|

سلامتی

ایران نے طالبان کے ساتھ باضابطہ روابط کی تصدیق کر دی

ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے ایران اور طالبان کے مابین باضابطہ مزاکرات کا اعتراف افغانستان میں ایران کی مسلسل ضرر رساں مداخلت کو نمایاں کرتا ہے۔

اے ایف پی اور سلام ٹائمز


26 دسمبر کو ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کاؤنسل کے سیکریٹری علی شامخانی (دائیں جانب سے دوسرے) دیگر ایرانی سیکیورٹی عہدیداران کے ہمراہ کابل جاتے ہوئے افغانستان کے نقشے سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔ [آئی آر آئی بی نیوز ایجنسی]

26 دسمبر کو ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کاؤنسل کے سیکریٹری علی شامخانی (دائیں جانب سے دوسرے) دیگر ایرانی سیکیورٹی عہدیداران کے ہمراہ کابل جاتے ہوئے افغانستان کے نقشے سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔ [آئی آر آئی بی نیوز ایجنسی]

تہران – متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں عسکریت پسندوں کے ایک وفد اور امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کے مابین تصفیہ کے مزاکرات کے چند ہی روز بعد ایرانی حکام نے افغان طالبان سے ملاقات کی۔

متعدد ایرانی ایجنسیوں نے خبر دی کہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کاؤنسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے بدھ (26 ستمبر) کو افغان صدرمقام، کابل کے ایک دورے کے دوران اس ملاقات کا اعلان کیا۔

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ان کے حوالہ سے کہا، "افغان حکومت کو طالبان کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت اور مزاکرات سے متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے۔"

ایران کے محافظانِ انقلابِ اسلامی کور (آئی آر جی سی) سے قریب تر سمجھی جانے والی ایک آؤٹلیٹ، تسنیم نے اس امر سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں فراہم کیں کہ مزاکرات کہاں منعقد ہوئے۔

تسنیم کے ایک صحافی عبّاس اسلانی نے ٹویٹ کیا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے ایران اور طالبان کے مابین مزاکرات کی تصدیق کی۔

یہ اعلان 17-18 دسمبر کو امریکی خصوصی ایلچی خلیل زاد اور طالبان کے نمائندگان کے مابین ابوظہبی میںافغانستان سے متعلق دو روزہ امن مزاکراتکے بعد کیا گیا۔ خیل زاد نے مزاکرات کو "تعمیری" قرار دیا۔

طالبان نے کہا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات، پاکستان اور سعودی عرب کے عہدیداران سے بھی ملاقاتیں کیں، لیکن افغان مصالحتی ٹیم کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا۔

طالبان کی حمایت

ایران جو کہ افغانستان کے ساتھ تقریباً 600 میل طویل مشترکہ سرحد کا حامل ہے، 17 سالہ طویل تنازع کے خاتمہ کے مقصد سے کی جانے والی نئی سفارتی کاوشوں کے دوران اپنی مداخلت میں اضافہ کر رہا ہے۔

9 دسمبر کو غزنی سے باہر ایک آپریشن کے دورانافغان سیکیورٹی فورسز نے اسلحہ کا ایک ذخیرہ دریافت کیاجس میں ایرانی ساختہ ہتھیار شامل تھے، جو کہ ایران کی جانب سے افغانستان میں طالبان کی حمایت کا تازہ ترین ثبوت ہے۔

ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی ایک شاخ ریڈیو فردا نے خبر دی کہ غزنی کے گورنر واحد اللہ کلیمزئی نے تصدیق کی کہ آپریشن کے دوران ضبط کیے گئے ہتھیار ایرانی ساختہ تھے۔

غزنی کے صوبائی پولیس سربراہ غلام داؤد تاراخیل نے اس وقت سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضبط شدہ ذخیرہ "طالبان عسکریت پسندوں نے صوبہ غزنی میں دہشتگردانہ کاروائیاں کرنے کی غرض سے محفوظ کر رکھا تھا۔"

تاراخیل نے حوالہ دیا، "غزنی میں عدم سلامتی کا باعث بننے والے حالیہ واقعات میں ایران 100 فیصد ملوث ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "یہ تمام سرگرمیاں افغانستان کے داخلی امور میں ایران کی سرِ عام مداخلت کی واضح علامتیں ہیں۔"

صوبہ پاکتیکا کے سابق گورنر امین اللہ شارِق نے کہا کہ یہ ہتھیار "ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اس جنگ کو افغانستان تک وسعت دینے پر کام کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے۔"

درایں اثناء، 29 نومبر کو، امریکی حکام نے شواہد فراہم کیے کہ ایران بتدریج اضافے کے ساتھ افغانستان اور تمام تر مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

باغیوں کی بھرتیاں

بالخصوصِ باعثِ تشویش امر طالبان کی بھرتیوں کے لیے ایران کی کاوشیں ہیں۔

25 اکتوبر کو فراہ کے گورنر محمّد شیعب ثابت نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایران پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہمغربی افغانستان میں بڑھتی ہوئی عدم سلامتی کے پیچھے تہران ہے۔

انہوں نے کہا، "مسئلہ بخش آباد ڈیم کی تعمیر سے متعلق ہے، جو کہ ایران کے لیے مسائل کا باعث ہے۔ وہ ڈیم نہیں چاہتا، جب جب ہم نے تعمیر جاری کی، اس نے ہر بار لڑائی تیز کر دی۔"

ہرات سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار عارف کیانی نے ایران کی جانب سے افغانستان میں طالبان کی صفوں میں لڑنے کے لیے افغان تارکینِ وطن نوجوانوں کی بھرتیوں کی مسئلہ کن پیش رفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، "معتبر خبریں ہیں کہ ایران سے تعلق رکھنے والے چند طالبان کمانڈراکثر فراہ اور نمروز جیسے مغربی افغان صوبوں کا سفر کرتے ہیں۔"

غزنی کے صوبائی گورنر کے ترجمان محمّد عارف نوری نے کہا، "کام کے لیے ایران جانے والے چند نوجوان افغان جنہیں ایران کے اندر ایرانی حکام گرفتار کر لیتے ہیں یا ملک بدر کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، اس کے بجائے ایران میں موجود طالبان گروہوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں تاکہ وہ ان نوجواں کو بھرتی کر سکیں۔"

انہوں نے کہا، "بعد ازاں ان نوجوان افراد کو زہدان شہر اور افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد کے حامل دیگر علاقوں میں ایرانی کارندوں کی جانب سے عسکری تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت کے بعد ان نوجوان افراد کو لڑنے کے لیے واپس افغانستان بھیج دیا جاتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 15

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

پاکستان کی ہندوستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں سے آپ کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج