2017-12-04 | رواداری

پاکستان نے سکھ فوجی افسر کی شادی سے اقلیتی حقوق کا جشن منایا

محمد آحل

حاضر اور ریٹائرڈ فوجی حکام نے پاکستانی فوج کے پہلے سکھ افسر میجر ہرچم سنگھ کی شادی میں شرکت کی۔


پاکستانی فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ افسران 3 دسمبر کو حسن ابدال میں میجر ہرچم سنگھ کے ساتھ اس کی شادی پر تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ ]آئی ایس پی آر[
پاکستانی فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ افسران 3 دسمبر کو حسن ابدال میں میجر ہرچم سنگھ کے ساتھ اس کی شادی پر تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ ]آئی ایس پی آر[
پاکستانی فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ افسران 3 دسمبر کو حسن ابدال میں میجر ہرچم سنگھ کے ساتھ اس کی شادی پر تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ ]آئی ایس پی آر[

حاضر اور ریٹائرڈ فوجی حکام نے پاکستانی فوج کے پہلے سکھ افسر میجر ہرچم سنگھ کی شادی میں شرکت کی۔

پشاور -- پاکستانی فوج اور اقلیتوں کے حقوق کے سرگرم کارکن میجر ہرچم سنگھ کی شادی کا جشن منا رہے ہیں اور اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ فوجی مواقع معاشرے کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ہیں۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان کے مطابق، سنگھ پاکستانی فوج کے پہلے سکھ افسر ہیں۔ ان کی اتوار (3 دسمبر) کو گوردوارہ پنجہ صاحب، حسن ابدال، صوبہ پنجاب میں شادی ہوئی۔

بہت سے حاضر اور ریٹائرڈ فوجی افسران نے شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سنگھ کو ان کی شادی پر مبارک باد دی اور پاکستان کے دفاع میں ان کی خدمات کی خوشی منائی۔

حکام اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ سنگھ 2007 سے فوج میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور عہدوں میں ان کی ترقی اس بات کی عکاسی ہے کہ فوج میں پاکستانی معاشرے کے تمام حصوں کو برابری کے مواقع حاصل ہیں اور یہ پاکستان کے تنوع کا جشن ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ "پاکستانی فوج قومی انضمام اور پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے احترام کی علامت ہے"۔

سکھ اقلیت کے حقوق کے سرگرم کارکن رادیش ٹونی جن کا تعلق پشاور سے ہے نے سنگھ کو "سکھ برادری کا فخر اور مٹی کا بہادر بیٹا قرار دیا جو اپنی مادرِ وطن کی خمت کے لیے وہاں موجود ہے"۔

ٹونی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو عبادت کرنے کی آزادی ہے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں مواقع حاصل ہیں۔ انہوں نے فوج میں سنگھ کی ترقی کا کیپٹن سیسل چوہدری جو کہ پاکستان کے ایک سابقہ عیسائی لڑاکا پائلٹ اور جنگی ہیرو تھے جنہوں نے 1958 سے 1986 تک خدمات سرانجام دئیں اور جن کا 2012 میں انتقام ہوا، اور اقلیتوں کے دوسرے افسران سے موازنہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی دوسری اقلیتں ہیں جن کی کامیابی "اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ ہر برادری کا رکن اگر صلاحیت رکھتا ہو تو شہرت کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے"۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ اور تعلیم، صحت اور دوسرے شعبوں میں خصوصی نشستوں کو مختص کرنے کی ضرورت ہے۔

برابری کی راہ میں ابھی بھی رکاوٹیں ہیں

پشاور سے تعلق رکھنے والی سول سوسائٹی کی تنظیم بلو وائنز کے چیف ایگزیکٹیو قمر نسیم نے کہا کہ "مجموعی طور پر معاشرے میں کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے۔ اقلیتوں کو رہنے، عبادت اور ہر میدان میں خدمات انجام دینے کی اجازت ہے مگر انتظامی اور آئینی سطحوں پر کچھ ابہام پائے جاتے ہیں جن کی جانچ پڑتال اور درستگی کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارے مذہب میں بھی اقلیتوں کے حقوق شامل ہیں مگر شادی کے اندراج اور وراثت جیسے آئینی حقوق کو مضبوط بنانے اور دیگر ایسے انتظامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے اقلیتیں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں"۔

نسیم نے کہا کہ جہالت کے باعث کچھ افراد کا اقلیتوں کے کی طرف تعصب موجود ہے مگر اس پر آگاہی کی مہمات کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

پاکستان اقلیتی اتحاد کونسل خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اگستن جیکب نے کہا کہ مجموعی طور پر پاکستان میں مذہبی اقلیتیں اپنے آپ کو "محفوظ" محسوس کرتی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہو سکتا ہے کہ ایسے کچھ عناصر موجود ہوں جو جہالت کے باعث ہٹ دھرم ہوں مگر مجموعی طور پر اقلیتی ارکان کے طور پر ہماری عزت کی جاتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ غربت اور مواقع کی عدم دستابی سے معلقہ کچھ مسائل موجود ہیں مگر اقلیتں "آگے بڑھ سکتی ہیں اور خدمات انجام دے سکتی ہیں جیسا کہ ہم نے انہیں صحت، تعلیم اور یہاں تک کہ فن، ثقافت اور موسیقی کی تشہیر کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے"۔

ہندو اقلیتی راہنما اور سماجی سرگرم کارکن ہارون سراب دیال، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کچھ انتظامی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کے باجود "اقلیتی برادری کے ارکان کو کسی بھی دوسرے پاکستانی کی طرح ترقی کرنے کے تمام مواقع حاصل ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "تعصب ۔۔۔ جو ہو سکتا ہے کہ چند لوگوں کی طرف سے ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ اقلیتوں کی طرف صرف اقلیت ہونے کے باعث کوئی تعصب نہیں ہے۔ پھر بھی ریاست کو اقلیتوں کے لیے مناسب قوانین بنانے کی ضرورت ہے جن کی اشد ضرورت ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج