2017-12-04 | معاشرہ

حکومتِ کے پی ماہانہ وظیفہ کے ساتھ مقامی فنکاروں کی معاونت کرے گی

سیّد عنصر عبّاس

حکومت 500 فنکاروں کو 30,000 روپے (300 ڈالر) وظیفہ دے رہی ہے، ان میں سے متعدد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں متاثر ہوئے ہیں۔


گزشتہ جنوری پشاور میں چترال کلچرل اینڈ میوزیکل نائیٹ کے دوران ایک فنکار مظاہرۂ فن دکھا رہا ہے۔ حکومت کے پی نے اس تقریب کا انعقاد کیا۔[سیّد عنصر عبّاس]
گزشتہ جنوری پشاور میں چترال کلچرل اینڈ میوزیکل نائیٹ کے دوران ایک فنکار مظاہرۂ فن دکھا رہا ہے۔ حکومت کے پی نے اس تقریب کا انعقاد کیا۔[سیّد عنصر عبّاس]
گزشتہ جنوری پشاور میں چترال کلچرل اینڈ میوزیکل نائیٹ کے دوران ایک فنکار مظاہرۂ فن دکھا رہا ہے۔ حکومت کے پی نے اس تقریب کا انعقاد کیا۔[سیّد عنصر عبّاس]

حکومت 500 فنکاروں کو 30,000 روپے (300 ڈالر) وظیفہ دے رہی ہے، ان میں سے متعدد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں متاثر ہوئے ہیں۔

پشاور – حکام کا کہنا ہے کہ حکومتِ خیبر پختونخوا (کے پی) صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور دہشتگردی سے متاثرہ مقامی فنکاروں کی معاونت کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

دوسرے سالانہ شفقت کے زندہ امین ایوارڈز کے جزُ کے طور پر کے پی نظامتِ ثقافت فنکاروں کو ایک ماہانہ وظیفہ فراہم کرے گی۔ اس نے اس منصوبے کے لیے 148 ملین روپے (1.4 ملین ڈالر) مختص کیے، جن میں کتابوں کی اشاعت کے لیے 5 ملین روپے (50,000 ڈالر) شامل ہیں۔

حکام نے پیر (27 نومبر) کو درخواستیں طلب کی ہیں، جس کے بعد متعدد فنکاروں پر مشتمل ایک 20 رکنی کمیٹی نو ماہ تک 30,000 روپے (300 ڈالر) ماہانہ وظیفہ وصول کرنے کے لیے — مصنّفین، اداکاروں، گلوکاروں، شاعروں، مصوّروں، موسیقاروں اور دیگر سمیت -- 500 دیگر افراد کو منتخب کرے گی۔

باقی کے فنڈز سلیکشن کمیٹی اور تشہیر کے اخراجات پورا کریں گے۔

توقع ہے کہ سلیکشن کمیٹی تقریباً ایک ماہ میں اپنا فیصلہ لے گی۔

کے پی نظامتِ ثقافت کے سربراہ اجمل خان نے کہا کہ یہ وظیفہ دہشتگردی سے متاثرہ صوبہ میں ثقافت کو فروغ دینے میں ایک مثبت کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ کے پی نے دوسرے برس کے لیے اس منصوبہ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ فنکاروں کی ایک بڑی تعداد نے مالی معاونت کے لیے نظامتِ ثقافت سے رجوع کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم فنکاروں کو غریب دیکھنا نہیں چاہتے لیکن ۔۔۔ ہم ان پر مرکوز ہوں گے جنہوں نے اپنے متعلقہ شعبوں میں معیاری کام پیدا کیا۔“

مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حکومتِ کے پی اداکاروں، مصنّفین اور دستکاروں کے لیے ایک وقف فنڈ تشکیل دینا اور پشاور کے نشتر ہال میں ایک مستقل آرٹ گیلری تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

فنکاروں کو واپس کے پی میں لانا

نظامتِ ثقافت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریاض خان نے کہا، ماضی میں صوبے میں اداکار ”دہشتگردوں کی جانب سے مسلسل خطرہ“ میں تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”دہشتگردی کے دور میں خطے کے فنکاروں کو اپنا پیشہ چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ان میں سے متعدد ملک کے دیگر حصّوں میں منتقل ہو گئے، جس سے ان کے پیشہ اور ذریعۂ آمدنی کو بری طرح نقصان پہنچا۔“

انہوں نے کہا، ”حکومتِ کے پی [اداکاروں کے] فن کی تجدید کر کے ان کے چہروں پر زندگی اور ہنسی دوبارہ لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا مقصد فنکاروں کی تسہیل کر کے فن کو حیات نو بخشنا ہے۔“

خان نے کہا کہ حکومتِ کے پی نے فنکاروں کو خراجِ تحسین دینے اور فن اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اس منصوبے کا آغاز کیا۔

گزشتہ برس کی وظیفہ انتخابی کمیٹی کے ایک رکن اور ریڈیو پاکستان پشاور کے ریجنل ڈائریکٹر لائق زادہ لائق نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے فنکاروں کی ایک بڑی تعداد مستفید ہوئی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس مرتبہ گزشتہ مستفید ہونے والوں کو وظیفہ عطا نہیں کیا جانا چاہیئے اور نئے وصول کنندگان کو وظیفہ حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔“

امداد کا خیر مقدم

فنکاروں اور ثقافتی رہنماؤں نے صوبے میں ثقافت کی امداد کے لئے حکومتی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

پشاور سے پشتو اردو اورہندکو ڈراموں کے ایک فنکار نجیب اللہ انجم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فنکار معاشرے کا بہت نظرانداز کیا جانے والا حصہ ہیں، اور وظیفہ کا [ایک اور سال] جاری رہنا قابل تعریف ہے۔"

انہوں نے بتایا، "وظیفے کے سلسلے کو جاری رکھنے کا حکومتی فیصلہ مزید معیاری کام پیش کرنے کے لئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔"

پشاور سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان کے ایک شاعر اباسین یوسف زئی نے بھی حکومت کے وظیفہ پروگرام کی ستائش کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فنکار ہمیشہ معاشرے کو خوشیاں دیتے ہیں، کیونکہ وہ رائے عامہ ہموار کرتے اور ایک صحت مند اجتماعی معاشرے کو فروغ دیتے ہیں۔"

انہوں نے بتایا، جب فنکار مالی پریشانیوں سے آزاد ہوں تو کھلے ذہن کے ساتھ کام کرسکتے ہیں، ان کی تخلیق کاری پھلتی پھولتی ہے، وہ معاشرے میں انتہاپسند نظریات اور نفرت کرنے والوں کا رد کرسکتے ہیں اور ایک متوازن معاشرے کی تخلیق میں مدد کر سکتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے

ګل نظيرمنګل | 12-05-2017

فنکاروں کی معاونت کرنے پر میں حکومتِ خیبر پختونخوا کا شکرگزار ہوں؛ میں نے لوک شاعری کے 45 سے زائد کیسیٹ ریکارڈ کیے ہیں؛ مجھے متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں؛ میں نے شاعری کی 2 کتب تحریر کی ہیں؛ یہ سب GOOGLE اور YOUTUBE پر دستیاب ہیں۔ بدقستی سے کرم میں دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے ہم کوہاٹ چلے آئے۔ گزشتہ برس ہمارے گھر تباہ ہو گئے۔ میں نے بھی اپنی درخواست جمع کرائی تھی لیکن کچھ نہ ہوا۔ اب میں نے دوبارہ اپنی درخواست جمع کرائی ہے۔ یہاں ہنر اور خدمات کی قدر نہیں کی جاتی۔ ہرچیز کا دارومدار سفارش پر ہے۔ جنہیں ادائیگیاں کی جاتی ہیں وہ امیر فنکار یا شاعر ہیں؛ یا انہوں نے صرف چند غزلیں ہی تالیف کی ہیں؛میرے معروف گیت یہ ہیں: 1۔ مجھ سے سونے کی نتھلی مت مانگو 2۔ پیارے، اگر تمھیں بلند جگہیں پسند ہیں؛ وغیرہ۔

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج