| سفارتکاری

امریکی ایلچی خلیلزاد کے دورہٴ اسلام آباد سے افغان امن کے عمل کو تقویت

ضیاء الرّحمٰن


افغان مصالحت کے لیے خصوصی امریکی ایلچی، سفیر زلمئے خلیلزاد 18 جنوری کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ [پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ]

افغان مصالحت کے لیے خصوصی امریکی ایلچی، سفیر زلمئے خلیلزاد 18 جنوری کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ [پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ]

اسلام آباد – افغان مصالحت کے لیے امریکی نمائندہٴ خصوصی زلمئے خلیلزاد نے اتوار (20 جنوری) کو خطے کے اپنے حالیہ دورہ کے جزُ کے طور پر ایک چار روزہ دورہٴ پاکستان مکمل کیا، جس کا مقصد افغانستان میں امن کے عمل میں معاونت فراہم کرنا تھا۔

ایک بین الایجنسی وفد کی قیادت کرنے والے، خلیلزاد نے 18 تا 21 جنوری بھارت، چین اور افغانستان کا دورہ کیا۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے 8 جنوری کو ایک بیان میں کہا، انہیں "افغانستان کی داخلی سیاسی مصالحت کی تسہیل کے لیے اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرنا تھی۔"


دورہ کرنے والا ایک امریکی وفد 18 جنوری کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر رہا ہے۔ [خلیلزاد/ٹویٹر]

دورہ کرنے والا ایک امریکی وفد 18 جنوری کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر رہا ہے۔ [خلیلزاد/ٹویٹر]

دیگر کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سمیت ملک کی سولین اور عسکری قیادت سے ملاقات کی غرض سےامریکی ایلچی 17 جنوری کو اسلام آباد پہنچے۔

ریڈیو پاکستان نے خبر دی کہ خان نے خلیلزاد، جنہوں نے خطے کے اپنے حالیہ دورہ سے متعلق وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی، سے ملاقات میں "افغان امن کے عمل کی تسہیل کے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔"

19 جنوری کو پاک فوج کے ایک ترجمان نے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا، "دورہ کرنے والے معزز عہدیدار نے افغان امن کے عمل کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔"

طویل المعیاد استحکام کے لیے کوشش

پیر (21 جنوری) کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ نے ایک بیان میں کہا کہ خلیل زاد نے "دہرایا کہ افغانستان میں امن پاکستان اور بطورِ کل خطے کے طویل المعیاد استحکام کے لیے لازم ہے۔"

بیان میں کہا گیا، "انہوں نے پاکستانی قیادت سے مشاورت کی کہ کیسے بہترین طور پر افغانستان میں ایک دیرپا سیاسی مصالحت تک پہنچا جائے۔"

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس مرتبہ خلیلزاد کے دورہٴ پاکستان کا بنیادی مقصد پاکستانی حکام پر اس امر کے لیے زور دینا تھا کہ وہ طالبان کو افغان حکام کو امن کے عمل میں شامل کرنے کے لیے قائل کریں۔"

محسود نے مزید کہا کہ خیلزاد کو طالبان، پاکستانی حکام اور افغان حکومت کو ایک ہی صفحہ پر لانے کا کام سونپا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "انہوں نے متعلقہ علاقائی ممالک، لیکن بالخصوص اسلام آباد، کابل اور واشنگٹن کا دورہ کر کےشٹل ڈپلومیسی کے ایک عمل کا آغازکیا۔ خلیلزاد افغان نژاد ہونے کی وجہ سے طالبان اور افغان حکومت، دونوں کے لیے یکساں قابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں۔"

پیر (21 جنوری) کو خیلیزاد نے دوحہ، قطر کا سفر کیا جہاں انہوں نے مبینہ طور پر طالبان نمائندگان سے ملاقات کی۔

جبکہ خلیلزاد کے دفتر نے اس ملاقات کی تصدیق نہیں کی، وی او اے نے پیر کو خبر دی کہ ایک طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طرفین نے مزاکرات کیے، جو کہ منگل (22 جنوری) کو دوبارہ جاری ہوں گے۔

افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام

خیلزاد کا دورہ افغان حکام کے دورہٴ پاکستان کے کچھ ہی دیر بعد ہوا، جس کا مقصد امن کی کاوشوں کو آغاز فراہم کرنا اور امن سے متعلق کابل کی اسلام آباد سے بات چیت میں اضافہ کرنا تھا۔

امن اور علاقائی اتفاقِ رائے کے لیے افغان صدر اشرف غنی کے خصوصی ایلچی عمر داؤدزئی نے8-11 جنوری پاکستان کا دورہ کرنے والے ایک چار رکنی وفد کی قیادت کی،جہاں انہوں نے حکومتِ پاکستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ سیاسی اور مذہبی قائدین سے بھی ملاقات کی۔

داؤدزئی نے اپنے دورہٴ پاکستان کے دوران کہاکہ افغانستان میں قیامِ امن کے حوالہ سے پاکستان کی سولین حکومت اور سیکیورٹی ادرے ایک ہی صفحہ پر ہیں، جس سے امن مزاکرات کے انعقاد کے لیے ایک مناسب ترتیب فراہم ہوتی ہے۔

انہوں نے 9 جنوری کو اسلام آباد میں بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں کہا، "حالیہ حالات کے تناظر میں اپنے مغربی ہمسایوں سے متعلق پاکستان کا رویّہ تبدیل ہو گیا ہے۔ فی الوقت اس امر کے کافی شواہد ہیں کہ پاکستان افغان امن مزاکرات میں ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔"

بی بی سی نے 15 جنوری کو خبر دی کہ خیلزاد کے دورہ سے قبل پاکستان نے طالبان پر مزاکرات میں شامل ہونے کے لیے دباؤڈالنے کی ایک کوشش میں ایک سینیئر افغان طالبان رکنحافظ محبّ اللہ کو پشاور، خیبرپختونخوا سے گرفتار کر لیا۔

محبّ اللہ نے 1996 تا 2001 کے افغان دورِ اقتدار میں وزیر برائے مذہبی امور کے طور پر خدمات انجام دیں۔

بعد ازاں 17 جنوری کو صدر اشرف غنی نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا اور امن کی کاوشوں اور ان کی تسہیل کے لیے پاکستان کی معاونت پر بات چیت کی۔ خان کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ غنی نےافغان امن اور مفاہمت کی جانب پاکستان کی "مخلصانہ تسہیل"کے لیے اظہارِ تشکر کیا۔

امن کے لیے جاری کوششوں کی پیروی رکھنے والے افغان تجزیہ کار اور عمائدین دوروں کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیش رفت اور زورِ حرکت سے خوش ہیں۔

امن کے لیے مقامی کاوشوں میں شامل، جلال آباد سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائد حاجی احمد سلیمان نے کہا کہ پہلی مرتبہ تمام – ہردو مقامی اور بین الاقوامی – فریقین شورش اور جنگ کے خاتمہ کے لیے ایک سیاسی حل کی تلاش میں اکٹھے بیٹھ رہے ہیں۔

سلیمان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے داؤدزئی اور خلیلزاد کے دوروں کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ اس مرتبہ فریقین میں باہمی احترم، قبولیت اور خطے میں دہشتگردی کے خاتمہ کی خواہش واضح نظر آتی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

12
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 01-30-2019

اگر امریکی انتظامیہ طالبان اور پاکستان کے ساتھ معاہدہ کے لیے پرعزم اور نیک نیت ہے تو امن، مصالحت اور جنگ سے متاثرہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے امکانات روشن ہیں۔ یہاں زور نیک نیتی پر ہے۔

جواب