|

سلامتی

حکام نے مالاکنڈ سیکیورٹی مہم میں 60،000 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں رجسٹر کی ہیں

حکام نے تصدیق کی ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کے دوران کوئی ڈیوٹیاں یا ٹیکس وصول نہیں کیے گئے ہیں۔

از عدیل سعید


مالاکنڈ میں ایک نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑی 20 ستمبر 2017 کو مالک کی جانب سے پولیس کے پاس رجسٹر کروانے کے بعد نئی لائسنس پلیٹ لگائے ہوئے۔ [ارشد اقبال]

مالاکنڈ میں ایک نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑی 20 ستمبر 2017 کو مالک کی جانب سے پولیس کے پاس رجسٹر کروانے کے بعد نئی لائسنس پلیٹ لگائے ہوئے۔ [ارشد اقبال]

پشاور -- پولیس کا کہنا ہے کہ حکام نے مالاکنڈ ڈویژن کے ساتوں اضلاع میں اندازاً بیس لاکھ غیر لائسنس یافتہ گاڑیوں کو رجسٹر کرنے کی ایک بڑی کوشش کے جزو کے طور پر ابھی تک ڈویژن میں غیر قانونی قرار دی گئی 60،000 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی ہے۔

سوات کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ ّف پولیس (ایس ایس پی) خان خیل نے کہا، "یہ ایک مشترکہ کوشش ہے جو پاکستانی فوج، پولیس اور ضلعی حکومتوں کی جانب سے کی گئی ہے۔"

خیبر پختونخوا (کے پی) کی ڈویژن، مالاکنڈ صوبے کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (پاٹا) کے قوانین کے تحت ہے جو ٹیکس اور کسٹمز سے مستثنیٰ ہے، جس سے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے ذریعے افغانستان سے سمگل شدہ سینکڑوں ہزاروں گاڑیوں کی طغیانی کا راستہ لاپرواہی سے کھل گیا ہے۔

خیل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا چونکہ یہ گاڑیاں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمے میں اندراج کروائے بغیر چلتی ہیں، انہیں "نان کسٹم پیڈ" (این سی پی) گاڑیاں کہا جاتا ہے اور ان کی ملکیت کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہوتا جس کی ان گاڑیوں کے کسی جرم یا دہشت گردی کی واردات میں استعمال ہونے کی صورت میں پڑتال کی جا سکے۔

المیہ کارروائی پر ابھارتا ہے

خیل کے مطابق، این سی پی گاڑیوں کی رجسٹریشن جنوری 2017 میں شروع ہوئی تھی، اور 24 مارچ تک اس کا اطلاق مکمل ہو گیا تھا۔

اس مہم کی تجویز سب سے پہلے کے پی کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درانی کی جانب سے دی گئی تھی۔.

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس کے ترجمان، ریاض احمد یوسفزئی نے کہا کہ درانی نے متنبہ کیا تھا کہ "دہشت گرد اور مجرم، بشمول بھتہ خور اور اغواء کار" ان غیر اندراج شدہ گاڑیوں کو اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔

نیوز لینز پاکستان کے مطابق، اکتوبر 2014 میں درانی نے کے پی حکومت کو لکھا تھا، "عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال این سی پی گاڑیوں کو دہشت گردی کی کئی سرگرمیوں خصوصاً مالاکنڈ ڈویژن میں استعمال کیا گیا تھا۔"

کہا جاتا ہے کہ درانی نے یہ خط ایک غیر اندراج شدہ گاڑی کے ایک ہلاکت خیز دہشت گرد حملے میں استعمال کیے جانے کے بعد لکھا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے رپورٹر محمد ریاض نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ آئی جی پی نے "29 ستمبر 2013 کو پشاور شہر کے قصہ خوانی بازار میں ایک مہلک بم دھماکے جس میں 42 افراد جاں بحق ہوئے تھے، میں ایک این سی پی گاڑی کے ملوث ہونے کے بعد" کارروائی کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران، پولیس دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کی گئی کار کا سرکاری ریکارڈ حاصل کرنے سے قاصر رہی تھی۔

ریاض نے کہا کہ اس واقعے نے "دہشت گردوں اور سکہ بند مجرموں کی جانب سے ان گاڑیوں کے استعمال کو روکنے کے لیے سمگل شدہ کاروں کا مناسب ڈیٹابیس بنانے" کی ضرورت پر ابھارا تھا۔

رجسٹریشن کے لیے کوئی ٹیکس جرمانہ نہیں

ایس ایس پی خیل نے کہا کہ کوئی بھی شخص جو رجسٹریشن کے عمل سے گزرتا ہے اس پر کوئی ڈیوٹیاں یا ٹیکس لاگو نہیں ہوتے۔

کے پی کے سابق وزیرِ خزانہ محمد ہمایوں خان جن کا تعلق مالاکنڈ سے ہے، نے کہا، "پہلے لوگ اس بارے میں سوچ کر متذبذب تھے کہ انہیں اپنی گاڑیوں کو رجسٹر کروانے کے لیے ٹیکس یا ڈیوٹیاں ادا کرنا ہوں گی، لیکن مالاکنڈ میں سیکیورٹی فورسز نے وضاحت کی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور مقامی افراد نے مکمل تعاون کرنا شروع کر دیا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم دیرپا امن کے لیے بے داغ سیکیورٹی کی اہمیت کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور اس لیے ایسی گاڑیوں کو منضبط کرنے کے عمل کی حمایت کرتے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کے لیے مسائل پیدا کرتی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 10

8 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Kifayat | 08-08-2018

AG 9703 ye kis k name Pe hai

جواب
Tufail khan | 04-08-2018

جتنی جلدی ممکن ہو سکے

جواب
Ikram | 11-05-2017

بہت اچھا

جواب
ممتاز احمد | 11-01-2017

Kpk حکومت کا یه ایک اچھا اقدام هے جس کی بدولت دهشت گردی کے اور قتل اقدام قتل چوری چکاریوں میں کمی آسکے گی . مگر اس کا یه بھی حل نهیں ایک طرف توحکومت دعوی کرتی هے کے باڈر پر این سی پی گاڑی کی سمکلنک روک دیا گیا هے اگر بارگین میں جائے تو اپ کو نیے ماڈلز کی گاڑیاں میلنگے جب تک باڈر پر مکمل سکو رٹی کے ساتھ گاڑیوں کے سمکلروں کے ساتھ حکومتی اهلکاروں خواه وه کسی بھی محکمے سے تعلق کیوں نه ان پر گھڑی نظر رکھاجائے اور جو بھی اهلکار سمکلروں کا سهولت کار هو ان کو عبرت کا نشانه بنایا دیا جائے. \n

جواب
Abdul Manan | 10-26-2017

army ke ki jops i ha i ha to kis ma

جواب
M.SHABBIR ANWAR GHUMMAN | 10-24-2017

شاندار \n

جواب
Asma Tahir | 10-22-2017

میں نے ایجوکیشن میں ماسٹرز کیا ہے۔ \n

جواب
M shahab | 10-18-2017

G ncp gariu k over all pakistan registration kis tarah hota hai

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج