|

امریکی جنرل نے سینٹ کے نام خط میں پاکستان، افغانستان کے بارے میں بات کی

پاکستان فارورڈ

واشنگٹن، ڈی سی -- لیفٹنٹ جنرل کینتھ ایف مکینزی جونیر جو کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی سربراہی کے لیے امریکی حکومت کے نامزد ہیں، نے امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کی کمیٹی کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کے تحریری جواب میں، افغانستان میں امن کے عمل میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بات چیت کی۔

مکینزی جن کی منظوری کی سماعت اس ہفتے ہو گی، نے افغان امن کی معاہدے کے اہم عناصر: افغانستان میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر پاکستان کی تشویش اور امریکہ اس تشویش کو رفع کرنے کے لیے کیا کر سکتا ہے، پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے "پاکستان کو ترجیحی ذمہ داری بنانے" کا عہد کیا۔

انہوں نے منگل (4 دسمبر) کی تاریخ کو لکھے جانے والے جواب میں کہا کہ "اس وقت، پاکستان بظاہر طالبان کی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے میں اپنا اثر و رسوخ مکمل حد تک استعمال نہیں کر رہا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ طالبان کو مستحکم، مصالحتی افغانستان کے ایک حصہ کی بجائے، انڈیا کے خلاف رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے"۔

انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان کے "قومی مفادات ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ علاقے میں مستقبل کے کسی بھی سیاسی سمجھوتے میں، جس میں سیاسی طور پر مستحکم افغانستان بھی شامل ہے، ان کو زیرِغور لایا جائے"۔

مکینزی نے کہا کہ کہ کی زیرِ قیادت، سینٹ کام "افغانستان کے تنازعہ کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا جس میں اس بات کو یقینی بنانا بھی شامل ہے کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں اسلام آباد کے حقوق کو تسلیم کیا جائے"۔

مکینزی کی نامزدگی کو سینٹ کی تصدیق درکار ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج