|

سلامتی

سابق طالبان کمانڈر کا کہنا ہے کہ ایران اور روس افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں

افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو الجھانے کے لیے پُرعزم، روس اور ایران، طالبان کی پشت پناہی سمیت تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

از ہدایت اللہ

سابق طالبان کمانڈر، ملا دُر محمد، جس نے دیگر چار ساتھیوں کے ساتھ 23 ستمبر کو قندوز شہر میں امن عمل میں شمولیت اختیار کی تھی، نے کہا کہ ایران اور روس اپنے مفادات کے لیے عسکریت پسند گروہوں کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔ [ہدایت اللہ]

قندوز -- طالبان ارکان کے ایک گروہ، جس نے حال ہی میں صوبہ قندوز میں امن عمل میں شمولیت اختیار کی ہے، کا کہنا ہے کہ روس اور ایران اپنے مفادات کی خاطر عسکریت پسند گروہوں کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔

23 ستمبر کو، ملا دُر محمد کی سربراہی میں، طالبان جنگجوؤں کے ایک گروہ نے اپنے ہتھیار قندوز کے صوبائی پولیس ہیڈکوارٹرز پر منعقد ہونے والی ایک تقریب میں مقامی حکام کے سپرد کر دیئے۔

دُر محمد نے سلام ٹائمز کو بتایا، "14 برس تک، میں [افغانوں] اور حکومت کے خلاف لڑا۔ طالبان بہت سے گروہوں اور دھڑوں میں تقسیم ہیں اور ان کی پشت پناہی پاکستان،ایران اور روس کی جانب سے کی جاتی ہے۔"

اس نے کہا، ان ممالک کی جانب سے معاونت کی جاتی ہے کیونکہایران اور روس نے امن عمل میں شمولیت اختیار کرنے میں اس کے ساتھی جنگجوؤں کی راہ میں روڑے اٹکائے۔

اس نے کہا، "میں اپنے عوام سے معافی مانگتا ہوں، اور مجھے اس امکان پر انتہائی افسوس ہے کہ ۔۔۔ کوئی بھی [عام شہری] شہید یا زخمی ہوا۔"

تقریب میں قندوز کے صوبائی گورنر عبدالجبار نعیمی نے کہا، "ہم اپنے [طالبان] بھائیوں میں سے ہر ایک کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں جو لڑائی ترک کرتا ہے اور امن کے راستے میں شامل ہوتا ہے۔"

نعیمی نے کہا، "میں ان سے کہتا ہوں جو، غیرملکیوں کے احکامات پر، اپنے ہتھیاروں کا رُخ اپنے بھائیوں کے سینوں کی طرف کرتے ہیں۔ میں انہیں کہتا ہوں: بہت جنگ ہو گئی! اپنے لوگوں پر ترس کھاؤ اور امن کی طرف آؤ۔"

افغان امور میں مداخلت

قندوز میں ایک سیاسی کارکن، نورالدین صافی نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ ایران اور روساپنے مفادات اور مقاصد کی خاطرطالبان کو مضبوط کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشکل میں ڈالنے کے لیے، روس اور ایران طالبان پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ جنگ کو پورے ملک میں جاری رکھا جائے۔"

افغان دفاعی اہلکاروں نے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی ملک کو برداشت نہیں کریں گے جو افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کرتا ہے۔

قندوز کے صوبائی پولیس چیف کے ترجمان، انعام الدین رحمانی نے سلام ٹائمز کو بتایا، "[ہمارے] ہمسایہ ممالک اور خطے کے دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں برسوں سے افغان تنازعہ میں ملوث رہی ہیں اور افغانستان میں عدم تحفظ پیدا کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔"

انہوں نے کہا، "جیسا کہ آپ قندوز میں حالیہ لڑائیوں میں دیکھ سکتے ہیں، ہمیں غیر ملکی جنگجوؤں کی لاشیں غیرملکی تیارکردہ ہتھیاروں کے ساتھ ملی ہیں،جو اس امداد کی عکاسی کرتا ہے جو [طالبان کو] دیگر ممالک سے ملتی ہے۔

رحمانی نے مزید کہا، "ہم تمام [باغی] گروہوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ [افغان] سیکیورٹی فورسز کبھی بھی غیر ملکیوں کو اپنے ملک میں تخریب کاری کرنے، ہمارے [عام] شہریوں کو ہلاک کرنے اور کئی بہانوں سے ہماری تنصیبات کو تباہ کرن کی اجازت نہیں دیں گی۔"

طالبان کی حقیقی شناخت

ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کے رہنماء، دُر محمد کے مطابق، بہت سے طالبان کو جون میں اعلان کردہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تین روزہ جنگ بندی سے قبل اپنے ہی گروہ کی نوعیت کی سمجھ نہیں تھی۔

اس نے کہا، "جنگ بندی نے بہت سے طالبان جنگجوؤں کی اپنے راستے کو سمجھنے اور اس سمت کا احساس کرنے میں مدد کی جس سمت میں وہ جا رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سوں کو احساس ہوا کہ "گھر کا ہونا اور اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی گزارنا زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں ہیں۔"

اس نے وضاحت کی، "[جنگ بندی کے] ان تین دنوں کے دوران، بہت سے طالبان ارکان کو سچائی کا احساس ہوا، انہوں نے اپنے گروہ چھوڑے اور گھروں میں [اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ] رہنے کے لیے چلے گئے۔"

دُر محمد نے کہا، "بہت سے طالبان جنگجو امن عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن بیرونی ممالک کا دباؤ انہیں ایسا کرنے سے روک رہا ہے۔"

صوبہ قندوز کی امن کونسل کے چیئرمین، مولاوی عبدالبصیر نے کہا، "جب سے طالبان جنگجوؤں نے [جنگ بندی کے دوران] افغان سیکیورٹی فورسز کے ارکان سے معانقہ کیا ہے، گروہ کی صفوں میں شدید ابتری پھیل گئی ہے۔"

انہوں نے کہا، "جیسے کہ سب دیکھ سکتے ہیں، قندوز میں تحریکِ طالبان کمزور ہو چکی ہے کیونکہ اس کے جنگجوؤں کو احساس ہو گیا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز بھی مسلمان ہیں۔"

انہوں نے کہا، "طالبان کے ارکان میں امن عمل میں شامل ہونے کی دلچسپی کی مجموعی سطح بہت بلند ہے۔"

قندوز یونیورسٹی پر ایک 28 سالہ طالب علم، عطاء اللہ حسینی نے سلام ٹائمز کو بتایا، "عیدالفطر پر میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو اور مسرت آ گئی، جب میں نے طالبان اور سیکیورٹی فورسز کو ایک ہی جگہ پر دیکھا۔"

انہوں نے کہا، "طالبان میں ایسے بھی تھے جو [قندوز] شہر میں 15 برس سے نہیں آئے تھے، اور شہر کو دیکھ رہے تھے اور عوام نے [جنگجوؤں کے] دلوں میں امن کی امید بحال کی۔"

امن میں مواقع

مولاوی بصیر کے مطابق، کابل میں افغان ہائی پیس کونسل اور اس کے نمائندگان جو قندوز سمیت، صوبائی حکومتوں میں شامل ہیں، ان تمام طالبان ارکان کی معاونت کریں گے جو گروہ کو چھوڑتے ہیں اور امن عمل میں شامل ہو جاتے ہیں۔

کونسل نے مزید کہا کہ ایسے طالبان ارکان جو طالبان کی صفوں کو چھوڑتے ہیں اور حکومت کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں انہیں ملازمتیں ملیں گی اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے اور شامل ہونے کا موقع ملے گا۔

مولاوی بصیر نے کہا، "[عسکریت پسندوں کے لیے] امن کونسل کے دروازے کھلے رہیں گے۔ ہم طالبان کے ان ارکان کا خیرمقدم کرتے ہیں جو امن عمل میں شامل ہوتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ایسے طالبان جنگجو جنہوں نے حالیہ برسوں میں امن عمل میں شمولیت اختیار کی ہے انہیں قیمتی سرکاری مراعات ملی ہیں۔"

ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں میں سے ایک، صدیق کریمی نے کہا کہ وہ تمام دہشت گرد سرگرمیوں کو ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ملک کی تعمیرِ نو میں مدد کرنا چاہتا ہے۔

کریمی نے سلام ٹائمز کو بتایا، "آگے بڑھتے ہوئے، ہم اپنے ملک کی خوشحالی اور تعمیرِ نو میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔"

اس نے کہا، "جنگ تباہی و بربادی لاتی ہے۔ ہمیں اب مزید غیرملکیوں کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیئے اور اپنے لوگوں اور اپنی حکومت کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج