|

جرم و انصاف

کے پی پولیس نے بہتر تحقیقات کے ساتھ دہشت گردوں کو سزائیں دلوانے کی شرح میں اضافہ کیا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ بہتر ٹیکنالوجی اور تحقیقات اور ثبوت جمع کرنے کی مہارتیں گزشتہ دو ماہ میں 19 افراد کو سزائیں دلوانے پر منتج ہوئی ہیں۔

از جاوید خان


کے پی پولیس سی ٹی ڈی 9 نومبر کو پشاور میں سات مشتبہ دہشت گردوں کو ذرائع ابلاغ میں پیش کرتے ہوئے۔ کے پی میں، پولیس کے بہتر کام کی وجہ سے مشتبہ دہشت گردوں کو سزائیں دلوانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ [کے پی پولیس سی ٹی ڈی]

کے پی پولیس سی ٹی ڈی 9 نومبر کو پشاور میں سات مشتبہ دہشت گردوں کو ذرائع ابلاغ میں پیش کرتے ہوئے۔ کے پی میں، پولیس کے بہتر کام کی وجہ سے مشتبہ دہشت گردوں کو سزائیں دلوانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ [کے پی پولیس سی ٹی ڈی]

پشاور -- حکام کے مطابق، خیبر پختونخوا (کے پی) میں دہشت گرد حملوں کی تحقیقات کا معیار بہتر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ مہینوں میں 19 دہشت گردوں کو سزائیں دلوائی گئی ہیں۔

طریقۂ کار میں موجود خامیوں کو دور کیا گیا ہے اور اعلیٰ سطحی مقدمات میں تفتیش کاروں نے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے حالیہ برسوں میں خصوصی تربیت حاصل کی ہے۔ ان اصلاحات نے کئی انواع کے واقعات میں دہشت گردوں کو سزا دلوانے میں پولیس کی مدد کی ہے۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم تحقیقات، خصوصاً اعلیٰ سطحی تحقیقات، کو بہتر بنانے کے لیے کے پی پولیس کے تحقیقاتی شعبے میں اصلاح کرنے کے لیے مصروفِ عمل رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ کے پی پولیس نے تحقیقات اور کارروائیوں کے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کو خصوصی تربیت فرایم کرنے کے لیے حیات آناد میں ایک اکیڈمی کھولی ہے۔

محسود نے کہا، "خصوصی کورسز اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے مقدمات کی تحقیقات کو بہتر بنایا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے شعبۂ تحقیقات اور شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی وصول کی ہے۔

بہتر تحقیقات، زیادہ لوگوں کو سزائیں

اعلیٰ پولیس حکام کے مطابق، زیادہ قابلیت سے کی جانے والی تحقیقات اور سی ٹی ڈی میں بہتریوں کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں سزائیں دلوانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

سی ٹی ڈی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وقار احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سی ٹی ڈی مقدمات کے دوران سزائیں دلوانے کی شرح موجودہ سال میں 66 فیصد ہے، جو کہ پچھلے سال 43 فیصد اور 2015 میں 31 فیصد تھی۔"

کے پی سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس زاہد اللہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، " گزشتہ دو ماہ کے دوران مختلف دہشت گرد حملوں میں ملوث اُنیس عسکریت پسندوں کو [کے پی] انسدادِ دہشت گردی عدالتوں (اے ٹی سیز) کی جانب سے سزائیں سنائی گئیں۔"

خان کے مطابق، اعلیٰ سطحی دہشت گردوں کو سزائیں ملنا دیگر کے لیے ایک عبرت کا کام کرے گا اور کے پی کے مکینوں میں تحفظ کے احساس کو بڑھائے گا۔

انہوں نے کہا، "یہ شعبۂ تحقیقات میں مجموعی بہتری کی وجہ سے ہے کہ دہشت گردوں کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے سزائیں ہو رہی ہیں۔"

دہشت گردوں کو دور رکھنا

سی ٹی ڈی کے ریکارڈ کے مطابق، پچھلے دو ماہ کے دوران سزائیں پانے والوں میں شیخ ہارون اور عصمت اللہ شامل ہیں، جنہیں پچھلے سال پشاور میں اغواء برائے تاوان میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اکتوبر میں پشاور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اس جوڑے کو سزائے عمر قید دی تھی اور ہر ایک کو 200،000 روپے (1,900 ڈالر) جرمانہ کیا تھا۔

تین دیگر دہشت گردوں -- سید عمیر، محمد کامران اور محمد سہیل -- کو دسمبر 2015 میں پشاور میں پولیس کے ایک کاروان پر حملہ کرنے کے جرم میں 23 سال سزائے قید اور ہر ایک کو 500،000 روپے (4،750 ڈالر) جرمانے کی سزا دی گئی۔

پشاور کے ایک وکیل، عادل خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ان مقدمات، جن کی موزوں طور پر تحقیقات ہوئیں اور تمام مطلوبہ ثبوت موجود تھے، کے فیصلے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے حق میں گئے۔"

انہوں نے کہا کہ ماضی میں، اگر پولیس ناقص تحقیقات پر مشتمل مقدمات پیش کرتی تھی تو عدالتیں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا، "پولیس کو اپنے شعبۂ تحقیقات پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ عدالت میں مقدمات جیتنے میں مدد کر سکتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج