|

دہشت گردی میں سرمایہ کاری کو کچلنے کے لیے ایف آئی کی جانب سے پشاور کی کرنسی مارکیٹ نشانہ

پاکستان فارورڈ

پشاور -- ڈان نے خبر دی ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ہفتہ (15 ستمبر) کے روز پشاور میں ایک کرنسی مارکیٹ کو سیل کر دیا۔

ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کے مبینہ مرکز، چوک یادگار کرنسی مارکیٹ کو نشانہ بناتے ہوئے ایک چھاپہ مارا۔

ڈان کے مطابق، ایف آئی کے ڈائریکٹر برائے کے پی (خیبرپختونخوا) زون میر واعظ نیاز نے کہا کہ ایف آئی اے نے غیر قانونی ہنڈی اور حوالہ کے کاروباروں کو بند کرنے کے لیے چھاپہ مارا۔

ڈانے نے بتایا کہ "کل 26.8 ملین روپے (234،000 ڈالر) قبضے میں لیے گئے،" کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے 42 گرفتاریاں کیں اور 50 سے زائد دکانوں کو "اپنا متوازی بینکاری نظام چلانے میں ملوث ہونے" کی وجہ سے سیل کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا، "اس پیشے کا سراغ لگانا ناممکن ہوتا ہے اور اسے باآسانی دہشت گردی میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔"

جون میں، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی 'گرے لسٹ' میں رکھ دیا تھایہ معلوم ہونے پر کہ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستان کے کام میں "تزویراتی کمیاں" ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج