|

سلامتی

کے پی کے میں کامیابی سے اشارے لیتے ہوئے پنجاب پولیس میں اصلاحات کی جائیں گی

وزیرِ اعظم عمران خان نے اس شخص سے مشورہ لینے کا عزم کیا ہے جو کے پی پولیس کو صاف کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔

جاوید خان


نومبر 2016 میں اس وقت کے کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درّانی (درمیان) اور اس وقت کے کے پی گورنر افتخار حسین شاہ (بائیں) کوہاٹ میں پولیس اسسٹنس لائنز اور پولیس تک رسائی کی ایک سروس کے لیے ایک نئی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے اس وقت کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ شعیب اشرف (دائیں) سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ [کوہاٹ پولیس]

نومبر 2016 میں اس وقت کے کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درّانی (درمیان) اور اس وقت کے کے پی گورنر افتخار حسین شاہ (بائیں) کوہاٹ میں پولیس اسسٹنس لائنز اور پولیس تک رسائی کی ایک سروس کے لیے ایک نئی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے اس وقت کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ شعیب اشرف (دائیں) سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ [کوہاٹ پولیس]

پشاور – پاکستان کی نو منتخب شدہ حکومت نے خیبر پختونخوا (کے پی) کے لیے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درّانی کی جانب سے کے پی پولیس میں نافذ کی گئی اصلاحات کے نفاذ کے ذریعے صوبہ پنجاب میں پولیس کی اصلاح کی غرض سے انہیں یہ امر سونپا ہے۔

19 اگست کو قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان میں بہترین شہری فورس کے طور پر کے پی پولیس—ایک ایسی فورس جو عوام میں ایک مثبت نقش برقرار رکھتے ہوئے دہشتگردی اور جرائم سے لڑنے کی صلاحیّت رکھتی ہے – کی تعریف کی۔

خان، جنہوں نے کوئی وزیرِ داخلہ تعینات کرنے کے بجائے وزارتِ داخلہ کا قلمدان اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، نے کہا کہ پنجاب پولیس کی اصلاح کے لیے ایک خصوصی حیثیت میں پنجاب پولیس کی معاونت کریں گے۔

ستمبر 2013 سے مارچ 2017 تک کے پی کے آئی جی پی کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے درّانی نے کہا، "مجھے پنجاب پولیس میں ایسی اصلاحات متعارف کرانے کے لیے کہا گیا ہے جنہیں ہم نے میرے عرصہٴ ملازمت کے دوارن کے پی میں متعارف کرایا۔"

کے پی میں درّانی کی کامیابیوں کی میراث میں صوبے بھر پر محیط انسدادِ دہشتگردی کی حکمتِ عملی شامل ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں [پنجاب] پولیس اصلاحت کمیشن کی سربراہی کروں گا،" انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس کام کی تنخواہ نہیں لیں گے۔

درّانی نے باضابطہ طور پر اصلاحات متعارف کرانے پولیس کے عوام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے عمل کا آغاز کرنے سے قبل یکم ستمبر کو خان سے ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب میںتصفیہٴ تنازعات کونسلزکے ساتھ ساتھ پولیس تعاون لائنز، پولیس تک رسائی کی ایک سروس (جو پولیس کے رویّہ سے متعلق شہریوں کی شکایات موصول کرتی ہے)، جدید رپورٹنگ رومز، خواتین کے ڈیسک اور متعدد ایسی دیگر اصلاحات متعارف کرائیں گے جو انہوں نے کے پی میں اپنے دور کے دوران نافذ کیں۔

پولیس فورس کو غیر سیاسی بنانا

پنجاب کے آئی جی پی، محمّد طاہر، جنہوں نے جون کے وسط سے 10 ستمبرتک کے پی میں آئی جی پی کے طور پر خدمات سرانجام دیں، نے ان اصلاحات کے نفاذ کا خیر مقدم کیا۔

طاہر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "تصفیہٴ تنازعات کاؤنسلز کے علاوہ آئندہ مہینوں میں کے پی پولیس میں اپنائی گئی دیگر اصلاحات پنجاب پولیس میں آ رہی ہیں۔"

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے 25 اگست کو کہا کہ پنجاب پولیس فورس کو غیر سیاسی بنائے گا اور درّانی کی جانب سے تجویز کی گئی ضروری اصلاحات متعارف کرائے گا۔

بزدار نے ان اصلاحات پر بات چیت کرنے کے لیے ستمبر کے پہلے نصف حصّے میں دو مرتبہ درّانی اور طاہر سے ملاقات کی۔

پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر قاضی جمیل الرّحمٰن نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "تمام تر صوبہ [کے پی] میں ہزاروں [شہری] پولیس تک رسائی کی سروس، پولیس اسسٹنس لائنز، جدید رپورٹنگ رومز، خواتین کے ڈیسک اور آن لائن شکایات کی سہولیات سے مدد پا رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ایلیٹ فورس، سپیشل کامبیٹ یونٹ اور محکمہٴ انسدادِ دہشتگردی نے کے پی میں بحالیٴ امن کے لیے مدد کی ہے۔

رحمان نے کہا، "گزشتہ چند برسوں میں [پولیس] فورس کا تصور بہت حد تک بہتر ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ اہم اصلاحات ہیں۔"

پولیس کی استعداد میں اضافہ

مشاہدین حالیہ برسوں میں کسی بھی دیگر صوبے کی فورس کی نسبت زیادہ اصلاحات متعارف کرانے کا سہرا کے پی پولیس کے سر باندھتے ہیں۔

پشاور میں ہم نیوز کے بیورو چیف طارق وحید نے کہا، "پولیس فورس کی استعداد میں اضافے اور اس کی تربیت میں اضافے کے لیے، [کے پی پولیس] نے دھماکہ خیز مواد سے نمٹنے، انٹیلی جنس حاصل کرنے، تحقیقات کرنے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر بروئے کار لانے، ٹریفک اور عوامی بدامنی کے انصرام کے لیے کے پی پولیس نے خصوصی سکول قائم کیے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر ماہ [کے پی] کے تمام اضلاع میں تصفیہٴ تنازعات کاؤنسلز پولیس مقدمات اور خونی لڑائیوں کی انسداد کے لیے سینکڑوں مقدمات حل کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، "دہشتگردی کے خلاف لڑائی کو بہتر بنانے کے لیے [کے پی پولیس] نے اپنے محکمہٴ انسدادِ دہشتگردی اور ایلیٹ فورس میں اصلاحات کی ہیں اور ایک خصوصی سپیشل کامبیٹ یونٹ کو تربیت دی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ کے پی پولیس نے جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کا تعاقب رکھنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج