| جرم و انصاف

پاکستان کے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کے خلاف اقدامات

جاوید محمود


سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر محمد اشرف واتھرا (دائیں) اور برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر تھامس ڈرو نے بینک کے نئے جدید ترین ڈیٹا ٹریکنک سینٹر کا 10 فروری کو کراچی میں افتتاح کیا۔ بینک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری سے متعلقہ مالی لین دین کا کریک ڈاون کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خودکار عمل استعمال کیا جا رہا ہے جسے منشیات اور جرائم پر اقوامِ متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) نے بنایا ہے۔ ]جاوید محمود[

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر محمد اشرف واتھرا (دائیں) اور برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر تھامس ڈرو نے بینک کے نئے جدید ترین ڈیٹا ٹریکنک سینٹر کا 10 فروری کو کراچی میں افتتاح کیا۔ بینک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری سے متعلقہ مالی لین دین کا کریک ڈاون کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خودکار عمل استعمال کیا جا رہا ہے جسے منشیات اور جرائم پر اقوامِ متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) نے بنایا ہے۔ ]جاوید محمود[

کراچی - پاکستان منی لانڈرنگ کے انسداد کے نئے ڈیٹا ٹریکنک سینٹر کے ذریعے دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کے خلاف کریک ڈاون کر رہا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے نیا سینٹر اپنے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) میں، منشیات و جرائم پر اقوامِ متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) اور برطانیہ کے شعبہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) کے تعاون سے قائم کیا ہے۔

ایس بی پی کے گورنر اشرف واتھرا، برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر تھامس ڈرو اور یو این او ڈی سی کے پاکستان میں نمائںدے سیزر گواڈیس نے 10 فروری کو کراچی میں نئے سینٹر کا افتتاح کیا۔

ایس بی پی کے ڈیٹا ٹریکنک سینٹر نے یو این او ڈی سی کا خصوصی سافٹ ویئر، جو کہ گواے ایم ایل کہلاتا ہے، نصب کیا جس کا مقصد دہشت گردوں کے لیے سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کا انسداد کرنا ہے۔

ایس بی پی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سافٹ ویئر ان جرائم سے متعلقہ مشکوک مالی لین دین کا خودکار طریقے سے پتہ چلاتا ہے اور اس کے بارے میں رپورٹ کرتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ قبل ازیں، ایف ایم یو کی طرف سے رپورٹ کردہ اعداد و شمار کا تجزیہ ہاتھ سے کیا جاتا تھا جوکہ سست عمل تھا اور اس میں غلطی کا امکان ہوتا تھا۔

ایس بی پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "اب، نئے ڈیٹا سینٹر میں نصب کیے جانے والے کسٹم شدہ سافٹ ویئر اور انتہائی درستگی والے سامان سے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے لیے مشکوک لین دین اور کرنسی کے لین دین کی زیادہ قوی، نفیس اور خودکار طریقے سے نگرانی ممکن ہو سکے گی"۔

علاوہ ازیں، اس سے ایف ایم یو مالی انٹیلیجنس کو زیادہ موثر طریقے سے قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں کو مہیا کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

غیر قانونی مالی لین دین کی حوصلہ شکنی کرنا

ماہرِ اقتصادیات اور اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اسکول برائے سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز کے ڈین، ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ "یہ ایس بی پی کا ایک اچھا قدم ہے اور یہ پاکستان کی کئی سالوں سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کے لیے جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تاہم ٹریکنک کا نیا سینٹر صرف بینکوں سے متعلق قانونی لین دین کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ روایتی ہنڈی نظام کی نگرانی نہیں کرتا جو کہ بینکاری کے متوازی چلنے والا نظام ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری زیادہ تر ہنڈی یا حوالے کے نظام کے ذریعے کی جاتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ بینکاری کے نظام کی نگرانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ، کئی صدیوں پرانے ہنڈی کے نظام کو بھی ختم کرنے کے لیے کوششیں کی جانی چاہیں"۔

خان نے یہ بھی تجویز کیا کہ ایس بی پی، انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں غیر ضروری فرق کو مٹانے کے لیے کرنسی ایکسچینج کے نرخوں پر کنٹرول کو سخت کرنے کے لیے اپنی پالیسی کی سمت بدل رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگر پاکستانی روپے کے خلاف ڈالر یا دوسری کرنسیوں کا ایکسچینج ریٹ دو روپے سے زیادہ بڑھتا ہے تو اس سے ہنڈی نظام کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کی درآمد کو فروغ ملے گا۔

ٹیکنالوجی سے نگرانی کو بہتر بنانا

کراچی کے دی فنانشل ڈیلی کے مدیر اور ایس بی پی کے مالی منڈیوں کی حکمت عملی اور عمل کے شعبہ کے سابقہ ڈائریکٹر محمد عارف نے کہا کہ "بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی سرمایہ کاری کی افرادی طور پر نگرانی کے ماضی میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں"۔

"اسی لیے ایس بی پی نے یو این او ڈی سی اور ڈی ایف آئی ڈی کی مدد سے جدید سافٹ ویئر حاصل کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ نیا ڈیٹا سینٹر ایس بی پی اور مقامی بینکوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مشکوک لین دین کا پتہ لگا سکیں اور ان کے بارے میں مزید اقدامات کرنے کے لیے تفتیش کی جا سکے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ماضی میں، پاکستان کے بینکاری کے نظام کے پاس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کی نگرانی کے لیے فول پروف نظام موجود نہیں تھا مگر نیا ڈیٹا سینٹر بینکوں کو ایسی ناپسندیدہ بینکاری سے محفوظ رکھے گا"۔

انہوں نے کہا کہ ایس بی پی اور مقامی بینکوں کو نئے ڈیٹا سینٹر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے باہمی طور پر تعاون کرنا چاہیے اور بینکوں کے متعلقہ عملے کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی سرمایہ کاری سے متعلق لین دین کا پتہ لگانے اور اس کا تجزیہ کرنے کی تربیت دینی چاہیے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ہنڈی اور حوالہ نظام کے پیچھے موجود لوگوں کو پکڑے۔

سرمایے کی قانونی منتقلی کا فروغ

نیشنلبینک آف پاکستان (این بی پی) نے پہلے ہی حالیہ مہینوں میں بہت سے اقدامات کیے ہیں تاکہ ترسیلات زر کو فروغ دیا جا سکے اور حوالہ نظام کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ یہ بات این بی پی کے نائب صدر سید ابن حسن نے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ نیا ڈیٹا سینٹر اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ قانونی ذریعوں سے رقم بھیجیں اور ایسے نظاموں کو استعمال نہ کریں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کو چھپاتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اب، نئے ٹریکنک سسٹم کے ساتھ، ایس بی پی اور دوسرے ملکی بینک یقینی طور پر قانونی رقم کی ترسیل کے لیے باضابطہ بنیکاری نظام کو استعمال کرنے اور غیر قانونی لین دین کی تمام قسموں کی حوصلہ شکنی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

4
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha