|

معاشرہ

ڈس ایبلڈ انکلوسیو ایسوسی ایشن پیش کرتی ہے امید اور معذوروں کے لیے امداد

یہ تنظیم، زیادہ تر اسلام آباد اور راولپنڈی میں، 300 افراد کی امدادکرتی ہے اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔

جاوید محمود


ڈس ایبلڈ انکلوسیو ایسوسی ایشن  (ڈی آئی اے) کی بانی، عائشہ رحمٰن (سامنے بائیں جانب) 23 اپریل کو اسلام آبادمیں اپنی تنظیم کے دیگر کے ہمراہ  ایک گروپ فوٹو بنوا رہی ہیں۔ [جاوید محمود]

ڈس ایبلڈ انکلوسیو ایسوسی ایشن (ڈی آئی اے) کی بانی، عائشہ رحمٰن (سامنے بائیں جانب) 23 اپریل کو اسلام آبادمیں اپنی تنظیم کے دیگر کے ہمراہ ایک گروپ فوٹو بنوا رہی ہیں۔ [جاوید محمود]

اسلام آباد – اسلام آباد کا ایک نو تشکیل شدہ معاون گروہ ڈس ایبلڈ انکلوسیو ایسوسی ایشن (ڈی آئی اے)جو کہ راولپنڈی اور مضافات میں بھی کام کرتا ہے، شدید معذور افراد کی مدد کرنے کے لیے اپنے کام میں توسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس غیر منافع بخش تنظیم کی 25 سالہ بانی اور صدر عائشہ رحمٰن نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم اس تنظیم کے ارکان کو معاشرہ کے فعال اور مؤثر ارکان بنانے کے مقصد سے انہیں " وہیل چیئرز اشیائے خوردونوش، کتابیں اور وردیاں فراہم کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا، "ہم ڈی آئی اے کے چند ایسے ارکان کی مدد بھی کررہے ہیں، جوروزی کمانے اور اپنے خاندانوں کے پیداواری رکن بننے کے لیے ماہرانہ تربیت کے[ متلاشی ہیں]۔"

انکرایبل مسکولر ڈائسٹروفی کا شکار رحمٰن 2007 میں 14 برس کی عمر میں وہیل چیئر کا معذور ہو گیا۔

اس نے کہا، "لیکن میں نے دل چھوٹا نہیں کیا۔"

رحمٰن نے 2014 میں بیچلر ڈگری حاصل کی اور اب وہ اسلام آباد کی علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے لائبریری سئنس میں بیچلر مکمل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر آپ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو کوئی معذوری [ہونا ]آپ کے عظیم مشن کی راہ میں نہیں آنا چاہیئے۔"

معذوروں کی مدد

رحمٰن نے کہا، "چند ماہ قبل، ہم نے پہلے ڈی آئی اے کو بطور غیر منافع بخش، غیر سرکاری تنظیم تشکیل دیا تاکہ ہم معذور افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی معاونت کے لیے بڑی پاکستانی اور غیرملکی تنظیموں سے چندے حاصل کر سکیں – جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اب تقریباً 300 معذور افراد اس تنظیم سے منسلک ہیں۔ تاہم متعدد معذور پاکستانی عسکریت پسندی سے متاثرہ خیبرپختونخوا میں رہتے ہیں جہاں یہ تنظیم مالیات کی کمی کی وجہ سے ان تک نہیں پہنچ پاتی۔

انہوں نے کہا، "فی الحال ہمارے پاس راولپنڈی اوراسلام آباد سے باہر رہنے والے ضرورت مندوں تک پہنچنے کے لیے کافی وسائل دستیاب نہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ہدف 2018 کے اواخر تک دیگر شہروں کے مکینوں تک پہنچ پانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ آئندہ ماہ رمضان کا آغاز ہوا چاہتا ہے، یہ تنظیم ارکان کو خوراک مہیّا کرنے کے لیے چندے اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزید چندوں کی تلاش

اسلام آباد میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ فورم کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا، "25 فیصد سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ حکومت اور معاشرہ کی جانب سے اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے معاونت کے مستحق ہیں۔"

انہوں نے معذوروں کی معاونت کے لیے حکومت اور مخیّر حضرات سے ڈی آئی اے کی کاوشوں کا ساتھ دینے کی اپیل کی، جسے وہ عظیم ترین مقصد وں میں سے ایک سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروباروں کو اپنے سالانہ منعافع کی ایک مخصوص شرحِِ فیصد سماجی فلاح میں صرف کرنی چاہیئے

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں اندراج شدہ تمام کمپنیوں کو لازم ہے کہ اپنے منافع کا کم از کم 5 فیصد معاشرہ ایا اپنے ملازمین کی فلاح کے لیے صرف کریں۔

مغل نے کہا کہ چند کمپنیاں اپنے منافع کا 10 فیصد تک پاکستان میں تعلیم، صحت اور صاف ستھرے ماحول پر صرف کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری قائدین کو چاہیئے کہ ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے اس عمل میں مقابلہ کریں ۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج