|

توانائی

ایران نے تاپی پائپ لائن کو سبوتاژ کرنے کے لیے مزید کوششیں شروع کر دیں

علاقائی حکام ایران کی جانب سے منصوبے کو پٹڑی سے اتارنے کی بہت سی کوششوں، خواہ سیاسی ہوں یا فسادی، کے باوجود ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا (تاپی) پائپ لائن سے مخلص رہے ہیں۔

از نجیب اللہ


تاپی گیس پائپ لائن 1،840 کلومیٹر طویل ہو گی اور اس کا ترکمانستان کے گلکینیش گیس فیلڈ سے 2020 کے آغاز تک قدرستی گیس پمپ کرنا طے ہے۔ ایران اس منصوبے کا سخت مخالف ہے۔ [السڑائر ہملٹن]

تاپی گیس پائپ لائن 1،840 کلومیٹر طویل ہو گی اور اس کا ترکمانستان کے گلکینیش گیس فیلڈ سے 2020 کے آغاز تک قدرستی گیس پمپ کرنا طے ہے۔ ایران اس منصوبے کا سخت مخالف ہے۔ [السڑائر ہملٹن]

کابل -- ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا (تاپی) قدرتی گیس پائپ لائن منصوبے پر چاروں شرکاء کے درمیان اتفاقِ رائے کے باوجود ایران اس بہت زیادہ متوقع منصوبے کو سبوتاژ اور تباہ کرنے کے اپنے منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔

کئی بلین ڈالر لاگت والی اس پائپ لائن کے لیےایران کے تخریبی منصوبےبہت پہلے شروع ہو گئے تھے اور حالیہ مہینوں تک چلے آ رہے ہیں، اور ان میںتعمیر کو روکنے کے لیے سیاسی نیز فسادی کوششیں شامل ہیں۔

تاپی گیس پائپ لائن 1،840 کلومیٹر طویل ہو گی اور اس کا ترکمانستان کے گلکینیش گیس فیلڈ سے 2020 کے آغاز تک قدرستی گیس پمپ کرنا طے ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ جنوبی ایشیاء میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مدد دے گی اور جن چاروں ممالک میں سے گزرے گی ان کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنے گی۔

سبوتاژ کرنے کے اور تخریبی منصوبے

تاپی میں شامل چاروں ممالک کے حکام، بشمول پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، نے فروری میں پائپ لائن کے افغانستان کے حصے کا رسمی سنگِ بنیاد رکھا تھا۔

دو روز قبل، طالبان جنگجوؤں کے ایک گروہ نے صوبہ ہرات میں حکام کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے،یہ کہتے ہوئے کہ ایران نے انہیں تربیت اور اسلحہ فراہم کیا تھا، اور انہیں تقریب اور پائپ لائن پر حملہ کرنے کی ہدایات دی تھیں۔

طالبان کے 10 رکنی گروہ کے کمانڈر، محمد ایون علیزئی نے اس وقت سلام ٹائمز کو بتایا تھا، "ایران نے ہمیں پیسہ، ہتھیار اور آلات دیئے تھے تاکہ ہم [افغان] سیکیورٹی فورسز سے لڑ سکیں۔"

انہوں نے کہا، "حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے اور تاپی کی حمایت میں بھی، ہم نے لڑائی ترک کر دی اور ہتھیار ڈال دیئے۔"

22 اپریل کو،طالبان جنگجوؤں کے ایک دوسرے گروہ نے ایران پر ایسے ہی الزامات عائد کرتے ہوئے مقامی حکام کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔

سات رکنی گروہ کے قائد، فیروز احمد نے ہرات میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "ایران نے ہمارے کمانڈروں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیا اور انہیں تاپی پر حملہ کرنے اور اسے تباہ کرنے کا حکم دیا۔"

اس نے کہا، "ہم نے ان کے احکامات نہیں مانے، کیونکہ ہمارے پورے ملک کو تاپی سے فائدہ ہے۔ اس کی بجائے، ہم نے سیکیورٹی حکام سے رابطہ کیا، اور امن کے عمل میں شامل ہو گئے۔"

افغانستان کو ایک طرف کرنا

ان منصوبوں کی ناکامی سے ایران اس منصوبے کو روکنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنے سے باز نہیں آیا۔

قومی ایرانی تیل کمپنی کے انتظامی ڈائریکٹر، حامد رضا عراقی، نے 29 اپریل کو ترکمانستان کو گیس کے تبادلے کی ایک پیشکش کرتے ہوئے افغانستان اور تاپی کے دیگر شرکاء کو بائی پاس کیا جو ترکمانستان کی گیس کو ایران کے راستے پاکستان منتقل کرے گی۔

حفاظتی خوف سے ڈراتے ہوئے اور ترکمانستان کی تیزی کے ساتھ آمدنی کو بڑھانے کی خواہش کو راغب کرتے ہوئے، عراقی نے کہا۔ "بہترین منظرنامے میں، تاپی 10 برسوں میں مکمل کی جا سکتی ہے؛ ہنوز یہ واضح نہیں ہے کہ کون سا فریق منصوبے کی حفاظت اور سرمایہ کاری مہیا کرے گا۔"

ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے مطابق، اس بارے میں تفصیلات فراہم کیے بغیر کہ کتنی ترکمن گیس کا ایران تبادلہ کرنے کے لیے راضی ہو گا، انہوں نے کہا، "ہم ایک مختصر وقت میں ایک نمایاں کم قیمت پر یہ تبادلہ کروا سکتے ہیں۔"

یہ کہتے ہوئے کہ پیشکش پہلے کی گئی تھی، 29 اپریل کے بیان میں عراقی نے کہا، "ہم نے اپنی آمادگی کا اعلان ترکمانستان پر کیا ہے، کہ ہم ان کی گیس پاکستان برآمد کرنے کو تیار ہیں، لیکن ہمیں ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔"

ایران نے تاپی کی مخالفت میں منصوبے کے اپنے حصے کا کام مکمل کر لیا ہے اور اس کا مقصد ایرانی آفشور گیس فیلڈز کو پاکستان اور بالآخر ہندوستان کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔

پاکستان نے ایران سے گیس کی خریداری اور اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور تاپی کے ساتھ مخلص ہے۔

تاپی اپنی راہ پر گامزن

افغان وولیسی جرگہ میں لغمان سے تعلق رکھنے والے نمائندے، زیفونون صافی نے عراقی کے حالیہ تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "تاپی کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ لہٰذا، ایرانی کوششیں بیکار رہیں گی۔"

کابل یونیورسٹی پر ایک ماہرِ معاشیات، سیف الدین سیہون نے کہا، "ترکمانستان گیس کا ایک علاقائی برآمد کنندہ ہے۔ تاپی کو سبوتاژ کرنے کی بجائے، ایران کے لیے بہتر ہے کہ ایسے منفی مقابلے سے باز رہے اور کوئی دوسرا منصوبہ شروع کرے۔"

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا، "چونکہ ہمسائے تعاون کے لیے مواقع تخلیق کرنے کے متلاشی ہیں، ایران کو چاہیئے کہ معاشی منصوبوں کے اطلاق میں رکاوٹیں ڈال کر ایک صحت مند مقابلے کو تبدیل نہ کرے۔

[ہلمند سے ضیاء ثمر نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 11

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Umar ali | 06-04-2018

بہت خوب برائے مہربانی یہ کیجیےاس عمل کی بہت ضرورت ہے ہم اس سے متفق ہیں پاکستان زندہ باد


انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج