|

رمضان

پاکستان نے 60 شدت پسند تنظیموں کے رمضان میں عطیات اکٹھے کرنے پر پابندی لگا دی

جنگجو رمضان کے دوران کافی زیادہ تعداد میں پیسے اکٹھے کرتے ہیں، جو کہ عوام کی خیراتی فطرت کا غلط استعمال ہے۔

از عدیل سعید


ایک پاکستانی تنظیم گزشتہ اگست یادگار چوک میں زلزلہ متاثرین کے لیے عطیات جمع کرتے ہوئے۔ پاکستان نے حال ہی میں 60 انتہاپسند تنظیموں کے رمضان کے دوران عطیات اکٹھے کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ [عدیل سعید]

ایک پاکستانی تنظیم گزشتہ اگست یادگار چوک میں زلزلہ متاثرین کے لیے عطیات جمع کرتے ہوئے۔ پاکستان نے حال ہی میں 60 انتہاپسند تنظیموں کے رمضان کے دوران عطیات اکٹھے کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ [عدیل سعید]

پشاور - پاکستان نے شدت پسند تنظیموں کے زکوٰۃ، اور صدقۂ فطر یا فطرانہ، ایک عطیہ جو خصوصی طور پر صرف رمضان کے مہینے میں دیا جاتا ہے اکٹھا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

وزارتِ داخلہ نے 2 جون کو اعلان کیا، "حکومت نے پورے ملک میں تقریباً 60 کالعدم تنظیموں کو رمضان کے دوران فطرانہ یا صدقۂ فطر کے نام پر کسی بھی قسم کے عطیات جمع کرنے کی ممانعت کر دی ہے۔"

پابندی آمدِ رمضان سے قبل مؤثر ہو گئی تھی، جو کہ پاکستان میں 7 جون کو شروع ہوا تھا۔ اس فعل کے علاوہ، حکومت نے کوئی بھی عطیات آن لائن جمع کروانے کو روکنے کے لیے 60 کے قریب تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا۔

کالعدم تنظیموں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ ان میں لشکرِ طیبہ، سپاہ صحابہ پاکستان، حزب التحریر، القاعدہ اور بہت سی دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) کی جانب سے سنہ 2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق، چندہ جمع کرنے والی عسکری تنظیمیں زکوٰۃ، عشر اور فطرانہ کے دینی طور پر لازمی عطیات کو پسندیدہ ترین راستہ خیال کرتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رمضان کے دوران، جب متقی مسلمان صدقہ خیرات کرتے ہیں، عسکری گروہ اس میں سے اپنے غیر شرعی حصے کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے بیچ میں کود پڑتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سنہ 2005 میں پاکستان میں ہلاکت خیز زلزلے کے بعد، طالبان سے منسلک الرشید ٹرسٹ نے 950 ملین روپے (9.5 ملین ڈالر) پانچ ماہ میں جمع کیے تھے۔

الرحمت ٹرسٹ، عسکری گروہ جیش محمد کے ساتھ روابط رکھنے والی فلاحی تنظیم نے 600 ملین روپے (6 ملین ڈالر) اکٹھے کیے۔

دہشت گردی میں سرمایہ کاری کو روکنا

پاکستانی دفاعی تجزیہ کار امن و امان برقرار رکھنے کے لیے عسکریت پسندوں کے عطیات جمع کرنے کو بروقت روکنے کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔

پشاور کے مقامی صحافی اور دفاعی تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "کالعدم تنظیموں کے سرمایہ جمع کرنے کے تین بنیادی ذرائع ہیں۔ ان میں رمضان کے دوران زکوٰۃ اور فطرانہ جمع کرنا، عید الاضحیٰ پر قربانی کی کھالیں جمع کرنا اور بیرونِ ملک سے عطیات شامل ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پیسے کی ایک بڑی لائن کو روکنا ۔۔۔ ایک جاندار کے نظامِ تنفس کو روکنے کی طرح ہے۔ نتائج بہت نمایاں ہوں گے۔"

ایک پالیسی جو اسلام آباد نے دسمبر 2014 میں پشاور کے اندر دہشت گردوں کی جانب سے آرمی پبلک اسکول کے 150 سے زائد بچوں اور اساتذہ کے قتل عام کے بعد نافذ کی تھی کا حوالہ دیتے ہوئے عقیل نے کہا، "یہ فیصلہ [انسدادِ دہشت گردی] نیشنل ایکشن پلان [این اے پی] کے نفاذ کے تحت کیا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے پیسہ جمع کرنے کو روکنا این اے پی -- پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنا -- کے اہداف کے حصول میں ایک عملی اقدام ہے۔

پشاور کے ایک مقامی دفاعی تجزیہ کار اور باچا خان ٹرسٹ کے ڈائریکٹر، خادم حسین نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا، "ہر ترقی یافتہ ملک کے اصول ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ فلاحی ادارے کیسے پیسہ جمع کر سکتے ہیں، وہ اسے کہاں استعمال کر سکتے ہیں اور ان کے قابلِ اجازت مقاصد کیا ہیں۔"

حسین نے کہا کہ این اے پی کی شقوں میں سے ایک شق خیراتی اداروں کے افعال پر موجود پاکستانی قوانین کا اطلاق ہے۔

حسین نے کہا کیونکہ پاکستانی عوام مقدس مہینے کے دوران عطیات دینے کے بارے میں بہت جذباتی ہیں، انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی محنت کی کمائی کون حاصل کر رہا ہے۔

پولیس کی جانب سے کارروائی

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز، عباس مجید مروت نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ پولیس یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ پابندی برقرار رہے۔

انہوں نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ حفاظتی وجوہات کی بناء پر پورے پشاور میں تعینات پولیس افسروں کو رمضان کے دوران عطیات جمع کرنے کی نگرانی کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک، پشاور پولیس کو کالعدم تنظیموں کی جانب سے عطیات جمع کرنے کے مراکز بنانے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

این اے پی کسی بھی فرد کو مساجد، مدارس یا گاڑیوں میں نصب لاؤڈ اسپیکروں کو چندہ جمع کرنے کے مقصد سے استعمال کرنے سے بھی روکتا ہے۔

دوسری جانب، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور پولیس مقامی مارکیٹوں میں چھاپے مار رہے ہیں تاکہ ان دکانداروں کو گرفتار کیا جائے جو پیسے کا غیر قانونی لین دین کرتے ہیں۔ وہ گرفتاریاں خصوصی طور رمضان کے دوران غلط کاروں کو ہدف نہیں بناتیں بلکہ عسکریت پسندوں کے لیے سرمائے کو روکنے میں مدد کرتی ہیں۔

مروت نے شہریوں کو ترغیب دی کہ وہ کالعدم تنظیموں کے لیے عطیات جمع کرنے کے کسی بھی واقعہ کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔

پولیس حکام شہریوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ نقد عطیات دیتے وقت بہت زیادہ احتیاط کریں تاکہ ان کے عطیات درست ہاتھوں میں پہنچیں۔

مروت نے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا ایک معروف ریکارڈ رکھنے والے نامی گرامی فلاحی اداروں کو ہی عطیات دینے کی تجویز پیش کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج