|

سلامتی

بڑھتا ہوا روس-ایران اتحاد مسلم دنیا میں فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے

مشرقِ وسطی، افغانستان، وسطی ایشیاء اور اس سے آگے سے دوبارہ متعلق ہونے کی کوشش میں، کرملین تہران کے فرقہ ورانہ ایجنڈا کی حمایت کر رہا ہے۔

سلام ٹائمز کا ادارتی بورڈ


روس کے صدر ولادیمر پوٹن اور ایران کے صدر حسن روحانی اپنے مشیروں کے ساتھ، نومبر 2017 میں تہران میں ملے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل جن میں شام، یمن اور افغانستان شامل ہیں، کے بارے میں مزید تعاون کے بارے میں بات چیت کر سکیں۔ ]کریمیلن[

روس کے صدر ولادیمر پوٹن اور ایران کے صدر حسن روحانی اپنے مشیروں کے ساتھ، نومبر 2017 میں تہران میں ملے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل جن میں شام، یمن اور افغانستان شامل ہیں، کے بارے میں مزید تعاون کے بارے میں بات چیت کر سکیں۔ ]کریمیلن[

کابل -- ماسکو کے تہران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات مسلم دنیا میں فرقہ ورانہ اختلافات کی دراڑوں کو وسیع کر رہے ہیں اور ایران کی عدم استحکام کی سرگرمیوں کی حمایت کرنے سے کریملین کے اثرو رسوخ کو حاصل کرنے کے مقصد کا اظہار ہوتا ہے۔

سوویت یونین کے زوال اور اس کے بعد رشین فیڈریشن کی عالمی تنہائی کے بعد سے، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی حکومت کئی سالوں سے مشرقِ وسطی، افغانستان، وسطی ایشیاء اور اس سے آگے اپنے تعلق کو دوبارہ سے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حالیہ پیش رفت اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ کریملین نے ایران کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغانستان سے شام اور یمن سے عراق تک، روس کیتہران کے انقسامی اور توسیع پسندانہ ایجنڈا کی حمایت واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔

تاہم اس بڑھتے ہوئے تعلق سے، ان علاقوں کے باشندوں کے لیے تباہ کن نتائج پیدا ہوئے ہیں۔

روس کی فوجی قوت اور اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں اس کی مستقل نشست کا استحصال کرتے ہوئے، روس اور ایران نے ایک اتحاد قائم کیا ہے جس کی قیمت ہزاروں لوگوں کی جانوں کے ضیائع اور لاکھوں کو بے گھر کرنے کی صورت میں ادا کرنی پڑی ہے اور ایسے علاقوں میں فرقہ واریت بھڑکی ہے جو پہلے ہی کمزور اور آتش گیر ہیں۔

'شیعہ ہلال' کی حمایت

روس اور ایران کی حالیہ شراکت زیادہ تر، شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو دوبارہ کھڑا کرنے کے مشترکہ مقصد کے ساتھ شروع ہوئی جن کے اپنے والد، حافظ، کی طرح جن کے اس سے پہلے تہران اور اس کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔

ایران شام کو نام نہاد 'شیعہ ہلال' -- ایسے ممالک کا دائرہ، جہاں شیعہ اکثریت ہے یا شیعہ اقلیت کی کافی زیادہ آبادی موجود ہے، جو ایران سے لبنان تک پھیلا ہوا ہے -- میں اپنے فرقہ وارنہ اثر و رسوخ کو بڑھانے میں ایک بنیادی جزو کے طور پر دیکھتا ہے۔

خصوصی طور پر شام ایسے زمینی پائپ کے طور پر کام کرتا ہے اور ایرانی ہتھیاروں کی کھیپ اور اثر و رسوخ کو ہمسایہ ملک لبنان پہنچانے کے قابل بناتا ہے جہاں تہران سیاسی-عسکری گروہ حزب اللہ کی ایران کے دیرینہ دشمن اسرائیل کے خلاف حمایت کرتا ہے۔

روس نے اپنے حصہ کے طور پر، شام کی اپنے فوجی ساز و سامان کے گاہک کے طور پر قدر کی ہے اور شام کے شہر طرطوس میں، اس کی واحد بحیرہ روم بندرگاہ تک اپنی رسائی کی رشک سے حفاظت کی ہے۔

شام میں خانہ جنگی کے بھڑک اٹھنے کے بعد، ماسکو نے بلاامتیاز اپنی فوج اور پاور پروجیکشن کی نمائش کرنے اور ایسے علاقے میں جہاں امریکہ کی بھاری موجودگی ہے وہاں پر اپنے اثر و رسوخ کا مظاہرہ کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا۔

الاسد کی حکومت کو قائم رکھنے کے مشترکہ مفاد نے روس اور ایران کو ہتھیار، جنگجو اور رقم بھیجنے پر مجبور کیا تاکہ تقریبا آٹھ سالوں کی جنگ کے بعد، شام کی فوج کو دوبارہ سے کھڑا کیا جا سکے۔

یہ امداد، صرف شام میں ہی، تقریبا 500,000 شامی شہریوں کی اموات اور لاکھوں کو بے گھر کرنے کا باعث بنی ہے۔ ہلاک ہونے والوں اور بے گھر ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق سنی اکثریت سے ہے جو کہ الاسد اور ایران کے فرقہ ورانہ ایجنڈا کی مخالفت کرتے ہیں۔

اس وقت سے اب تک، روس اور ایران کے درمیان اتحاد میں، ایران کے فرقہ ورانہ بیانیے اور جستجو کی خدمت کرنے کے لیے توسیع ہوئی ہے۔

غیر ملکی انتخابات میں مداخلت، ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے اور آمریت پسند حکومتوں کی مدد کرنے کے باعث، روس کے عالمی اسٹیج پر زیادہ سے زیادہ تنہا ہو جانے کے باعث، اس نے ایسی ہی بین الاقوامی تکلیف دہ صورتِ حال کا نشانہ بننے والوں میں اتحادی ڈھونڈنا شروع کیا جو اس صورتِ حال میں ایران ہے۔

روس اور ایران نے طویل عرصے سے فرقہ واریت اور توسیع پسندی کے اپنے مقاصد کو چھپانے کے لیے "انسدادِ دہشت گردی" کی آڑ استعمال کی ہے۔

دونوں ممالک نے اکثر شام کے مخالفین کو پسند کیا ہے -- ایسے آمر سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑنے والے شہریوں سے لے کر، جو اپنے ہی لوگوں کو زہریلی گیس سے ہلاک کرتا ہے -- سے "دولتِ اسلامیہ (داعش) اور دوسرے انتہاپسند گروہوں تک۔

بظاہر روس اور ایران انسدادِ دہشت گردی کے جھوٹے بیانیے اور ایک دوسرے کے اتحاد پر زیادہ انحصار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

روس نے ایرانی ایجنڈا کی حفاظت کے لیے یو این ویٹو کو استعمال کیا

عسکری اور انٹیلیجنس تعاون کے علاوہ، روس نے ایران اور ایران کے اتحادی ممالک کے لیے انتہائی اہمیت رکھنے والی اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کو بلاک کرنے کے لیے اپنی ویٹو پاور کو بار بار استعمال کیا ہے۔

شام کی حکومت کو بچانے کے لیے ایک درجن ویٹوز کو استعمال کرنے کے علاوہ -- جس میں 10 اپریل کا ویٹو بھی شامل ہے جب اس نے ایسی قرارداد کو بلاک کیا جس میں شہریوں کے خلاف حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی گئی تھی-- کریملین نے یمن کی جنگ میں اس کے کردار پر سزا سے ایران کو بچایا بھی ہے۔

روس نے 26 فروری کو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد کو ناکام بنایا جس میں یمن میں حوثی باغیوں کی طرف سے ایران کے تیار کردہ میزائلوں کے غیر قانونی استعمال کے بارے میں ایران پر دباؤ ڈالا جانا تھا۔

یہ قرارداد جسے دیگر 15 ارکان کی طرف سے آسانی سے منظور ہو جانا تھا، کا مقصد، تہران کے حمایت یافتہ حوثیوں پر اقوامِ متحدہ کی طرف سے لگائی جانے والی ہتھیاروں کی پابندی جو اختتام پزیر ہو رہی تھی، کو دوبارہ نافذ کرنا تھا -- اور ماہرین کے ایک گروہ کا مینڈیٹ جس نے دریافت کیا تھا کہ ایران نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس کی بجائے، سیکورٹی کونسل کو روس کی تیار کردہ قرارداد کو منظور کرنے پر مجبور ہونا پڑا جس میں ہتھیاروں پر پابندی اور مینڈیٹ کی تجدید کر دی گئی مگر یمن میں ایرانی ساختہ ہتھیاروں کے ذکر سے بچا گیا۔

افغانستان میں 'دوہرا کھیل'

روس نے افغانستان میں بھی ایران کے ساتھ تعلق جوڑا ہے جہاں طنزیہ طور پر وہ ایک سنی انتہاپسند گروہ کو اپنے کام کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اس بات کے کافی زیادہ شواہد موجود ہیں کہ دونوں ممالک طالبان کے جنگجوؤں کو ہتھیار، سرمایہ اور تربیت فراہم کر رہے ہیں جو کابل میں مغربی حمایت یافتہ حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روس اور روسی ذرائع ابلاغ کو افغان حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش اور ملک بھر میں جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے فرقہ ورانہ اور نسلی کشیدگی کو پھیلاتے دیکھا گیا ہے۔

سالوں تک انکار کے بعد، افغانستان میں ایران کے سفیر محمد رضا بہرامی نے دسمبر 2016 میں تسلیم کیا کہ ایران کے طالبان سے تعلقات ہیں۔

یہ اعتراف ایران کے مکارانہ دوہرے کھیل کی طرف اشارہ کرتا ہے: "وہابی دہشت گردی" سے جنگ کا دعوی کرتے ہوئے وہ شام اور عراق میں سرمایہ، ہتھیار اور سپاہی بھیجتا ہے مگر اسی دوران افغانستان میں وہ طالبان کی حمایت بھی کرتا ہے -- ایک ایسی تحریک جس کی وہ اصولی طور پر مخالفت کرتا ہے۔

خبروں کے مطابق افغان حکام نے ماضی میں یہاں تک کہ 2007 تک، دیکھا ہے کہ طالبان کے لیے ہتھیار لے جانے والے قافلے ایران سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔

حال ہی میں، طالبان کے جنگجوؤں کے پاس روس اور ایران میں بننے والے ہتھیاروں کی زیادہ تعداد پائی گئی ہے۔

اگرچہ روس دعوی کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش سے جنگ کے لیے طالبان کی بغاوت کی حمایت کر رہا ہے، افغان حکام کا کہنا ہے کہ کریملین افغان سیکورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 38

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

masood | 05-19-2018

یہ مسلمانوں کے خلاف ہے