|

مذہب

سیکیورٹی میں اضافے کے ساتھ پاکستان محرم کے لیے تیار

محرم الحرام کا آغاز 21 ستمبر کو متوقع ہے۔

از جاوید خان


پچھلے سال 11 اکتوبر کو کراچی میں نواسۂ رسول امام حسین کی شہادت کی یاد میں نو محرم الحرام کے روز ایک دینی جلوس کے دوران ایک پاکستانی نیم عسکری سپاہی چوکس کھڑا ہے جبکہ شیعہ مسلمان مارچ کر رہے ہیں۔ محرم الحرام کے دوران کسی بھی فرقہ وارانہ یا دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے پولیس اس سال بھی انتہائی چوکس ہے۔ [آصف حسین/اے ایف پی]

پچھلے سال 11 اکتوبر کو کراچی میں نواسۂ رسول امام حسین کی شہادت کی یاد میں نو محرم الحرام کے روز ایک دینی جلوس کے دوران ایک پاکستانی نیم عسکری سپاہی چوکس کھڑا ہے جبکہ شیعہ مسلمان مارچ کر رہے ہیں۔ محرم الحرام کے دوران کسی بھی فرقہ وارانہ یا دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے پولیس اس سال بھی انتہائی چوکس ہے۔ [آصف حسین/اے ایف پی]

پشاور -- پاکستان نے محرم الحرام سے قبل سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے ہیں یہ یقینی بنانے کے لیے کہ عاشورہ، جب شیعہ مسلمان حضرت محمد ﷺ کے نواسے امام حسین کی شہادت کا غم مناتے ہیں، پُرامن گزر جائے۔

پولیس حکام کے مطابق، پورے ملک میں، خصوصاً خیبرپختونخوا (کے پی)، پنجاب، سندھ اور بلوچستان صوبوں کے حساس اضلاع میں سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) صلاح الدین خان محسود نے 11 ستمبر کو تمام علاقائی پولیس افسران نیز کئی دفاعی اور خفیہ اداروں کے سربراہان کے ایک اجلاس کی صدارت کی تاکہ ان کے متعلقہ محکموں کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے۔

محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تمام افسران کو محرم کے جلوسوں کی براہِ راست الیکٹرانک نگرانی کو یقینی بنانے نیز عاشورہ سے قبل تمام راستوں اور عبادت گاہوں کی مناسب تلاشی لینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ افسرانِ بالا کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام حصہ داروں، بشمول دینی اور کاروباری رہنماؤں، کو ساتھ شامل کریں تاکہ عاشورہ کے دوران اور بعد میں فرقہ وارانہ اور مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔

محسود نے کہا، "سیکیورٹی انتظامات کی [پولیس کی] سپیشل برانچ کے ذریعے پڑتال کی جائے گی، اور کسی بھی غفلت کے لیے کسی بھی ضلعی پولیس افسر کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی جائے گی۔"

پشاور، ہنگو، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کو حساس ترین اضلاع تصور کیا جاتا ہے، جہاں فوج اور پولیس افسران پہلے ہی جلوس کے راستوں اور عبادت گاہوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔

کے پی پولیس محرم الحرام کے دوران 119 جلوسوں اور 316 مجالس کے انعقاد کی توقع کر رہی ہے۔

شہریوں کا پولیس کے ساتھ تعاون

پولیس سماج کو سیکیورٹی اقدامات سے باخبر رکھنے کے لیے تقریباً روزانہ ہی پشاور میں سنی اور شیعہ دینی علماء، کاروباری رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہی ہے۔

13 ستمبر کو ملک سعد شہید پولیس لائنز پر اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ ایک ملاقات میں، کاروباری رہنماؤں نے عاشورہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کے لیے اپنے مکمل تعاون کا اظہار کیا۔

محرم کے جلوسوں کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کے جزو کے طور پر بہت سے تجارتی مراکز بند رہیں گے۔

کوہاٹ بازار، پشاور کے ایک تاجر، عبدالماجد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے، اندرونِ پشاور زیادہ تر تجارتی مراکز 6 تا 10 محرم الحرام بند رہیں گے۔"

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز پشاور سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "علمائے دین اور کاروباری انجمنوں کے قائدین نے سیکیورٹی اقدامات کرنے میں پولیس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کا اظہار کیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ مزید برآں، سیکیورٹی فورسز نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کا کوئی بھی مسئلہ پیدا کرنے سے قبل ہی مشکوک افراد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی ہے۔

خان نے کہا، "ہم نے پہلے ہی پشاور کے شہری، مضافاتی اور دیہاتی علاقوں میں تلاشی اور گرفتاری کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ صرف دو ہفتوں کے دوران، 828 اشتہاری مجرموں کو گرفتار کیا گیا۔"

انہوں نے کہا، "محرم الحرام کے دوران امن کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیوں کے دوران، 13 دستی بم، بارودی پاؤڈر، 19 راکٹ گولے، 52 اے کے 47 اور 41 رائفلیں، 30 شارٹ گنیں اور 385 پستول برآمد کیے گئے۔"

انہوں نے کہا کہ پولیس کے بھاری دستوں کی تعیناتی کے علاوہ، سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکاروں اور خواتین پولیس کمانڈوز کو جلوسوں کے راستوں نیز امام بارگاہوں کے اطراف پر تعینات کیا جائے گا۔

پورے پشاور میں سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے کوہاٹی گیٹ پر ایک خصوصی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز قائم کیا جائے گا۔

کوہاٹ میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، رضا محمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تلاشی اور گرفتاری کی کارروائیوں کے علاوہ، پورے ضلع میں حساس مقامات کی حفاظت کا جائزہ لینے کے لیے پولیس کمانڈوز نے خصوصی نقلی مشقیں کیں۔"

سندھ، پنجاب میں سکیورٹی میں اضافہ

دی نیشن نے خبر دی کہ صوبہ سندھ میں، وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے محرم الحرام کے لیے پاکستان رینجرز اور سندھ پولیس کی جانب سے بنائے گئے حفاظتی منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے 15 ستمبر کو ایک اجلاس کی صدارت کی۔

رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد سعید نے شاہ کو بتایا کہ یکم محرم سے کراچی میں آٹھ ہزار رینجرز تعینات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں سندھ کے آئی جی پی اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ صوبے میں 1،932 امام بارگاہیں ہیں، اور حکام کو 5،662 عاشورہ کے جلوسوں کی توقع ہے -- 405 کو "حساس ترین" تصور کیا جاتا ہے۔

پورے پنجاب میں بھی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے، صرف راولپنڈی ہی میں محرم الحرام کے پہلے 10 دنوں کے لیے 3،765 مجالس اور 727 جلوس ترتیب دیئے گئے ہیں۔

پنجاب کے آئی جی پی آصف نواز خان نے 15 ستمبر کو پولیس کو ہدایات دیں کہ جلوسوں اور اجتماعات کو دو زمروں میں تقسیم کیا جائے۔

ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ زمرہ اے میں حساس ترین مقامات شامل ہں، جہاں فرقوں کے درمیان تصادم کی ایک تاریخ ہے، جبکہ زمرہ بی میں شامل مقامات وہ ہے جہاں تصادم یا امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔

خان نے ہدایت کی کہ سادہ کپڑوں میں پولیس مطلوب دہشت گرد مجرموں کو تلاش کرے اور کہا کہ وہ تمام دینی اجتماعات اور جلوسوں میں جائیں یہ یقینی بنانے کے لیے کہ دہشت گردی کا کوئی ملزم موجود نہ ہو۔

محرم الحرام، قمری کیلنڈر کا پہلا مہینہ جمعرات (21 ستمبر) سے شروع ہونا متوقع ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 10

2 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Junaid jahangir | 10-06-2017

Ma police ma job krna chata hoo

جواب
Saba NOOR | 10-01-2017

پسند

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج