2017-10-11 | سلامتی

حکام نے مالاکنڈ سیکیورٹی مہم میں 60،000 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں رجسٹر کی ہیں

از عدیل سعید

حکام نے تصدیق کی ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کے دوران کوئی ڈیوٹیاں یا ٹیکس وصول نہیں کیے گئے ہیں۔


مالاکنڈ میں ایک نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑی 20 ستمبر 2017 کو مالک کی جانب سے پولیس کے پاس رجسٹر کروانے کے بعد نئی لائسنس پلیٹ لگائے ہوئے۔ [ارشد اقبال]
مالاکنڈ میں ایک نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑی 20 ستمبر 2017 کو مالک کی جانب سے پولیس کے پاس رجسٹر کروانے کے بعد نئی لائسنس پلیٹ لگائے ہوئے۔ [ارشد اقبال]
مالاکنڈ میں ایک نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑی 20 ستمبر 2017 کو مالک کی جانب سے پولیس کے پاس رجسٹر کروانے کے بعد نئی لائسنس پلیٹ لگائے ہوئے۔ [ارشد اقبال]

حکام نے تصدیق کی ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کے دوران کوئی ڈیوٹیاں یا ٹیکس وصول نہیں کیے گئے ہیں۔

پشاور -- پولیس کا کہنا ہے کہ حکام نے مالاکنڈ ڈویژن کے ساتوں اضلاع میں اندازاً بیس لاکھ غیر لائسنس یافتہ گاڑیوں کو رجسٹر کرنے کی ایک بڑی کوشش کے جزو کے طور پر ابھی تک ڈویژن میں غیر قانونی قرار دی گئی 60،000 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی ہے۔

سوات کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ ّف پولیس (ایس ایس پی) خان خیل نے کہا، "یہ ایک مشترکہ کوشش ہے جو پاکستانی فوج، پولیس اور ضلعی حکومتوں کی جانب سے کی گئی ہے۔"

خیبر پختونخوا (کے پی) کی ڈویژن، مالاکنڈ صوبے کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (پاٹا) کے قوانین کے تحت ہے جو ٹیکس اور کسٹمز سے مستثنیٰ ہے، جس سے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے ذریعے افغانستان سے سمگل شدہ سینکڑوں ہزاروں گاڑیوں کی طغیانی کا راستہ لاپرواہی سے کھل گیا ہے۔

خیل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا چونکہ یہ گاڑیاں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمے میں اندراج کروائے بغیر چلتی ہیں، انہیں "نان کسٹم پیڈ" (این سی پی) گاڑیاں کہا جاتا ہے اور ان کی ملکیت کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہوتا جس کی ان گاڑیوں کے کسی جرم یا دہشت گردی کی واردات میں استعمال ہونے کی صورت میں پڑتال کی جا سکے۔

المیہ کارروائی پر ابھارتا ہے

خیل کے مطابق، این سی پی گاڑیوں کی رجسٹریشن جنوری 2017 میں شروع ہوئی تھی، اور 24 مارچ تک اس کا اطلاق مکمل ہو گیا تھا۔

اس مہم کی تجویز سب سے پہلے کے پی کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درانی کی جانب سے دی گئی تھی۔.

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس کے ترجمان، ریاض احمد یوسفزئی نے کہا کہ درانی نے متنبہ کیا تھا کہ "دہشت گرد اور مجرم، بشمول بھتہ خور اور اغواء کار" ان غیر اندراج شدہ گاڑیوں کو اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔

نیوز لینز پاکستان کے مطابق، اکتوبر 2014 میں درانی نے کے پی حکومت کو لکھا تھا، "عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال این سی پی گاڑیوں کو دہشت گردی کی کئی سرگرمیوں خصوصاً مالاکنڈ ڈویژن میں استعمال کیا گیا تھا۔"

کہا جاتا ہے کہ درانی نے یہ خط ایک غیر اندراج شدہ گاڑی کے ایک ہلاکت خیز دہشت گرد حملے میں استعمال کیے جانے کے بعد لکھا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے رپورٹر محمد ریاض نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ آئی جی پی نے "29 ستمبر 2013 کو پشاور شہر کے قصہ خوانی بازار میں ایک مہلک بم دھماکے جس میں 42 افراد جاں بحق ہوئے تھے، میں ایک این سی پی گاڑی کے ملوث ہونے کے بعد" کارروائی کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران، پولیس دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کی گئی کار کا سرکاری ریکارڈ حاصل کرنے سے قاصر رہی تھی۔

ریاض نے کہا کہ اس واقعے نے "دہشت گردوں اور سکہ بند مجرموں کی جانب سے ان گاڑیوں کے استعمال کو روکنے کے لیے سمگل شدہ کاروں کا مناسب ڈیٹابیس بنانے" کی ضرورت پر ابھارا تھا۔

رجسٹریشن کے لیے کوئی ٹیکس جرمانہ نہیں

ایس ایس پی خیل نے کہا کہ کوئی بھی شخص جو رجسٹریشن کے عمل سے گزرتا ہے اس پر کوئی ڈیوٹیاں یا ٹیکس لاگو نہیں ہوتے۔

کے پی کے سابق وزیرِ خزانہ محمد ہمایوں خان جن کا تعلق مالاکنڈ سے ہے، نے کہا، "پہلے لوگ اس بارے میں سوچ کر متذبذب تھے کہ انہیں اپنی گاڑیوں کو رجسٹر کروانے کے لیے ٹیکس یا ڈیوٹیاں ادا کرنا ہوں گی، لیکن مالاکنڈ میں سیکیورٹی فورسز نے وضاحت کی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور مقامی افراد نے مکمل تعاون کرنا شروع کر دیا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم دیرپا امن کے لیے بے داغ سیکیورٹی کی اہمیت کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور اس لیے ایسی گاڑیوں کو منضبط کرنے کے عمل کی حمایت کرتے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کے لیے مسائل پیدا کرتی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں افواج چھوڑنے کے نئے امریکی عہد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

نتائج