|

سلامتی

پاکستان میں پرامن محرّم کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی میں اضافہ

عاشورہ کی طے شدہ تقریبات کے ہزاروں شرکاء کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سینکڑوں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

جاوید خان


پر امن طورپر محرم اور عاشورہ کے جلوس اور مجالس منانے کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان بھر میں سخت سیکیورٹی کے جزُ کے طور پر 10 ستمبر کو پولیس پشاور میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو چیک کر رہی ہے۔ [جاوید خان]

پر امن طورپر محرم اور عاشورہ کے جلوس اور مجالس منانے کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان بھر میں سخت سیکیورٹی کے جزُ کے طور پر 10 ستمبر کو پولیس پشاور میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو چیک کر رہی ہے۔ [جاوید خان]

پشاور – جیسا کہ پاکستان میں آشورہ منائے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے، پر امن طور پر منائے جانے کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

رواں برس ماہِ محرم الحرام کا دسواں روز، عاشورہ، جمعرات- جمعہ (20-21 ستمبر) کو منایا جائے گا۔

کے پی پولیس کے ترجمان وقار احمد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "کے پی میں 266 امام بارگاہوں سے 460 جلوس نکلیں گے، جبکہ عاشورہ کی 2,643 مجالس منعقد ہوں گی۔"

احمد نے کہا کہ سیکیورٹی پلانز کے جزُ کے طور پر تقریباً 32,700 پولیس اہلکار دورانِ محرم کے پی میں سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔ "کے پی پولیس کے علاوہ، فرنٹیئر کانسٹیبلری، فرنٹیئر ریزرو فورس، ایلیٹ فورس اور کوئک رسپانس فورس کے تعیناتی پر آئے اہلکار بھی سیکیورٹی پلان کا جزُ ہیں۔"

احمد نے کہا، "کسی کو بھی دھماکہ خیز مواد نصب کرنے سے روکنے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ تمام جلوسوں کے راستوں پر صفائی کر رہا ہے۔"

پشاور میں اضافہ شدہ سیکیورٹی

کے پی کے صدرمقام، پشاور میں پولیس نے کوہاٹی دروازے پر ایک کمانڈ پوسٹ قائم کی ہے اور ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔

پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر قاضی جمیل الرّحمٰن نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے "علمائے دین، عمائدین، تاجروں اور مقامی آبادی کی حمایت سے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے محرم سے قبل ان سے مشاورت کی۔"

انہوں نے کہا کہ انہوں نے "پشاور کے داخلی اور خارجی راستوں کو بھی مستحکم کیا اور شہر میں چھاپے اور تلاش کے آپریشنز کو تیز کیا۔"

پشاور کے تاجر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

شہر کے ایک تاجر عبد الماجد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اندرونِ پشاور شہر میں تاجروں نے 6 محرم [(اتوار) 16 ستمبر] سے اپنے بازار بند کر دیے تاکہ پولیس جلوس کے راستے بند کر کے سیکیورٹی اقدامات کر سکے۔"

انہوں نے کہا کہ چونکہ عاشورہ سے چار روز قبل سیکیورٹی انتظامات جاری ہوتے ہیں، باہر سے کوئی بھی اندرونِ شہر میں داخل نہیں ہو سکتا۔

ایک ہنگامی ریسکیو سروس ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی نے کہا، "دورانِ محرّم ایمبولینسز، طبّی ٹیکنیشن، آگ بجھانے کی گاڑیاں اور دیگر سہولیات ہر وقت چوکس ہوں گی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ریسکیو 1122 کے تمام کارکنان الرٹ پر رہیں گے، جبکہ ان کارکنان کو بھی محرم ڈیوٹی کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے جو چھٹی پر ہیں۔"

ملک بھر میں اضافی سیکیورٹی اقدامات

عاشورہ منائے جانے سے قبل کی تیاریوں کے جزُ کے طور پر، پولیس نے پاکستان بھر میں اچانک چیکس اور تلاش کے آپریشنز میں اضافہ کر دیا ہے۔

کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس امیر شیخ نے 10 ستمبر کو وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں ایک سیکیورٹی اجلاس میں بتایا، "صوبہ سندھ میں 1,996 امام بارگاہیں ہیں، جن میں سے 356 کراچی میں اور 590 حیدرآباد میں ہیں۔"

شیخ نے کہا کہ صوبہ [سندھ] میں کل 3,513 جلوس نکلیں گے جن کے لیے حکام نے ایک سیکیورٹی پلان تیار کیا ہے، جس میں 69,500 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی شامل ہے۔

پنجاب میں بھی حکام سیکیورٹی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

پنجاب کے وزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور محمّد بشارت راجہ اور علمائے دین کے ایک وفد کے درمیان ایک ملاقات کے بعد حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا، "حکومتِ پنجاب محرّم کے جلوسوں اور مجالس [تقریبات] کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔"

10 ستمبر کو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان کے مطابق، صوبہ بلوچستان میں فرنٹیئر کور نے ضلع ژوب میں کل 235 کلوگرام وزنی دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز) دریافت کرتے ہوئے "دہشتگردی کی ایک بڑی کوشش" ناکام بنا دی۔

آئی ایس پی آر نے کہا، یہ "دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات محرّم کے جلوسوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جانے تھے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج