پاکستان نے بظاہر امن مذاکرات کو سہارا دینے کے لیے افغان طالبان کے راہنما کو گرفتار کر لیا

پاکستان فارورڈ

اسلام آباد -- بی بی سی نے منگل (15 جنوری) کو خبر دی ہے کہ پاکستان نے حافظ محب اللہ کو گرفتار کر لیا ہے جو کہ افغان طالبان کے سینئر رکن ہیں اور یہ عسکریت پسند گروہ کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

محب اللہ، جنہوں نے 1996 سے 2001 کے دوران طالبان کے دورِ حکومت میں مذہبی امور کے وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دی تھیں، کو پشاور سے گرفتار کیا گیا۔

اگرچہ گرفتاری کی تفصیلات، جس میں تاریخ بھی شامل ہے، غیر واضح ہیں، مگر یہ امریکہ کے خصوصی امن ایلچی زلمے خلیل زاد کے پاکستان کے منصوہ شدہ دورے سے پہلے ہوئی ہے۔ انہوں نے قطر اور متحدہ عرب امارات میں طالبان کے نمائںدوں سے کئی مواقع پر بات چیت کی ہے۔

جیو نیوز نے خبر دی ہے کہ خلیل زاد کو متوقع طور پر بدھ (16 جنوری) کو اسلام آباد کا دورہ کرنا تھا مگر ان کا دورہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

امریکہ کی طرف سے افغان طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے کے لیے دباو ڈالا جا رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان عسکریت پسند گروہوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ افغانستان میں کسی سیاسی تصفیہ تک پہنچ سکیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

3
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha