http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/03/23/feature-01
| دہشتگردی

داعش شام میں آخری علاقے سے محروم اور اس کی نام نہاد خلافت بکھر گئی

سلام ٹائمز اور اے ایف پی

اس ویڈیو میں 18 مارچ 2019 کو باغوز، شام میں گروپ کی نام نہاد خلافت کے آخری لمحات کی عکاسی کی گئی ہے جب وہ امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز سے ان کے واحد باقی رہ جانے والے علاقے میں جنگ کر رہی ہیں۔

باغوز، شام -- ہفتہ (23 مارچ) کو، مشرقی شام سے کٹر لڑاکوں کا ان کے آخری مورچے سے خاتمہ کرنے کے بعد، امریکہ کی زیرِ قیادت بین الاقوامی اتحاد نے "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی نام نہاد خلافت کی ہلاکت کا اعلان کیا۔

امریکی فوج کے لیفٹینٹ جنرل پال لاکمیرا، کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس- آپریشن انہرینٹ ریزولو کے کمانڈنگ جنرل نے کہا کہ "نام نہاد طَبعی خلافت کا خاتمہ ایک تاریخی عسکری کامیابی ہے جس نے تاریخ میں سب سے بڑے اتحاد کو اکٹھا کیا مگر داعش اور متشدد انتہاپسندی کے خلاف جنگ ابھی خاتمے سے بہت دور ہے"۔

امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے جنگجوؤں نے باغوز میں اپنا پیلا جھنڈا لہرایا جو کہ دریا کے کنارے واقع ایک دورافتادہ گاؤں ہے جہاں مختلف قومیتوں کے باقی رہ جانے والے جنگجوؤں نے آخری مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔

کردوں کی زیرِ سربراہی لڑنے والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا ایک سپاہی 20 مارچ کو باغوز، شام میں داعش کی آخری باقیات کے خاتمے سے پہلے، نوروز کی تقریبات کے دوران الاؤ کے سامنے کھڑا ہے۔ ]جیوسیپی کیسی/ اے ایف پی[

شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ جنگ کے دوران باغوز، شام میں 18 مارچ کو "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی آخری پوزیشن سے گہرا دھواں اٹھ رہا ہے۔ تباہ شدہ پُل پر فضائی حملے نے داعش کے جلتے ہوئے آخری مورچوں میں، لوگوں کو گاڑیوں اور خیموں کے درمیان بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ]دلیل سلیمان/ اے ایف پی[

امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) 23 مارچ کو باغوز، شام میں، دولتِ اسلامیہ (داعش) کی باقیات کا گاوں سے خاتمہ کرنے کے بعد، اپنا جھنڈا لہرا رہی ہیں۔ کرد زیرِ قیادت فورسز نے، انتہائی کٹر جہادیوں کو ان کے آخری بُرج سے بھگانے کے بعد، داعش کی تقریبا پانچ سال پرانی خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا۔ ]جیوسیپی کیسی/ اے ایف پی[

ایس ڈی ایف کی فتح نے، دہشت گرد گروہ، جو کسی زمانے میں عراق اور شام کے بڑے علاقے پر پھیلا ہوا تھا اور سات ملین لوگوں پر حکمرانی کر رہا تھا، کے علاقے کی آخری باقیات کے خلاف جاری چھہ ماہ طویل ہلاکت خیز آپریشن کو ختم کیا۔

ہفتہ کو کیا جانے والا اعلان ایک ایسی جنگ میں علامتی تاریخ کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے علاقے کی شکل بدل دی اور عالمی سطح پر دہشت گردانہ حملوں کے ایک سلسلے کو جنم دیا۔

لاکمیرا نے کہا کہ "یہ ہمارے لیے اہم ہے کہ ہم ان لوگوں کو یاد رکھیں جو داعش کے خلاف جنگ میں ہلاک ہوئے۔ اس چار سالہ مہم کے دوران، ایس ڈی ایف اور عراقی سیکورٹی فورسز کے ہزاروں ارکان اپنے خاندانوں کے پاس واپس نہیں لوٹے۔ میں آپ کے ہلاک ہو جانے والوں کے لیے اور آپ کے زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں"۔

ال عمر میں، حملے کے آخری مرحلے میں، ایک آئل فیلڈ کو ایس ڈی ایف کے پڑاؤ کی مرکزی بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، جنگوؤں نے تھکاوٹ کے عالم میں اپنے ہتھیار نیچے رکھے اور وہ گانا گانے اور رقص کرنے لگے۔

ایک تقریب جس میں اعلی کرد فوجیوں اور حکام نے شرکت کی تھی، جب شروع ہوئی تو اس میں فوجی بینڈ نے قومی ترانے بجائے جس میں"سٹار سپینگلڈ بینر" بھی شامل تھا۔

دہشت کی ٹائم لائن

داعش کے راہنما ابوبکر البغدادی نے 2014 کے وسط میں، گروہ کے عراق اور شام میں شورش سے پھل پھولنے کے بعد، اپنی ابتدائی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے الرقہ، شام کو اپنا ڈی فیکٹو دارالحکومت بنایا۔ اس شہر میں، داعش نے لوگوں کے سر قلم کیے، قتلِ عام کیا، عصمت دری، اغوا اور نسلی صفایا کیا۔ اس نے بدچلنی کے شبہ میں عورتوں کو سنگسار کیا اور ہم جنس پرستی کے ملزموں کو ذبح کیا۔

بہت سے مظالم کو ویڈیو پر نشر کیا گیا جسے جہادیوں نے اسے اس وقت کی اچھی سرمایہ شدہ پروپیگنڈا مشین کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

عراق میں، داعش نے سنجار علاقے میں یزیدی اقلیت کے تاریخی گھر پر قبضہ کر لیا اور نوجوان بچوں کو سپاہیوں کے طور پر بھرتی کیا اور ہزاروں عورتوں کو پکڑ کر جنسی غلام بنایا -- یہ انسانی حقوق کے استحصال اور جنگی جرائم کی وہ چند مثالیں ہیں، جس کا اس گروہ نے ارتکاب کیا۔

اگست 2014 میں، امریکہ کے جنگی جہازوں نے شمالی عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ پھر واشنگٹن نے اس گروہ سے عراق اور شام میں لڑنے کے لیے 70 سے زیادہ ممالک کا ایک اتحاد بنایا اور سارے علاقے میں 5,000 فوجیوں کو تعینات کیا گیا۔

داعش کے خلاف جنگ 2017 میں ایک اہم موڑ پر آ گئی جب عراق اور شام میں ایک متوازی حملے میں اس کے مرکزی گڑھ، موصل اور الرقہ کو واپس حاصل کر لیا۔

داعش کی باقیات کی طرف سے منتظم کیے جانے والے علاقے میں ہر مہینے میں کمی آتی گئی اور گزشتہ ستمبر میں ایس ڈی ایف نے "خلافت" کے الفرات وادی میں اس کے مضبوط گڑھوں، کے آخری مورچوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔

ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں نے گزشتہ ہفتے داعش کے آخری جنگجوؤں کو نکال باہر کیا جنہوں نے باغوز کے کنارے پر آخری پڑاؤ سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تھا اور اس وقت سے وہ ان چند بچ جانے والوں کا تعاقب کر رہی تھی جو الفرات کے سرکنڈوں سے اٹے کناروں میں چھپے ہوئے تھے۔

دورِ جدید کے سب سے زیادہ سفاک جہادی گروہ کے خلاف تقریبا پانچ سال کی لڑائی نے ہزاروں سال پرانے شہروں کو کھنڈرات میں بدل دیا اور پوری کی پوری آبادی کو بے گھر کر دیا۔

ابھی بھی ایک خطرہ

ایس ڈی ایف کی طرف سے باغوز کو واپس لینا داعش کی ریاست کا اختتام ہے مگر جہادی ابھی بھی ایک خطرہ ہیں۔

لاکمیرا نے کہا کہ "یہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہ کریں کہ داعش اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے نہایت سوچ سمجھ کر اپنے تنزل پذیر عملے اور صلاحیتوں میں سے جو بچ گیا ہے اسے محفوظ رکھنے کے لیے اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے افراد کے کیمپوں میں اپنی قسمت آزمانے اور دوردراز کے علاقوں میں زیرِ زمین جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ دوبارہ ابھر آنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں"۔

داعش کے وہ جنگجو جو سکڑتے ہوئے علاقے سے بر وقت فرار ہو گئے تھے اور جنہوں نے اپنے گروہ دوبارہ منظم کر لیے تھے وہ پہلے سے ہی عراق میں اپنی پناہ گاہوں کو دوبارہ سے قائم کر رہے ہیں۔

یہاں تک کہ پینٹاگان نے بھی حالیہ رپورٹ میں متنبہ کیا کہ داعش پر مسقتل انسدادِ دہشت گردی کے دباؤ کے بغیر، جہادیوں کو چند مہینوں میں ہی کچھ علاقوں پر دوبارہ دعوی کرنے کا موقع مل جائے گا۔

لاکمیرا نے آخیر میں کہا کہ "ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خالی عسکری مہمات سے کامیابی یقینی نہیں ہو گی اور داعش کی پائیدار شکست کے لیے مدد کی حمایت جاری رکھیں گے۔ عراق اور شمالی شام کے لیے بین الاقوامی امداد داعش کی دائمی شکست کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم ان کے نظریات کی شکست کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کر دیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
8
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 04-07-2019

بہت زیادہ

جواب