http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/05/31/feature-01
| دہشتگردی

شام میں سقوطِ داعش کے 2 ماہ بعد بھی خطرات کی بہتات

اے ایف پی اور پاکستان فارورڈ

داعش نے اپنے جنگجوؤں کی یہ تصور 23 مئی کو ٹیلیگرام میں پوسٹ کی تھی۔ [فائل]

سلیپر سیل، جیلیں انتہاپسندوں سے بھرے پڑے ہیں، کیمپ ان کی بیویوں اور بچوں سے اٹے پڑے ہیں -- "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کو شکست خوردہ قرار دیئے جانے کے دو ماہ بعد بھی، شام میں خطرات کی بہتات ہے۔

دہشت گرد تنظیم کے خلاف لگ بھگ پانچ سالہ جنگ کے بعد، امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے 23 مارچ کوداعش کی نام نہاد "خلافت" کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

طبعی علاقے کے خاتمے نے جنگ میں ایک طویل باب بند کر دیا ہے، مگر شامی جمہوری قوتوں (ایس ڈی ایف) اور اس کی پشت پناہی کرنے والی اتحادی افواج نے متنبہ کیا ہے کہ لڑائی اپنے خاتمے سے ابھی بہت دور ہے۔

داعش نے اپنے جنگجوؤں کی یہ تصویر 4 اپریل کو ٹیلیگرام میں ہومس، شام میں ایک حملے کا دعویٰ کرنے کے بعد پوسٹ کی تھی۔ [فائل]

فلورنس، اٹلی میں یورپین یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ میں انتہاپسند تحریکوں کے ایک محقق، تورے ہیمنگ نے کہا کہ داعش ابھی بھی "ہفتہ وار بنیادوں پر باقاعدگی سے حملے کرنے" کے قابل ہے۔

حتیٰ کہ بغوز گاؤں میں اپنے علاقے کا آخری ٹکڑا کھو دینے کے بعد بھی، انتہاپسندوں کی شام کے وسیع صحرا میں موجودگی اور ملک میں کہیں کہیں پناہ گاہیں برقرار ہیں۔

وہبظاہر افغانستان، پاکستان اور ہندوستان پر بھی بطور ایسی جگہ نظریں لگائے بیٹھے ہیں جہاں وہ دوبارہ منظم ہو سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش کے 2،500 اور 4،000 کے درمیان ارکان موجود ہیں۔

مئی میں، داعش نے "صوبہ پاکستان" بنانے کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کی "صوبہ ہند" شاخ نے ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی فوج پر حملہ کیا تھا۔

'نشوونما کے مقامات'

سینٹر فار نیو امریکن سیکیورٹی کے ایک تجزیہ کار، نکولس ہیرس نے تنبیہ کی ہے کہ داعش "مقامی حمایت کے نیٹ ورکس" میں ابھی بھی کافی جگہ کی حامل ہے۔

انہوں نے کہا، "دوبارہ نشوونما کے لیے داعش کی حکمتِ عملی کا ایک بڑا جزو یہ ہے کہ یہ مشرقی شام اور مغربی عراق میں چند مقامی قبائل میں مضبوط روابط رکھنا جاری رکھے ہوئے ہے۔"

جبکہ حکومت اور امریکی پشت پناہی کی حامل افواج دونوں ہی داعش کے بھاگتے ہوئے سلیپر سیلز کا شکار کرنے کی متلاشی ہیں، شمال مشرقی شام میں کرد حکام کو ایک اور بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔

ہزاروں مبینہ انتہاپسند جنگجو ۔۔ بشمول سینکڑوں غیر ملکی ۔۔ اب کردوں کی جانب سے چلائی جا رہی جیلوں میں قید ہیں، جبکہ ان کے رشتہ دار بے گھروں کے لیے بنائے گئے انتہائی بھیڑ زدہ کیمپوں میں مقیم ہیں۔

ان کی تعداد نے نیم خودمختار کرد انتظامیہ کے لیے ایک بڑی سر دردی پیدا کر دی ہے، جو اب مشتبہ انتہاپسندوں کے خلاف مقدمات قائم کرنا چاہتی ہے۔

سنہ 2014 کے بعد سے، داعش کے جنگجوؤں کو سر قلم کرنے، قتلِ عام کرنے، زنابالجبر، اغواؤں اور نسل کشی کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

وہ بدکاری کی ملزم خواتین کو سنگسار کرنے اور ہم جنس پرستوں کو بلند و بالا عمارات کی چھتوں سے کودنے پر مجبور کرنے کے ملزم ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، جبکہ بہت سے انتہاپسند اب زیرِ حراست ہیں، وہ ابھی بھی خطرہ ہیں۔

12 اپریل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں صوفان مرکز نے کہا، "یہ حراستی مراکز تعصب پسندی کے لیے نشوونما کے مقامات بن رہے ہیں۔"

تنظیم، جو دفاعی تجزیات میں خصوصی مہارت کی حامل ہے، نے کہا، "داعش کی جانب سے جیل توڑنے کی کوششوں کا بھی بڑا خطرہ موجود ہے۔"

ہیمنگ نے کہا، "نہ تو شام کے پاس اور نہ ہی عراق کے پاس وسائل اور سیاسی استحکام ہے جو اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو مناسب طریقے سے سنبھال سکے۔"

'مستقبل کے دہشت گرد'؟

بہت سی مغربی ریاستوں کی جانب سے اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کے بعد، کرد حکام بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ نئے زیادہ حفاظت والے حراستی مراکز تشکیل دینے اور ان کی حفاظت کرنے میں مدد کی جائے۔

تاہم، حال ہی میں بہت سے ممالک نے سینکڑوں شہریوں کو واپس لے لیا ہے۔

حکام نے کہا کہ شمال مشرقی شام میں کرد حکام نے بدھ (29 مئی) کے روز داعش کے ساتھ منسلک 148 ازبک خواتین اور بچوں کو واپسی کے لیے ازبک سفارتکاروں کے حوالے کیا تھا، جس میں 300 سے زائد ازبکوں کو گھر بھیجا جانا طے شدہ تھا۔

قازقستان نے 10 مئی کو اپنے 231 شہریوں کا شام سے انخلاء کیا تھا، جن سے زیادہ تر بچے تھے، جو خود سفر کر کے داعش میں شامل ہونے کے لیے آئے تھے یا انہیں لایا گیا تھا۔

یہ انخلاء جنوری میں اسی طرح کی ایک اور کارروائی کے بعد ہوا تھا جس میں 47 قازق اپنے ملک واپس گئے تھے، جن میں سے چند ایک کو بعد ازاں انتہاپسندی سے منسلک جرائم کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

شام کے کرد بے گھروں کے لیے قائم کردہ کیمپوں کے لیے بھی بہت زیادہ اعانت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جہاں داعش کے خلاف جنگ سے فرار ہونے کے بعد دسیوں ہزاروں افراد جمع ہو گئے تھے۔

کیمپوں میں 12،000 غیر ملکی مقیم ہیں -- 4،000 خواتین اور 8،000 بچے -- جنہیں زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔

ان کیمپوں میں سے سب سے بڑے الہول کیمپ، میں آبادی کو بڑھ کر 73،000 نفوس ہوتے دیکھا گیا ہے، جس میں اتنی بڑی آبادی کے نتیجے میں خراب ہوتے ہوئے حالات دیکھے گئے ہیں۔

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے کیمپ میں موجود بچوں میں شدید غذائی قلت، نمونیا اور پانی کی کمی ہونے کی شکایت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ دسمبر کے بعد الہول کیمپ میں لائے جانے کے راستے میں یا پہنچنے کے تھوڑی ہی دیر بعد پانچ سال سے کم عمر 211 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

صوفان مرکز نے انتباہ کیا ہے کہ انسانی بحران کو بھرتی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ داعش "کے جنگجو ان کیمپوں میں ہونے والی تکالیف کو اپنی تنظیم کی حیاتِ نو کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

مبینہ غیر ملکی جنگجوؤں کے بچوں کے لیے، شامی کرد خارجہ امور کے چوٹی کے اہلکار عبدالکریم عمر نے کہا، "اگر ان بچوں کو گھر نہیں بھیجا جاتا، دوبارہ تعلیم نہیں دی جاتی اور معاشرے میں دوبارہ ضم نہیں کیا جاتا، تو یہ مستقبل کے دہشت گرد بن جائیں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha