|

نوجوان

خیبرپختونخواہ میں امن اور ترقی کے لیے تعلیم لازمی ہے

کاروان تنظیم اور برٹش پشتون ایسوسی ایشن نے خیبر پختونخواہ میں عسکریت پسندی کے انسداد اور ترقی میں اضافے کے لیے مل کر کام کرنا شروع کیا ہے۔

سید عنصر عباس


برٹش پشتون ایسوسی ایشن کے صدر فضلِ ربی، بائیں، 9 اپریل کو پشاور میں زمونگ کور یتیم خانے میں ایک کلاس کا دورہ کر رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ کاروان تنظیم[

برٹش پشتون ایسوسی ایشن کے صدر فضلِ ربی، بائیں، 9 اپریل کو پشاور میں زمونگ کور یتیم خانے میں ایک کلاس کا دورہ کر رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ کاروان تنظیم[

پشاور - سول سوسائٹی کی تنظیمیں خیبرپختونخواہ (کے پی) میں تعلیمی شعبے کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں تاکہ عسکریت پسندی کو روکا جا سکے اور علاقے میں امن کو فروغ دیا جا سکے۔

خصوصی طور پر دو تنظیمیں - کاروان تنظیم جو کہ پشاور میں ہے اور برٹش پشتون ایسوسی ایشن (بی پی اے) جو کہ برطانیہ میں ہے، تعلیمی سطح کو بلند کرنے، نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنے اور انہیں عسکریت پسندی، تشدد اور انتہاپسندی سے دور کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔

عوامی آگاہی اور شرکت کو بڑھانا

کاروان تنظیم 2006 سے دہشت گردی کے انسداد اور تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

این جی او کے چیرمین خالد ایوب نے کہا کہ تنظیم کی چالیس کونسلیں ہیں جو دانش وروں اور ماہرین پر مشتمل ہیں اور وہ حکومتی اداروں میں اصطلاحات کی حوصلہ افزائی میں مدد کرتی ہیں۔

انہوں نے کے پی کی تنازعات کے حل کی کونسلوںکی مثال دیتے ہوئے، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے بنانے میں کاروان کی کوششیں بھی شامل تھیں پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "حکومتی اداروں کے لیے عوامی شرکت کے بغیر کچھ بھی قابلِ عمل نہیں ہے"۔

ایوب نے کہا کہ "ایسے ہی، کاروان نے عوام کی حمایت سے حکومت کو رضامند کیا کہ وہ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرے"۔

انہوں نے کہا کہ "اب ہم علاقے کے نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنے لگے ہیں جو کہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور انہیں تعلیم، صلاحیتں اور مثبت سرگرمیاں فراہم کی جائیں گی تاکہ پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کے قائم کیا جا سکے"۔

تعلیم کی مشترکہ کوششیں

ایوب نے کہا کہ "ہم ایک حکمتِ عملی وضح کر رہے ہیں جو ان وجوہات کا خاتمہ کرے گی جنہوں نے معصوم نوجوانوں کو تباہ کن سرگرمیوں میں ملوث کر دیا ہے۔ بی پی اے نے پہلے ہی اس عظیم کام میں ہماری مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے"۔

بی پی اے کے صدر فضلِ ربی جو کہ سول انجنیئر ہیں، کے مطابق بی پی اے نے گزشتہ 15 سالوں میں برطانیہ میں پشتون برادری خصوصی طور پر نوجوانوں اور طلباء کو مدد فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی پی اے نے کے پی میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معاشرے کی سوچ کو بدلا جا سکے جس کا انتہاپسندوں نے بہت زیادہ استحصال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنے کی انتہائی شدید ضرورت ہے تاکہ انہیں عسکریت پسندی، تشدد اور انتہاپسندی سے دور رکھا جا سکے"۔

کے پی کی دیر ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والے فضل، برطانیہ سے تعلق رکھںے والے پشتون برادری کے 10 ارکان پر مبنی وفد کے سربراہ ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی پی اے نے کاروان کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا ہے تاکہ اپنے مشترکہ مقصد -- کے پی میں طلباء کا تعلیمی معیار بلند کرنے میں مدد کرنا -- کو حاصل کیا جا سکے۔

فضل نے کہا کہ "ہم کے پی کے تعلیمی اداروں کی نتیجہ خیز تعلیم میں مدد اور امداد فراہم کر سکتے ہیں جو طلباء کو مستقبل کے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے میں مدد فراہم کرے گی"۔

نوجوانوں کو انتہاپسندی سے دور کرنا

فضل نے کہا کہ تعلیم کے علاوہ، نوجوانوں کو مہارت کی تربیت کی بھی ضرورت ہے جس سے انہیں ملازمتیں ملیں اور ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرہ قائم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ "غریب اور بے روزگار نوجوانوں کو انتہاپسند آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں"۔

وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان معاشرے کے کارآمد رکن بن جائیں اور نفرت اور تخریبی سرگرمیوں میں اپنی توانائیوں کو خرچ کرنے کی بجائے ایسی سرگرمیوں میں شرکت کریں جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوں۔

انہوں نے کہا کہ "پرامن شہری امن کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ اب یہ مناسب وقت ہے کہ نوجوانوں میں استحصال کرنے والوں اور امن کے دشمنوں کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے"۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی راہنما، حجرہ (مردوں کا سماجی اجتماع) کی بحالی اور جرگہ (مشاورتی ملاقاتیں) ان مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے لیے نوجوانوں کو استعمال کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ نہ صرف کے پی کے لیے بلکہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور پاکستان کے لیے اور دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "کاروان نوجوانوں کی توانائیوں کو مناسب اور تعمیری انداز میں استعمال کرنا چاہتی ہے"۔

انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہ حکومت "نوجوانوں کے لیے تفریحی مراکز، پارک، کھیل کے میدان، اسٹیڈیم اور سپورٹس کامپلکس بنائے" کہا کہ "ہم اس سلسلے میں مدد کے لیے حکومت کے پاس جائیں گے"۔

تعلیم، سماجی اصلاحات

بی پی اے کے خواتین کے ونگ کی صدر اور فضل کی اہلیہ طاہرہ ربی نے کہا کہ بی پی اے تعلیم کے ایک نئے ماڈل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "صرف اچھے نمبروں سے امتحان پاس کرنا اور ڈگری حاصل کرنا پرانا نظام ہے۔ اب ہمیں نئی جدید تعلیم کی ضرورت ہے جس کے ذریعے طلباء معاشرے میں ایک موثر اور محنت طلب کردار ادا کر سکیں"۔

طاہرہ جو کہ خود استاد ہیں، نے نتیجہ خیز تعلیمی نظام متعارف کروانے کے لیے کے پی کو اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "برطانیہ کی طرح، یہاں پاکستان میں بھی ہم ایسا نظام متعارف کروانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ صرف امتحان پاس کرنا اہم نہیں ہے بلکہ معاشرے میں تعاون کرنا ضروری ہے"۔

مردان کی عبدل ولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے چیرمین شیراز پراچہ نے اتفاق کیا کہ نوجوانوں کی سوچ کو بدلنے کے لیے تعلیمی نظام کی از سرِ نو تعمیر ضروری ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نصاب اور تعلیمی نظام کی اصلاحات کے علاوہ، اساتذہ کو طلباء کی ضروریات کو پورا کرنے کی مناسب تربیت دی جانی چاہیے"۔

پراچہ نے کہا کہ "اسکولوں اور کالجوں میں شخصیت اور کردار کو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف ڈگری حاصل کرنا اور اچھے نمبر لینے سے معاشرہ تبدیل نہیں ہو جائے گا"۔

"جنگ اور تشدد حل نہیں ہے"

یونیورسٹی آف پشاور کے سوشل ورک کے شعبہ کے سابقہ چیرمین بشارت حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جہاد جنگ کا نام نہیں بلکہ اچھے کام کرنا، فلاحی کام، دوسروں کی مدد کرنا اور کسی بھی اچھی سرگرمی میں شرکت کرنا بھی جہاد تصور کیا جاتا ہے"۔

انہوں نے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرنے کے خیال کی حوصلہ افزائی کی۔

حسین نے کہا کہ "کے پی اور فاٹا کے نوجوان باصلاحیت ہیں مگر بدقسمتی سے راہنمائی اور ملازمتوں کے نہ ہونے کے باعث، دہشت گردوں نے انہیں گمراہ کر دیا۔ دہشت گردی نے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر کے پی اور فاٹا کو تباہ کر دیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرامن معاشرے کے لیے برداری کی مداخلت بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ "جنگ اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ باہمی احترام، گفت و شنید، مباحثے اور کچھ لو اور دو کی پالیسی کسی بھی جھگڑے کو خوش اسلوبی سے حل کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کیا جانا چاہیے اور آخرکار معاشرہ ترقی یافتہ اور پرامن ہو جائے گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
khalid ayub chairman karwan | 06-20-2017

there must b interaction of the international communities to join hands against terrorism & injustice in the world for general public.world need economic& political reforms to bring happiness in life of poor massess

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج