|

صحت

پاکستان قبائلی اضلاع میں آگاہی اور تربیت سے شیر خوار بچوں کی اموات کو روکے گا

باجوڑ ایجنسی ڈسٹرکٹ کے ایک ہسپتال میں اگست میں قائم کیے جانے والے نئے ہنگامی زچگی مرکز کے قیام سے شیرخوار بچوں کی اموات کو کم کرنے کی امید میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک پریشان کن شرح پر واقع ہوتی ہیں۔

محمد آحل


صحت کے تجزیہ کاروں اور عملے کی ایک ٹیم، جس کی سربراہی ڈاکٹر غزنہ خالد کر رہی ہیں، اگست میں باجوڑ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرز ہسپتال کا دورہ کر رہی ہے۔ ]محمد آحل[

صحت کے تجزیہ کاروں اور عملے کی ایک ٹیم، جس کی سربراہی ڈاکٹر غزنہ خالد کر رہی ہیں، اگست میں باجوڑ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرز ہسپتال کا دورہ کر رہی ہے۔ ]محمد آحل[

پشاور -- اگست میں باجوڑ ایجنسی میں حکام کی طرف سے زچگی کا ایک وارڈ جو کہ زچگی کی جامع ہنگامی دیکھ بھال کی سہولت سے لیس ہے، کے قیام کے بعد سے قبائلی اضلاع کے شہری وفاقی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ شیرخوار بچوں کی خطرناک شرح سے جنگ کرنے میں مدد کرنے کے لیے صحت عامہ کی مزید سہولیات قائم کرے۔

بچوں کی شرحِ اموات کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی فروری میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں کم سن بچوں کی شرح اموات دنیا میں سب سے بدترین ہے۔

یونیسیف کی رپورٹ میں آشکار کیا گیا ہے کہ ایک ایسا ملک جس میں جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ شرح پیدائش ہے، نوزائیدہ بچے کو پہلے ماہ میں موت کے 22 میں سے 1 امکان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات، نیورولوجسٹ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر غزنہ خالد نے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) باجوڑ، جو کہ خار میں واقع ہے، میں اس وارڈ کا افتتاح کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل احمد نذیر بٹ کے ساتھ مل کر کیا۔ یہ ایک مشترکہ سول-ملٹری منصوبے کا حصہ ہے۔

خالد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "قبائلی اضلاع صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کے لحاظ سے اور شیرخوار بچوں کی شرح اموات کے لحاظ سے بدترین ہیں جس کا اندازہ دونوں اصناف کی 1,000 پیدائیشوں میں 87 لگایا گیا ہے۔ لڑکوں کو زیادہ شرح اموات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ 1,000زندہ پیدائیشوں میں 95 ہے، اس کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح اموات 1,000 زندہ پیدائیشوں میں 72 ہے"۔

انہوں نے یونیسیف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 80 فیصد نوزائیدہ اموات کو بہتر تربیت یافتہ دائیوں تک رسائی اور اس کے ساتھ ثابت شدہ حل جیسے کہ صاف پانی، جراثیم کش اشیاء، پہلے گھنٹے میں ماں کا دودھ پلانے، جلد سے جلد کے چھونے اور اچھی غذائیت سے روکا جا سکتا ہے۔

تربیت، آگاہی کو بہتر بنانا

خالد نے کہا کہ دستیاب بنیادی ڈھانچے کی غیر موجودگی کے علاوہ، تربیت یافتہ عملے کی کمی اور نوجوان ماؤں میں آگاہی کی کمی، زیادہ تر نوزائیدہ اموات کے پیچھے موجود وجوہات میں سے چند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین عملے کو تربیت فراہم کرنے کے لیے باجوڑ میں سہولت کا دورہ کریں گے۔

خالد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے طبی ماہرین سیکورٹی کے خطرے کے باعث علاقے میں نہیں آئے تھے۔ تاہم، اب سیکورٹی فورسز نے علاقے کو صاف کر دیا ہے اور ماہرین رضاکارانہ طور پر باجوڑ آتے ہیں تاکہ طبی ٹیموں اور ان کے مریضوں کی مدد کر سکیں۔

باجوڑ طویل عرصے سے مختلف عسکریت پسند گروہوں کا اہم گڑھ رہا ہے جس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی شامل ہے اور وہاں پر پاکستانی فوج نے بہت سی عسکری مہمات بھی انجام دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکام ایسے مماثل مراکز بنائیں گے اور انہیں باقی کے قبائلی اضلاع تک وسعت دیں گے تاکہ بچوں کی صحت مندانہ پیدائش کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی جا سکے۔

ڈی ایچ کیو ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ محمد سلیم کے مطابق، خار کا ہسپتال، جو باجوڑ کے تقریبا 1.2 ملین شہریوں کو خدمات فراہم کرتا ہے، میں کوئی گائناکالوجسٹ نہیں ہے اگرچہ یہاں ہر سال تقریبا 5,000 بچے پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "باجوڑ میں زچگی کے دوران شرح اموات تقریبا 25 فیصد ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "شیرخوار بچوں میں اموات کی زیادہ شرح کی وجہ سہولیات کا نہ ہونا ہے۔ اگرچہ چار لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ایک ایم بی بی ایس (بیچلرز آف میڈیسن، بیچلرز آف سرجری ڈگری) خاتون ڈاکٹر دستیاب ہے، مگر یہاں پر کوئی گائناکالوجسٹ نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی زچگی مرکز، نوزائیدہ بچوں کی اموات کو روکنے میں مدد فراہم کرے گا۔

ڈی ایچ کیو کی خاتون میڈیکل افسر ڈاکٹر سویرا خان نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ زچگی مرکز اور زندگی بچانے والی ادویات کی بر وقت فراہمی، شیرخوار بچوں کی اموات کو کم کرنے میں مدد کریں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بی ایچ یوز (بنیادی طبی مراکز) میں سہولیات میں توسیع اور آر ایچ سیز (علاقائی ہیلتھ یونٹ) بھی قبائلی علاقوں میں شیرخوار بچوں کی اموات میں کمی کرنے میں مدد کریں گے"۔

طبی سہولیات میں ایک سنگِ میل

باجوڑ کے رہائشی امید کر رہے ہیں کہ خار میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں یہ قدم، شیرخوار بچوں کی اموات کے سنگین مسئلے کا مقابلہ کرنے میں مدد کرے گا۔

خار کے ایک نجی اسکول کے استاد رحمان اللہ جن کا صرف ایک نام ہی ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ڈی ایچ کیو میں بھی گائناکالوجسٹ کا نہ ہونا پریشان کن ہے اور ہمیں ہر سطح پر تربیت یافتہ طبی عملے کی انتہائی شدید ضرورت ہے"۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں قائم کیا جانے والا نیا آگاہی یونٹ جو عملے کو تربیت دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے، شیرخوار بچوں کی اموات کو روکنے اور ماؤں کو بچانے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی محمد سلیم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مائیں اور نوزائیدہ بچے زیادہ تر صحت عامہ کی سہولیات تک فاصلے اور نقل و حمل کے ناقص نظام کے باعث وفات پا جاتے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختوانخواہ (کے پی) صوبہ کے دو قریبی شہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طبی عملہ عام طور پر مریضوں کو خار اور پھر دیر اور پشاور لے کر جاتا ہے۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک سابقہ رکن اخونزادہ چٹھہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ معاشرے کو شیرخوار بچوں کی اموات پر قابو پانے کے لیے ماؤں اور والدین کے درمیان تعلیم اور آگاہی کو بڑھانے کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ اب علاقوں میں امن و امان بحال ہو گیا ہے اس لیے دور دراز کے علاقوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنانا بہت اہم ہے تاکہ بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

آج، خالد، وہ ڈاکٹر جنہوں نے اگست میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مرکز کا افتتاح کیا تھا، کہتی ہیں کہ یہ شیرخوار بچوں کی اموات پر قابو پانے اور آگاہی پھیلانے میں درست طریقے سے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے 7 نومبر کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ مرکز فعال طریقے سے کام کر رہا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہرین ہسپتال اور بی ایچ یو کے عملے کو تربیت فراہم کر رہے ہیں اور والدین کے لیے آگاہی کے سیشن بارآور ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "شیرخوار بچوں کی ہلاکتوں کو فعال طور پر کم کیا جا سکے گا کیونکہ اب والدین زیادہ سے زیادہ زُود حس ہوتے جا رہے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 11-12-2018

مرکزی کہانی پاکستان کے عام لوگوں سے متعلقہ ہے اور حکام کی جانب سے ضلع باجوڑ اور کے پی کے کے دیگر اضلاع میں ایک زچّہ وارڈ نصب کیے جانے کے بعد بطورِخاص قبائلی اضلاع کے باشندے وفاقی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ نومولودوں کی خوفناک شرحِ اموات کے خلاف لڑنے کے لیے صحت کی مزید تنصیبات کھولے۔ اس سلسلہ میں حکومتِ کے پی کے نے اقدام کرتے ہوئے کے پی کے کے دیہی علاقوں میں بطورِ خاص عام لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ \n

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج