| ٹیکنالوجی

فیس بُک نے افغانستان، پاکستان کو ہدف بنانے والے جعلی اکاؤنٹ بند کر دیئے

سلام ٹائمز


ایرانی اداکاروں کی جانب سے پوسٹ کردہ ایک جھوٹی خبر کہانی دعویٰ کرتی ہے کہ طالبان نے افغانستان میں "برف کا تودہ گرنے" کے متاثرین کو بچایا، فیس بُک کی تحقیات نے اس "غیر معتبر طرزِ عمل" کا انکشاف 31 جنوری کو کیا تھا۔ [فیس بُک]

ایرانی اداکاروں کی جانب سے پوسٹ کردہ ایک جھوٹی خبر کہانی دعویٰ کرتی ہے کہ طالبان نے افغانستان میں "برف کا تودہ گرنے" کے متاثرین کو بچایا، فیس بُک کی تحقیات نے اس "غیر معتبر طرزِ عمل" کا انکشاف 31 جنوری کو کیا تھا۔ [فیس بُک]

سان فرانسسکو -- فیس بُک نے 783 پیجز، گروپس اور اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے جو ایک ایرانی غلط معلومات پھیلانے کی کارروائی سے منسلک تھے جن میں پاکستان اور افغانستان سمیت درجن بھر ممالک کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

(31 جنوری کو) فیس بُک نے اعلان کیا تھا کہ "غیر معتبر طرزِ عمل" میں 262 پیجز، 356 اکاؤنٹس اور فیس بُک پر 3 گروپس، اور انسٹاگرام پر 162 اکاؤنٹس شامل تھے۔

فیس بُک پر سائبر سیکیورٹی پالیسی کے سربراہ، ناتھانیئل گلیشیر نے کہا کہ یہ پیجز جعلی فیس بُک یا انسٹاگرام شناختیں بنا کر مختلف ممالک میں ایرانی مفادات کو فروغ دینے کی ایک مہم کا حصہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فعال اکاؤنٹس اور پیجز "عام طور پر خود کو مقامی افراد کے طور پر پیش کرتے تھے، اکثر جعلی اکاؤنٹس استعمال کرتے، اور حالاتِ حاضرہ پر خبری کہانیاں پوسٹ کرتے تھے،" انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مالکان نے اپنی شناختیں چھپانے کی بھی کوشش کی۔

گلیشیر نے صحافیوں کو بتایا، "ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ مواد ایران سے پھیلایا جا رہا تھا؛ ایرانی اداکاروں کی جانب سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، اور زیادہ تر مواد ایران کے ریاستی میڈیا کی جانب سے دوبارہ پوسٹ کیا جاتا تھا۔"

انہوں نے کہا، "ہم اس حالت میں نہیں ہیں کہ براہِ راست زور دے سکیں کہ اس معاملے میں اداکار کون ہے۔"

ایک بیان میں فیس بُک کا کہنا تھا کہ ان پیجز میں سے ایک پیج کے تقریباً دو ملین فالوورز تھے، گروپس میں سے ایک گروپ کے 1،600 ارکان تھے اور انسٹاگرام اکاؤنٹس میں سے ایک اکاؤنٹ کے 254،000 سے زیادہ فالوورز تھے۔

گلیشیر نے بیان میں کہا، "اس سرگرمی کی ہدایات ایران سے دی جاتی تھیں، چند صورتوں میں ایرانی ریاستی میڈیا کے مواد کو دوبارہ نشر کیا جاتا تھا، اور دنیا بھر میں لوگوں کو ہدف بنانے والے مربوط غیر معتبر طرزِ عمل میں مشغول تھا، تاہم اس کا زیادہ زور مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء میں تھا۔"

متاثرہ ممالک میں افغانستان، البانیہ، جزائر، بحرین، مصر، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشیاء، ایران، عراق، اسرائیل، لیبیا، میکسیکو، مراکو، پاکستان، قطر، سعودی عرب، سربیا، جنوبی افریقہ، سپین، سوڈان، شام، تیونس، امریکہ اور یمن شامل ہیں۔

فیس بُک کا کہنا تھا کہ کچھ سرگرمیاں سنہ 2010 کی تاریخوں کی تھیں۔

عداوت کا ایک نمونہ

غیر مہذب مواد پر فیس بُک کی تحقیقاتطالبان عسکریت پسندوں کے لیے ایرانی حمایتاور افغانستان میں دخل اندازی کی دیگر کوششوں کا مزید ثبوت پیش کرتی ہیں۔

فیس بُک کی جانب سے دی گئی ایک مثال میں ایک جعلی خبر دکھائی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں ایک "برفانی تودہ گرنے" کے متاثرین کی مدد کی۔

پوسٹ میں طالبان کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے، جو لوگوں کی جانیں بچاتے ہیں، جبکہ حقیقت میں طالبان نے افغانستان میں افغان حکومت کے خلاف اپنی خونریز جنگ میں سینکڑوں عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

طالبان ایران کی جانب سے سازوسامان اور ہتھیاروں کے ساتھ امداد سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو تہران نے بالآخر پچھلے سال کے اواخر میں تسلیم کیا تھا۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری، علی شامخانی نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی حکام نے دسمبر میں افغان طالبان کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، انہوں نے 26 دسمبر کو کہا تھا، "افغان حکومت کو طالبان کے ساتھ اس رابطے اور بات چیت سے باخبر رکھا گیا تھا، اور یہ عمل جاری رہے گا۔"

تسنیم، جسے ایرانی پاسدارانِ انقلاب دستوں (آئی آر جی سی) کے قریب تصور کیا جاتا ہے، کی جانب سے کوئی تفصیلات نہیں دی گئی تھیں کہ یہ مذاکرات کہاں ہوئے تھے۔

ایران، جس کی افغانستان کے ساتھ تقریباً 600 میل لمبی سرحد مشترکہ ہے، 17 سال طویل تنازعہ کو ختم کرنے کے مقصد سے دوبارہ بحال کردہ سفارتی کوششوں میں اپنی مداخلت کو بڑھاتا رہا ہے۔

9 دسمبر کو، افغان فوج نے غزنی سے باہر ایک کارروائی میں اسلحے کی ایک کھیپ دریافت کی تھی جس میںایرانی ساختہ ہتھیارشامل تھے۔

غزنی کے صوبائی پولیس چیف غلام داؤد تاراخیل نے اس وقت سلام ٹائمز کو بتایا تھا، "ایران ان حالیہ واقعات میں 100 فیصد ملوث ہے جنہوں نے غزنی میں عدم تحفظ پیدا کیا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں افغانستان کے داخلی امور میں ایران کی واضح مداخلت کی صریح نشاندہی کرتی ہیں۔"

صوبہ پکتیکا کے سابق گورنر، امین اللہ شارق نے کہا کہ "ہتھیار ظاہر کرتے ہیں کہایران افغانستان میں جنگ کو پھیلانے میں مصروفِ عمل ہے

ایرانی پراپیگنڈہ

فیس بُک کے انکشافات پہلی بار نہیں ہیں کہایران کو پراپیگنڈہ تقسیم کرتے دکھایا گیا ہےجس کا مقصد عالمی رائے عامہ پر اثرانداز ہونا ہے۔

گزشتہ برس ایک خصوصی رپورٹ میں، رائٹرز نے 70 سے زائد ویب سائٹوں کی نشاندہی کی تھی جو 15 ممالک میں ایرانی پراپیگنڈہ پھیلاتی تھیں، بشمول پاکستان میں غلط معلومات پھیلانے کی تین اور افغانستان میں چار ویب سائٹیں۔

30 نومبر کی رپورٹ میں کہا گیا تھا، "یہ سائٹیں اس امر کو نمایاں کرتی ہیں کہ کیسے دنیا بھر میں سیاسی اداکار مسخ کردہ یا غلط معلومات زیادہ سے زیادہ آن لائن پھیلا رہی ہیں تاکہ رائے عامہ پر اثرانداز ہوا جائے۔"

یہ سائٹیں ملی جُلی خبریں پیش کرتی تھیں اور انہیں ایسے تیار کیا گیا تھا کہ وہ معمول کے خبروں اور ذرائع ابلاغ کے ادارے نظر آئیں۔

مصر کے ابن الولید مرکز برائے مطالعات و عملی تحقیق کے نئے میڈیا شعبے کے ڈائریکٹر مازن ذکی نے کہا کہ ایران "حقائق کو مسخ کرنے اور ان میں ردوبدل کرنے کے ذریعے بالواسطہ طریقوں سے اپنے خیالات کو پھیلانے کے لیے میڈیا کے طوفان کی پالیسی" پر عمل پیرا ہونے کے لیے جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افواہیں پھیلانے کے علاوہ، یہ میڈیا ادارے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں کے متعلق غلط معلومات پھیلاتے رہے ہیں، جس میں تنظیم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے جھوٹی فتوحات کی خبریں نشر کی جاتی رہی ہیں۔

ایران کی 'سائبر دہشت گردی' سے نمٹنا

پاکستان میں ایران کی پراپیگنڈہ کی کوششیں -- جنہیں حکام کی جانب سے "سائبر دہشت گردی" تصور کیا جاتا ہے -- نے خطرے کی گھنٹیاں بجائی ہیں نیز ایران کی عدم تحفظ اور فرقہ واریت کو پھیلانے کی مشکوک حکمتِ عملی کو ناکام بنانے کی کوششیں کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ایک معاملے میں، این ادر ویسٹرن ڈان نامی ویب سائٹ جس کی شناخت رائٹرز نے کی تھی، اس نے ایک پاکستانی اہلکار کو اسرائیل کے خلاف ایٹمی دھمکی جاری کرنے پر ورغلایا تھا۔

سنہ 2016 میں، ویب سائٹ نے ایک جھوٹی کہانی چلائی جس پر اس وقت کے پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بذریعہ ٹوئٹر انتباہ کیا تھا کہ پاکستان کے پاس اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے نیوکلیائی ہتھیار ہیں۔ جب رائٹرز نے ان سے رابطہ کیا تو انہیں پتہ چلا کہ یہ افواہ محض ایک ایرانی کارروائی کا حصہ تھی۔

خواجہ آصف، جن کی حکومت سنہ 2018 میں ختم ہو گئی تھی، نے کہا، "یہ ایک سبق آموز تجربہ تھا۔ ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ جعلی خبریں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جسے ہر کوئی کرنے کے قابل ہے، جو کہ بہت خطرناک ہے۔"

18 دسمبر کو وزارتِ دفاع میں سائبر سیکیورٹی ڈویژن میں تعینات اسلام آباد کے مقامی ایک انٹیلیجنس اہلکار نے گمنامی کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا تھا، "ہم نے ملک میں سائبر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک بہت جامع اور محتاط حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔"

"ہمارے سائبر سیکیورٹی ڈویژن میں مصروفِ عمل ٹیمیں ایک مرکزی سمارٹ ویریفیکیشن اینڈ الرٹ سسٹم کے ساتھ منسلک ہیں، اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بھی ان ٹیموں کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے۔"

انہوں نے کہا، "گزشتہ دو برسوں میں، ہم نے سینکڑوں کی تعداد میں پاکستان مخالف ویب سائٹیں بلاک کی ہیں اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ ایرانی پراپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، اور ہماری سوشل میڈیا کی نگرانی کی ٹیمیں تمام متعلقہ پلیٹ فارموں کی بغور نگرانی کر رہی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 03-06-2019

بہت اچھے فیس بک - ایران کے سائیبر دہشتگرد مجرموں کی جانب سے نفرت انگیز حکمت ہائے عملی کے پھیلاؤ اور ایرانی جعلی اکاؤنٹس کے ردِّ عمل میں ایران کی جانب سے سائیبر جرائم کیے جانے کی تشخیص اور بندش پر شاباش ’فیس بک‘۔ پاکستان، دنیا اور تمام تر انسانیت کے خلاف ان نفرت انگیز سرگرمیوں کی انسداد کرنے پر ہم پاکستان میں اپنے ماہرین کے شکرگزار ہیں۔ ایران کو بجائے بیرونی دنیا کو موردِ الزام ٹھہرانے کے اپنی ہی غلطی کے سلسلہ کو دیکھنے دیں۔ فیس بک، برائے مہربانی دنیا بھر میں رہنے والے لوگوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے اسے جاری رکھیں لیکن حقیقی صارف کو سزا مت دیں۔

جواب