|

سفارتکاری

ایران کے پاکستان کے ساتھ تعلقات 'دوہرے معیار' کی وجہ سے خراب

اپنے حالیہ دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے جو کچھ بھی کہا اس کے باوجود، ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بداعتمادی کو پروان چڑھا رہی ہے۔

از عبدالغنی کاکڑ


ایرانی صدر حسن روحانی (درمیان میں) 17 فروری 2018 کو نئی دہلی میں ہندوستانی ایوانِ صدر میں ایک رسمی استقبالیہ کے دوران ہندوستانی صدر رام ناتھ کووند (بائیں) اور ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندرا مودی (دائیں) کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر کے ہندوستان کے تین روزہ سرکاری دورے میں فصیح و بلیغ تقاریر اور تجارتی معاہدے ہوئے جو کہ ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف کے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران دیئے گئے پیغامات کی نفی کرتے ہیں۔ [مونی شرما/اے ایف پی]

ایرانی صدر حسن روحانی (درمیان میں) 17 فروری 2018 کو نئی دہلی میں ہندوستانی ایوانِ صدر میں ایک رسمی استقبالیہ کے دوران ہندوستانی صدر رام ناتھ کووند (بائیں) اور ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندرا مودی (دائیں) کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر کے ہندوستان کے تین روزہ سرکاری دورے میں فصیح و بلیغ تقاریر اور تجارتی معاہدے ہوئے جو کہ ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف کے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران دیئے گئے پیغامات کی نفی کرتے ہیں۔ [مونی شرما/اے ایف پی]

اسلام آباد -- پاکستانی دفاعی اور انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف کے پاکستان کے حالیہ دورے نے دونوں ممالک کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کو بہتر نہیں بنایا ہے۔

ظریف نے اتوار تا منگل (11 تا 13 مارچ) پاکستان کا دورہ کیا جس میں انہوں نے دیگر حکام کے علاوہ پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے دفاعی انداز میں اپنے دورے کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے پاکستان کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ایران اور اس کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو خراب نہیں کر رہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ دورہ "منصوبہ بندی اور خواہش کے مطابق کامیاب نہیں رہا"۔

انہوں نے کہا، "ہماری دفاعی حکمتِ عملی خالصتاً پاکستان کے قومی مفادات پر مبنی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کے طور پر، پاکستان ہمیشہ اپنی ترجیحات پر چلے گا۔"

انہوں نے کہا کہ ریاست نے "سخت" طریقے سے ظریف سے مبینہ ایرانی جارحیت پر اپنی تشویشوں کا اظہار کیا ہے -- مثلاً ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا (تاپی) پائپ لائن کی افتتاحی تقریب جس میں پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقاق عباسی شریک تھے، پر ناکام حملے کی کفالت کرنا اور ایرانی ملیشیاؤں میں پاکستانی شیعوں کی متواتر بھرتیاں۔

انہوں نے کہا، "جاوید ظریف کو بتایا گیا کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور یہ کبھی بھی کسی بھی ملک کو کسی ذاتی مفاد کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔"

افسر نے کہا، "ایرانی وزیرِ خارجہ پر واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور ایسی کسی بھی کوشش یا اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جس کا نتیجہ خطے میں بغاوت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔"

ایرانی دوہرے معیار

پاکستانی دفاعی اور انٹیلیجنس تجزیہ کار ایرانی یقین دہانیوں پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی ایک سینیئر دفاعی تجزیہ کار میجر (ر) محمد عمر نے نے کہا، "میرا خیال ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کا پاکستان کا حالیہ دورہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔ جاوید ظریف نے پاکستان کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایران اس کی سلامتی کے خلاف کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے، لیکن عملی حقیقت اس یقین دہانی کے برعکس ہے۔"

عمر نے کہا کہ انہیں ظریف کے اس بیان پر "بہت حیرانی" ہوئی کہ ایران پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتا ہے۔

"ایران خود خطے میں دہشت گردوں کی کفالت کر رہا ہے؛ لہٰذا، میری رائے میں، جاوید ظریف کا حالیہ بیان ایران کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔"

انہوں نےکہا، "ایران پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو تباہ نہیں کر سکتا ۔۔۔ اب جبکہ خطے میں اس کی امن دشمن پالیسی ننگی ہو چکی ہے اور ہمسایہ ممالک -- بشمول پاکستان اور افغانستان -- اپنی سرزمین پر [ایران کی] شمولیت کی کھل کر مذمت کر رہے ہیں۔"

عمر نے کہا، "پاکستان ایران کے پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ معاہدوں کے متعلق بہت تشویش رکھتا ہے۔ خطے میں امن کے لیے یہ ضروری ہے کہ مذموم ایرانی منصوبے اور آئی آر جی سی کے متنازعہ کردار کا مقابلہ کیا جائے۔"."

انہوں نے کہا، "ایک طرف، ایران خطے میں انتہاپسندی کی کفالت کر رہا ہے، اور دوسری طرف یہ 'دولتِ اسلامیہ' (داعش) کے ساتھ لڑنے کی دعوے کر رہا ہے، جو کہ بہت طریقوں سے متضاد بات ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی شمولیت کی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔"

جاری تذبذب

راولپنڈی کے مقامی ایک سابق سینیئر پاکستانی انٹیلیجنس افسر، نبیل یوسف نے کہا، "ایران خطے میں پاکستان مخالف عناصر کی حمایت کر رہا ہے، اور یہ [خطے میں] اپنی بڑھتی ہوئی جارحیت کے لیے سرحدی تناؤ کو بڑھانا چاہتا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، لیکن کچھ ایرانی عناصر امن کے عمل کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر صورتحال کو بہتر بنانے اور ایرانی جارحیت پر قابو پانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے، تو یہ مزید بے یقینی پیدا ہونے کا سبب بنے گا۔"

یوسف نے کہا کہ ایران "اپنے منصوبوں کے متعلق دفاعی کیفیت میں ہے۔ لہٰذا، [ظریف] بار بار [پاکستانی حکام کو] یقین دہانی کروا رہا تھا کہ ایران کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔"."

انہوں نے کہا، "پاکستانی وزارتِ دفاع اور وزارتِ خارجہ کے حکام نے [ظریف سے] ایرانی جارحیت کے متعلق اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور اس معاملے پر ٹھوس اقدامات کرنے کو کہا۔"

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی اور اس کے زیرِ کفالت گروہوں کی جانب سے پاکستان کی مفادات کے خلاف اٹھائے جا رہے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان روابط میں مخل ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں، میرا خیال ہے کہ پاکستان کسی بھی ایرانی جارحیت پر خاموش نہیں رہے گا۔"

ایران کی خفیہ جنگیں اب مزید ایک راز نہیں ہیں

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وزارتِ دفاع میں خارجہ امور پر خدمات انجام دینے والے اسلام آباد کے ایک اعلیٰ افسر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان اور افغانستان میں ایران کے خفیہ کھیل اب کوئی راز نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی رخنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خطے میں ایرانی کردار روز بروز متنازعہ ہوتا جا رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی کی جانب سے اپنی پراکسی جنگوں میں لڑنے کے لیے پاکستان اور افغانستان سے شیعوں کی بھرتی خطے میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے اور "امن کو سبوتاژ" کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "پراکسی میدانِ جنگ ایران اور پاکستان کے درمیان سیاسی تعلقات کو خراب کر رہا ہے۔ اگر ایران چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات مثالی اور اختلاف سے پاک ہوں، تو اسے پاکستان کے تحفظات پر سنجیدگی سے توجہ دینی ہو گی۔"

اعتماد کے بغیر، "دونوں ممالک کے درمیان روابط فروغ نہیں پائیں گے،" کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "پاکستان اور ایران کے تعلقات باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کے مفادات کے احترام پر مبنی ہونے چاہیئیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 29

3 تبصرے 💬

💬

Dr Farooq Hasnat | 04-30-2018

یہ مکالہ پاکستان میں سعودی- ٹرمپ لابی کی دراندازی کی واضح عکاسی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چند پاکستانیوں کو امریکہ-بھارت-اسرائیل-سعودی اتحاد نے خرید لیا ہے۔ اس امر کی نشاندہی کی جانی چاہیئے تھی کہ حال ہی میں بھارتی مسلمانوں کے قاتل، مودی کو سعودیوں کے ساتھ ساتھ بھات موافق اسرائیلی حکومت کی جانب سے اعلیٰ ترین اعزاز ملا۔ خطے کے نئے اتحاد امریکہ-سعودی-اسرائیل-بھارت بمقابلہ پاکستان-ایران-ترکی-چین-روس شامل ہیں۔ آئیں نئی حقیقتوں کے لیے تیار ہو جائیں- جتنا جلد ہو جائیں، اتنا ہی بہتر ہو گا۔


💬

ابرار | 03-16-2018

درحقیقت ایران کا رویہ مثبت نہیں بلکہ دوھری معیار کا ھے پاکستانی اھلکاروں کی تشویش کا اظہار کافی نہیں ۔بلکہ وقت کا تقاضہ ھے کہ ایران کو نکیل ڈالا جائے ۔خطے میں ایران کے دھشتگردی کا موثر جواب دے شام لبنان عراق اور یمن کی خونریزی میں ایران مکمل طور پر ملوث ھے اور اس کا اگلا ھدف پاکستان ھی ھوگا ۔


💬

Jaffar | 03-16-2018

پاکستان مخالف پروپیگنڈہ بریگیڈ پھر سے یہی کر رہا ہے


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج