|

جرم و انصاف

خیبرپختونخواہ نے فرانزک سائنس کی لیبارٹری کو جدید بنایا

حکام کا کہنا ہے کہ بہتری سے سرمایہ کاری میں تیزی آئے گی اور اہم مقدمات حل ہوں گے۔

جاوید خان


حیات آباد میں 3 اپریل کو، کے پی پولیس فرانزک سائنس لیبارٹری میں سائنس دان مختلف جائے واردات سے لیے جانے والے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ]جاوید خان[

حیات آباد میں 3 اپریل کو، کے پی پولیس فرانزک سائنس لیبارٹری میں سائنس دان مختلف جائے واردات سے لیے جانے والے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ]جاوید خان[

پشاور - خیبرپختونخواہ (کے پی) پولیس نے فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کو جدید بنایا ہے تاکہ اہم مقدمات کی تفتیش کو تیز کیا جا سکے خصوصی طور پر دہشت گردی کے حملوں کے مقدمات کو۔

اپ گریڈ کیے جانے کا ایک منصوبہ مارچ میں ختم ہوا جب کہ دوسرا اپریل میں شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔

سیںئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس اور کے پی ایف ایس ایل کے ڈائریکٹر رب نواز خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "گزشتہ چھہ ماہ کے دوران، ایف ایس ایل نے 25,000 فرانزک رپورٹیں تیار کیں اور انہیں پولیس کو دیا تاکہ انہیں ان کے مقدمات کی زیادہ بہتر طور پر تفتیش کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے"۔

کے پی پولیس نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقدمات سے جلد از جلد نپٹنے اور تفتیش کو بہتر بنانے کے لیے مزید سائنس دانوں کو ملازمت دی جائے۔

خان نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں، "ہم فنگرپرنٹس، کیمیائی اور دھماکہ خیز مواد کے جائزے اور دوسرے میدانوں میں ماہرین کو رکھ رہے ہیں"۔

خان نے کہا کہ "ہم ایف ایس ایل میں ایک خصوصی ونگ قائم کر رہے ہیں جو مختلف دہشت گردانہ حملوں یا ان کی ناکام کوششوں میں استعمال اور وہاں سے حاصل کیے جانے والے دھماکہ خیز مواد کا جائزہ لے گا تاکہ ان واقعات کی تفتیش کی جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے پولیس کو دھماکہ خیز مواد اور دوسرے شواہد کو لاہور میں ایف ایس ایل بھیجنا پڑتا تھا کیونکہ کے پی میں فرانزک اہلیتیں موجود نہیں تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکام سائبر جرائم کے لیے ایف ایس ایل میں ایک خصوصی سیکشن قائم کر رہے ہیں۔

ایک مصروف لیباریٹری

خان نے کہا کہ "اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران، منشیات کے 7,890 نمونوں، 1,809 ہتھیاروں، 2,242 سیرم سائنس کے واقعات، 438 مشکوک گاڑیوں اور منی کے 201 نمونوں کا ایف ایس ایل کے ماہرین نے تجزیہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایف ایس ایل کے عملے نے گزشتہ چند ماہ میں تمام زیرِ التوا مقدمات کو مکمل کر لیا اور فرانزک رپورٹوں کو سپرد کرنے کے اپنے عمل کو جدید بنا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی حیات آباد اور پشاور میں ایف ایس ایل کی عمارت کی مرمت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام لیبارٹریوں کو وسیع کرنے اور اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی توقع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے پشاور ایف ایس ایل کو جدید بنانے کے لیے سرمایہ فراہم کیا اور اس نے بعد میں کہا کہ یہ لاہور میں ایف ایس ایل کے بعد، پاکستان میں کام کرنے والی دوسری بہترین فرانزک لیباریٹری ہے۔

کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود کو ایف ایس ایل کی کارکردگی کے بارے میں اپریل کے وسط میں ایک بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ "ایف ایس ایل کو جدید بنائے جانے کے بعد، مختلف مقدمات کی تفتیش کا معیار مزید بہتر ہو گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نئے سیکشن اور لیباریٹری میں کیے جانے والے اپ گریڈز کو سراہتے ہیں۔

سوات میں نئی فرانزک لیباریٹری

کے پی پولیس نے پہلے ہی سوات میں ایک ایف ایس ایل کھولنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے جس سے ساری مالاکنڈ ڈویژن میں تفتیش کو تیز تر بنانے میں مدد ملے گی۔

سوات کے ضلعی پولیس افسر اعجاز احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سوات کی لیباریٹری کی سربراہی ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس کریں گے اور یہ ایف ایس ایل پشاور کے ماتحت کام کرے گی"۔

انہوں نے کہا کہ نئی ایف ایس ایل سوات بھر میں اور مالاکنڈ ڈویژن میں بہت سے واقعات کی تفتیش کو تیز تر کرے گی۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ایف ایس ایل تفتیش میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

پشاور میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر جنرل امیر محمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کسی واقعہ کی تفتیش میں ایف ایس ایل بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ہم جائے واردات یا دہشت گردی کے جائے واقعہ سے اکٹھے کیے جانے والے شواہد کو فوری طور پر تجزیے کے لیے لیباریٹری میں بھیج دیتے ہیں"۔

محمد نے کہا کہ ایف ایس ایل کے ماہرین اپنی رپورٹ "خصوصی کاغذ پر اپنی مہر" کے ساتھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کاغذ کی وجہ سے جعل سازی یا ردوبدل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 4

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Ashrafuddin | 08-10-2018

ہم کس طرح ایف ایس ایل پر درخواست دے سکتے ہیں


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج