بلین روپے (30 ملین امریکی ڈالر) پاکستانی فوج کو جاری کیے تھے تاکہ وہ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں بحالی کا کام سر انجام دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکام نے 206-2015 کے سالانہ ترقیاتی منصوبے میں 1.2 بلین روپے (12 ملین امریکی ڈالر) کی مزید ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ان تمام اسکیموں کا نفاذ پر کام ہو رہا ہے۔ ابھی تک تقریبا چار سو اسکیموں کو مکمل کیا جا چکا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کی نو آبادکاری اور تعمیر نو کے لیے استعمال کیا جانے والا "فاسٹ ٹریک" طریقہ کار کام کو 2018 میں مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایک طویل المعیاد طریقہ کار کے تحت، فاٹا کی اصلاحی کمیٹی، جس نے فاٹا کو خیبرپختونخواہ کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے، نے قبائلی پٹی کے لیے ایک دس سالہ ترقیاتی منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے خارجہ امور کے مشیر اور فاٹا اصلاحی کمیٹی کے چیرمین سرتاج عزیز نے اگست میں ڈان کو بتایا تھا کہ کمیٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ 2016 کے اختتام تک دس سالہ منصوبہ تیار کر لیا جائے۔

سرتاج نے ڈان کو بتایا کہ کے پی کے گورنر جھگڑا، ماہرین اور حکام کی ایک کمیٹی بنائیں گے جو منصوبے کی پیش رفت کو ترجیح بنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی طرف سے منصوبے کی منظوری کے بعد ترقی کے ایک ںئے دور کی توقع رکھتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 52

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج