|

ٹیکنالوجی

خیبر پختونخواہ کے تعلیمی منصوبے طلباء کو قابِلِ فروخت ڈیجیٹل صلاحیتیں سکھا رہے ہیں

عہدیداران کے مطابق بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور تعلیم سے آراستہ کرنا خیبرپختونخواہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

دانش یوسفزئی


پار ہوتی مردان کے گورنمنٹ پرائمری اسکول کے طلباء نے گزشتہ 12 اپریل کو موبائل ایپلیکیشن بنائی۔ خیبرپختونخواہ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (کے پی آئی ٹی بی) اپنے ارلی ایج پروگرامنگ (ای اے پی) منصوبے کے تحت کلاس 6 تا 9 تک ڈیجیٹل صلاحیتوں میں تربیت فراہم کرتا ہے۔ ]وزارت برائے بنیادی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخواہ[

پار ہوتی مردان کے گورنمنٹ پرائمری اسکول کے طلباء نے گزشتہ 12 اپریل کو موبائل ایپلیکیشن بنائی۔ خیبرپختونخواہ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (کے پی آئی ٹی بی) اپنے ارلی ایج پروگرامنگ (ای اے پی) منصوبے کے تحت کلاس 6 تا 9 تک ڈیجیٹل صلاحیتوں میں تربیت فراہم کرتا ہے۔ ]وزارت برائے بنیادی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخواہ[

پشاور – خیبر پختونخواہ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (کے پی آئی ٹی بی) کے ارلی ایج پروگرامنگ (ای اے پی) منصوبے میں اندراج سے قبل پندرہ سالہ حفصہ طارق خان نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسمارٹ فون ایپلیکیشن بنانا ایسی چیز ہے جسے کوئی نویں کلاس کا طالب علم حاصل کر سکتا ہے۔

لیکن گورنمنٹ کمپری ہنسیو گرلز ہائر سیکنڈری اسکول پشاور کی طالبہ حفصہ نے یہ کر دکھایا۔

ایم آئی ٹی میڈیا لیب کے فراہم کردہ ایک مفت آن لائن پروگرامنگ ٹول کا حوالہ دیتے ہوئے حفصہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں نے سکریچ استعمال کرتے ہوئے ایک اسمارٹ فون ایپلیکیشن پروگرام کی ہے جسے ٹیلیویژن کہا جاتا ہے۔ میری ایپ استعمال کرتے ہوئے آپ خبروں، موسم، کھیلوں، کارٹون، کھانا پکانے، موسیقی اور ڈراموں کے چینلوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔"

اس نے کہا کہ "اس اقدام نے پروگرامنگ سے متعلق میری سوچ بدل دی ہے۔"

حفصہ جماعت چھ تا نو کے ان 3,000 اسکول طلباء میں شامل ہے جنہیں ای اے پی کے پہلے مرحلے میں تربیت فراہم کی گئی، جو مئی سے دسمبر 2017 تک جاری رہا۔ انہیں پورے صوبے کے 60 اسکولوں سے منتخب کیا گیا تھا۔ کے پی ٹی آئی بی نے اپریل میں منصوبے کے نفاذ کے لیے اساتذہ اور معلمین کو تربیت دی۔

ای اے پی مینیجر ذیشان خان کے مطابق جنوری میں شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں، کے پی ٹی آئی بی 300 سے زائد اسکولوں کے 15,000 طلباء کو مارکیٹ پر مبنی ڈیجیٹل صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کا حدف رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے کا مقصد سرکاری اسکولوں میں "فرسودہ" کمپیوٹر کورسوں کی بجائے سافٹ ویئر کوڈنگ اور پروگرامنگ میں تربیت فراہم کرنا ہے۔

آٹھ ماہ کے دورانیے میںِ طلباء اسکولوں میں اپنے فارغ پیریڈز میں دو سے تین گھنٹے فی دن ڈیجیٹیل مہارتیں سیکھتے ہیں۔

ذیشان خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ای اے پی نے دلچسپی اور باہمی تعاون والے ماحول میں طلبہ کی code.org اور سکریچ کے استعمال کے ذریعے سافٹ ویئر کوڈنگ میں تربیت پر توجہ مرکوز کی ہے۔ہماری توجہ بلاگ پروگرامنگ ]اس کے ساتھ ساتھ[ اسمارٹ فونز کے لیے ایپس اور گیم ڈویلپمنٹ پر ہے۔"

ڈیجیٹیل صلاحیتوں کو ملازمتوں میں بدلنا

ایک اسی طرح کے اقدام کے ذریعے کے پی ٹی آئی بی نے یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام (وائے ای پی) کا پہلا مرحلہ اپریل 2016 میں شروع کیا جو گزشتہ اکتوبر ختم ہوا۔

وائے ای پی کے تحت، 2,100 طلباء کو مختلف کورسوں میں گیم ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل کاروباری بات چیت، بلاگنگ اور مواد تحریری، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، یوٹیوب اور باہمی تعاملی میڈیا، ورڈ پریس، فل سٹیک ڈویلپمنٹ اور ٹیکنالوجی میں خواتین اور ڈیٹا سائنسز جیسے موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی ہے۔

وائے ای پی کا دوسرا مرحلہ گزشتہ اکتوبر شروع کیا گیا اور یہ دسمبر 2019 تک جائے گا جس کا مقصد 40,000 طلباء کو مارکیٹ پر مبنی ڈیجیٹل صلاحیتوں کا متحمل بنانا ہے۔

وائے ای پی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شعیب خان کے مطابق وائے ای پی حکومت کے نئے "ڈیجیٹل خیبر پختونخواہ" اقدام کا حصہ ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ رسائی بڑھانا، ڈیجیٹل صلاحیتیں پیدا کرنا، ڈیجیٹل نگرانی بہتر بنانا اور صوبے میں ڈیجیٹل معیشت بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ان کورسوں کا مقصد ان اہم ڈیجیٹل صلاحیتوں کا فروغ ہے جو آج کی ڈیجیٹل معیشت میں انتہائی مطلوب ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "ہمارے زیادہ تر گریجویٹس نے آن لائن مارکیٹنگ اور مختلف مصنوعات کی فروخت کے ذریعے آمدنی حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ ہم نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارا ہے اور انہیں وہ آلات اور تکنیکیں فراہم کی ہیں جو انٹرنیٹ پر ذریعہ معاش کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔"

وزیر برائے بنیادی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخواہ عاطف خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان کے لیے ترقی کا بہترین وسیلہ یہی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کریں اور تربیت فراہم کریں، اور یہ ہماری حکومت اور تعلیمی پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔"

انہوں نے کہا کہ، "ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ہمدرست ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کے استعمال کے ذریعےاپنا مسقبل مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ مستقبل میں تمام بچے ٹیکنالوجی پر انحصار کریں گے اور تب ہی کامیاب ہو سکیں گے اگر وہ اپنے گرد موجود ٹیکنالوجی کے ماہر صارف ہوں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

سعید اللہ ثقلین | 02-13-2018

بہت زبردست امید ہے جلد باقی صوبوں میں بھی جلد ایسے پروگرام سٹارٹ کیے جاءیں گے


انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج