| معاشرہ

نئے مسودۂ قانون میں اسلام آباد میں شادی کی عمر بڑھانے کی کوشش

از اشفاق یوسفزئی


ایک پولیس اہلکار (درمیان میں) 31 اکتوبر 2008 کو کراچی میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ایک کم عمر لڑکی اور لڑکے کے رشتہ داروں کو لے جاتے ہوئے۔ پولیس نے کراچی کے علاقے ناظم آباد میں جوڑے کے باپوں اور ایک شادی رجسٹرار کو گرفتار کر لیا تھا۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

ایک پولیس اہلکار (درمیان میں) 31 اکتوبر 2008 کو کراچی میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ایک کم عمر لڑکی اور لڑکے کے رشتہ داروں کو لے جاتے ہوئے۔ پولیس نے کراچی کے علاقے ناظم آباد میں جوڑے کے باپوں اور ایک شادی رجسٹرار کو گرفتار کر لیا تھا۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

اسلام آباد -- حکومتِ پاکستان شادی کی عمر بڑھانے جا رہی ہے، ایک ایسی اصلاح جس کی تعریف کارکنان اور سرکاری حکام کی جانب سے کم عمری میں شادی کی رسم کے خلاف ایک بڑے اقدام کے طور پر کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں شادی کے قابل ہونے کی کم از کم عمر کو بڑھا کر 18 سال کرنے کا ایک مسودۂ قانون 6 مارچ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران پارلیمان میں سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا۔

مسودۂ قانون میں بچپن میں شادی کی ممانعت کے قانون مجریہ 1929، جو کہ ایسا وفاقی قانون ہے جو لڑکیوں کے لیے شادی کی عمر کی حد 14 سال مقرر کرتا ہے میں ایک ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے پہلے سنہ 1961 میں ایک آرڈیننس کے ذریعے اسے بڑھا کر 16 سال کر دیا گیا تھا۔


جولائی کے مہینے میں ٹھٹھہ میں بچے اپنے والدین کے ساتھ کھیلتے ہوئے۔ ایک مسودۂ قانون میں اسلام آباد کے اندر شادی کی عمر بڑھا کر 18 سال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ [آمنہ ناصر جمال]

جولائی کے مہینے میں ٹھٹھہ میں بچے اپنے والدین کے ساتھ کھیلتے ہوئے۔ ایک مسودۂ قانون میں اسلام آباد کے اندر شادی کی عمر بڑھا کر 18 سال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ [آمنہ ناصر جمال]

کمیٹی نے 31 جنوری کو یہ بل متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن، شیری رحمان نے پارلیمان کو بتایا، "قانون میں ترمیم دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے تک وسیع ہو گی اور، اگر منظور ہو گیا، تو یہ 18 سال سے کم عمر کسی بھی فرد کو بچے کے درجے میں شمار کرے گا۔"

انہوں نے کہا، "یہ قانون 18 سال سے پہلے شادی کرنے پر پابندی عائد کرے گا اور اسے ایک قابلِ تعزیر اور ناقابلِ معافی قانون قرار دے گا۔ سندھ میں سنہ 2014 میں پہلے ہی ایسا ایک قانون منظور ہو چکا ہے جو شادی کی رضامندی دینے کی عمر 18 سال مقرر کرتا ہے، لہٰذا ہم پُر امید ہیں کہ اس سے دیگر صوبوں کو بھی ایک مثبت پیغام ملے گا۔"

وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت اس مسودۂ قانون کی حمایت کرتی ہے کیونکہ یہ پاکستانی لوگوں کے حق میں اچھا ہے۔

31 جنوری کو انہوں نے سینیٹ میں کہا تھا، "ہم خواتین اور بچوں کی بہبود کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔"

بچپن میں شادی کی رسم کو اکثر تنازعات کے حل کے فرسودہ طریقوں سے منسلک کیا جاتا ہے، اور یہ پابندی غالباً درینہ عداوتوں کو حل کرنے کے دیگر، زیادہ مثبت طریقوں کی بھی حوصلہ افزائی کرے گی۔

'خدا کے عطاء کردہ انسانی حقوق'

خیبرپختونخوا (کے پی) میں بچپن کی شادیوں کے خاتمے کے لیے صوبائی اتحاد کے رابطۂ کار، قمر نسیم نے نئے مسودۂ قانون کا خیرمقدم کیا اور اسے نوجوان بچیون کے تحفظ میں ایک حوصلہ افزاء قدم قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "جلدی اور جبری شادی خدا کے عطاء کردہ انسانی حقوق، نیز اسلام میں شادی اور خاندان کی حرمت کی خلاف ورزی ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ میں عقیدے اور مذہب کے کردار، اور عقیدہ بچپن میں، جلدی اورجبری شادیوںکی روک تھام میں کیسے مدد کر سکتا ہے، پر ایک مکالمے کا آغاز کرنے کا وقت ہے۔"

پاکستان اقوامِ متحدہ (یو این) کے استحکام پذیر ترقیاتی اہداف کا دستخطی ہے اور اس نے سنہ 2030 تک بچپن میں شادی کے خاتمے کا عہد کر رکھا ہے۔

نسیم نے کہا کہ شادی کی کم سے کم عمر میں اضافہ کرنا "بچپن میں شادی کینقصان دہ رسم اور اس کے اثراتکے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ کے پی میں ایک مسودۂ قانون پاس ہو" بچپن میں شادی کے متعلق "جو کہ گزشتہ 10 برسوں سے زیرِ التوا رہا ہے، اور ہم پنجاب سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ شادی کے لیے کم از کم عمر بڑھا کر 18 سال کرے۔ پنجاب نے ایک قانون منظور کیا ہے، لیکن صرف سزا میں اضافہ کیا گیا ہے۔"

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے بانیوں میں سے ایک، حنا جیلانی، نے مسودۂ قانون کی تعریف کی اور دیگر صوبوں سے اپنے اپنے قوانین میں پیش رفت کرنے کا مطالبہ کرنے میں نسیم کی تائید کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کے پی کے زیرِ التواء مسودہ ہائے قانون جو قانون بنایا جا سکتا ہے بشرطیکہ اسمبلیاں آئین کی دفعہ 144 کے تحت قراردادیں منظور کریں اور سینیٹ سے بھی قرارداد منظور کرنے کے لیے کہیں۔"

بچوں میں شرحِ اموات کا مددگار

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے مطابق، پاکستان میں تین فیصد لڑکیاں 15 سال اور 21 فیصد 18 سال کی ہونے سے پہلے بیاہ دی جاتی ہیں۔

سنہ 2017 تا 2018 کے پاکستان کے صحت اور آبادیاتی سروے کے مطابق، کے پی میں لگ بھگ 15 فیصد کم عمر بیاہتا لڑکیاں 18 سال کی عمر سے قبل ہی پہلے بچے کو جنم دیتی ہیں۔

ایک سابق ماہرِ امراضِ اطفال، پشاور کی مقامی سینیٹر مہر تاج روغانی نے کہا کہ بچپن میں شادیاںبچوں کی بلند شرحِ امواتاور بچوں کی سست نشوونما میں حصہ ڈالتی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مجوزہ قانون ان مسائل کو "روک سکتا ہے"۔ "یہ ایک نقصان دہ رسم ہے اور اس کے خواتین کی جسمانی اور دماغی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ شادی ناصرف ان کے حقوق کی ایک بار خلاف ورزی کرتی ہے ۔۔۔ اس کے نتائج عمر بھر کے لیے بھگتنے پڑتے ہیں۔"

پاکستان میں ماہرینِ امراضِ نسواں کی انجمن کی سیکریٹری، ڈاکٹر شاہین بیگم نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر اوائل عمری میں شادی ہو جائے تو نوجوان خواتین کو صحت کے مسائل درپیش ہونے کا غالب امکان ہوتا ہے، اور پاکستانیوں کو اس رسم سے وابستہ منفی اثرات کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "خواتین سے بچے پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی گھریلو ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ہم بچپن کی شادیوں پر مکمل پابندی چاہتے ہیں، اور معاشرے کو حساس ہونا چاہیئے کہ بچپن کی شادیاں "ایک منفی سماجی مظہر" ہیں۔

بیگم نے کہا کہ بچپن کی شادیوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ ایک پریشان کن حقیقت ہے۔ ہر کسی کو اس منفی اثر سے آگاہ ہونا چاہیئے جو بچپن کی شادیاں پاکستانی خاندانوں، خصوصاً ان کی صحت اور معیارِ زندگی پر مرتب کرتی ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha