| سلامتی

کراچی پولیس نے افسران کو ہدف بنانے والے عسکریت پسندوں پر نظریں جما لیں

ضیاء الرّحمٰن


17 جون کو کراچی میں پولیس اور سرکاری عہدیدار شہید پولیس افسر کی تدفین میں شریک ہیں ۔ [کراچی پولیس]

17 جون کو کراچی میں پولیس اور سرکاری عہدیدار شہید پولیس افسر کی تدفین میں شریک ہیں ۔ [کراچی پولیس]

کراچی – کراچی میں پولیس عسکریت پسندی سے لڑائی اورشہر میں امن برقرار رکھے ہوئے، سیکیورٹی عملہ کو قتل کرنے میں ملوث شورشیوں کو ہدف بنارہی ہے۔

2019 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ، شہر بھر میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے 10 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین واقعات میں، 17 جون کو قبل از سحر اورنگی ٹاؤن کے علاقہ میں دو پولیس اہلکار قتل کر دیے گئے۔ کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔


سندھ پولیس کے سربراہ سید کلیم امام 21 جون کو کراچی میں ایک زخمی پولیس اہلکار سے ملاقات کر رہے ہیں۔ [کراچی پولیس]

سندھ پولیس کے سربراہ سید کلیم امام 21 جون کو کراچی میں ایک زخمی پولیس اہلکار سے ملاقات کر رہے ہیں۔ [کراچی پولیس]

3 جولائی کو کراچی پولیس نے کالعدم لشکرِ جھنگوی گروہ، جو قبل ازاں شہر میں پولیس عملہ کو قتل کرتا رہا ہے، سے منسلک ایک خاتون سمیت دو عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا۔ یہ جوڑا اورنگی ٹاؤن میں پولیس افسران کو قتل کرنے کا ملزم ہے۔

پولیس نے ایک سولین انٹیلی جنس ایجنسی کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ چھاپہ مارتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا اور دو پستول اور دو دستی بم بازیاب کرائے۔

کراچی کے مشرقی خطے کے پولیس سربراہ عامر فاروقی نے کہا کہ گرفتار شدگان کا تعلق شیخ ممتاز، جو کہ فرعون کے نام سے بھی معروف ہے، کی قیادت میں LeJ کے ایک دھڑے سے ہے، اور یہ بطورِ خاص کراچی کے مغربی ضلع میں پولیس کے قتل میں ملوث ہیں۔

فاروقی نے جیل کے دو مفرورین، LeJ کے رکن ممتاز (جو شیخ ممتاز نہیں) اور احمد خان، عرف منّا کی اورنگی ٹاؤن میں "پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث" کے طور پر نشاندہی کی۔

حالیہ سانحہ پولیس کی جانب سے جون میں صوبہ سندھ کے لیےبرِّ صغیر ہند میں القاعدہ (AIQS), including کے سربراہ سمیت تین دہشتگردوں کو ہلاککیے جانے کے بعد پیش آیا۔

پولیس نے کہا کہ ان دہشتگردوں نے ہمسایہ ضلع حیدرآباد میں متعدد پولیس اہلکاروں کے قتل کی منصوبہ سازی کی تھی۔

پولیس اہلکار ہدف

LeJ، AIQS، "دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام" (ISIS) اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) سمیت طویل عرصہ سے بطورِ خاص کراچی میں پاکستانی پولیس اور نفاذِ قانون کے دیگر عملہ کو ہدف بناتے رہے ہیں۔

کراچی میں انسدادِ دہشتگردی کے ایک اعلیٰ پولیس افسر راجہ عمر خطاب نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے سڑک کنارے پولیس افسران پر حملے کیے اور پولیس ویگنوں اور افسران کی رہائشوں پر اس وقت حملے کیے جب وہ ڈیوٹی پر نہ تھے۔

ستمبر 2013 میں کراچی میں ایک بڑے کریک ڈاؤن کے آغاز سے قبل بطورِ خاص مغربی ضلع پولیس کے لیے خطرناک تھا۔

2013 میں صورتِ حال بد ترین تھی جب شہر میں 166 پولیس اہلکار قتل ہو گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر TTP کے ہاتھوں ہوئے۔

اس وقت TTP کی ہٹ لسٹ میں کراچی میں اس کے کلیدی کمانڈروں سمیت متعدد عکسریت پسندوں کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں میں ملوث پولیس افسران شامل تھے۔

مثال کے طورTTP کے خلاف اپنی کاوشوں کے لیے معروف، انسدادِ دہشتگردی کے ایک سنیئر پولیس آفیسر چودھری اسلم 2014 میں ایک بم حملے میں شہید ہوئے۔ قبل ازاں وہ قتل کی متعدد کوششوں میں بچ گئے۔

خطاب کے مطابق، پولیس افسران کے قتل کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف بڑھی ہوئی کاروائی کے ساتھ ہی واقع ہوئے۔

خطاب نے ایک الگ انٹرویو میں کہا، "وہ [عسکریت پسند] پولیس کا حوصلہ پست کرنے اور پولیس کو دہشت زدہ کرنے کے لیے انہیں ہدف بناتے ہیں، اور اسی لیے وہ کراچی میں موٹرسائیکلوں پر آتے ہیں اور دو یا تین پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے کے بعد فرار ہو جاتے ہیں۔"

عسکریت پسندی کی انسداد

نفاذِ قانون کے عملہ کو خطرہ کے باوجود، کراچی پولیس شہر میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک پر کریک ڈاؤن کے لیے پر عزم ہے۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد جو 2013 میں 166 تھی، 2018 میں کم ہو کر آٹھ رہ گئی۔

2017 میں کراچی کے محکمہٴ انسدادِ دہشتگردی نے 2017 میں متعدد پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ایک عسکریت پسند گروہ انصار الشریعہ پاکستان (ASP) کے کلیدی رہنما کو گرفتار کرتے ہوئے اس گروہ کو تباہ کر دیا۔

درایں اثناء، مارچ 2018 میں حکومتِ سندھ نے قتل ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کا مالی معاوضہ 5 ملین روپے سے بڑھا کر 10 ملین روپے (32,000 ڈالر سے 64,000 ڈالر) کر دیا۔

محکمہٴ داخلہ سندھ کے اہلکار جنہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں، نے کہا کہ، "اس کا مقصد پولیس فورس کی قربانیوں کا اعتراف تھا، جنہوں نے نیم فوجی رینجرز کے ساتھ مل کر سندھ، بطورِ خاص کراچی میں، امنِ عامہ کی صورتِ حال بہتر کرنے میں مدد دی۔"

بنارس میں کام کرنے والے ایک پولیس اہلکار عبداللہ شاہ نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ ایک پولیس اہلکار کے طور پر کام کرنا خطرناک ہے، لیکن ہم۔۔۔ شہر کو امن مخالف عناصر سے بچانے کے لیے کمر بستہ ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کے بہیمانہ قتل ان کے عزم کو متزلزل نہیں کریں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha