|

سلامتی

اسلامی عسکری اتحاد نے قوتِ رفتار پکڑ لی

مسلمان ممالک نے سعودی قیادت کی عسکری فورس میں 34,000 کی ریزرو فورس فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

بیروت سے جنید سلمان


23 فروری کو لی گئی ایک تصویر میں ریاض کے سپیشل فورس کالج کی ایک گریجوایشن تقریب میں  خدمات انجام دینے والے سعودی فوج کے ہیلی کاپٹر انسدادِ دہشتگردی کی تراکیب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ [فائض نورالدین/اے ایف پی]

23 فروری کو لی گئی ایک تصویر میں ریاض کے سپیشل فورس کالج کی ایک گریجوایشن تقریب میں خدمات انجام دینے والے سعودی فوج کے ہیلی کاپٹر انسدادِ دہشتگردی کی تراکیب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ [فائض نورالدین/اے ایف پی]

ریاض میں حالیہ عرب-اسلامی-امریکی اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک نے اسلامی عسکری اتحاد میں اپنی افواج دینے کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ فورس خطے میں کیا کردار ادا کرے گی۔

21 مئی کو جاری ہونے والے اجلاس کے اختتامی بیان میں شریک ممالک کے سربراہان نے سعودی قیادت کے انسدادِ دہشتگردی کے اتحاد میں شرکت کرنے کے لیے ”متعدد اسلامی ممالک کی آمادگی کا خیر مقدم کیا۔“

انہوں نے ”ضرورت پڑنے پر عراق اور شام میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف آپریشنز کی حمایت میں 34,000 کی ایک ریزرو فورس فراہم کرنے“ پر اتفاق کیا۔

سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس عسکری اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں .

اسٹریٹجک اور سیکیورٹی کے ماہر ایک ریٹائرڈ لبنانی فوجی افسر برگیڈیئر جنرل نظار عبدالقدیر نے کہا کہ جاری علاقائی تناؤ کا ایران کی ہمسایہ خلیجی ریاستوں پر ایک براہِ راست اثر ہے۔

انہوں نے المشرق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ”عرب ممالک کے مابین عسکری تعاون اور ارتباط کو مستحکم کرنے کی ضرورت سے متعلق بیداری پیدا ہوئی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ اس فورس کی کامیابی کا انحصار سعودی عرب کا خلیج میں اپنا ا تحادی مقام برقرار رکھنے کی صلاحیّت اور مصر کے ساتھ تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ مصر اور سعودی عرب ”دو سب سے بڑی عرب قوّتیں ہیں، اور ان کے مابین تعاون دیگر ممالک کو اس اتحاد کی جانب لائے گا۔“

انہوں نے کہا کہ نتیجتاً ایرانی پھیلاؤ اور توسیع کے مقابلہ میں کھڑی ہونے کی اہل عرب انسدادی فوج کے ظہور کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مشترکہ عسکری مشقیں

عسکری ماہر اور سبکدوش لبنانی فوجی افسر برگیڈیئر جنرل چارلس ابی نادر نے کہا کہ یہ 2015 میں سعودی عرب کی جانب سے باقاعدہ طور پر شروع کیے گئے عسکری اتحاد کے لیے ایک بڑی امکانی قوت ہے، جس کی تعداد میں اب 41 ارکان ممالک شامل ہیں۔

انہوں نے المشرق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اردن، مصر اور سعودی عرب کے مابین پہلے ہی عسکری تعاون موجود ہے، انہوں نے حوالہ دیا کہ دیگر ممالک کی شمولیت کے ساتھ سالانہ عسکری مشق اردن میں ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”یہ مشقیں شامل فریقین کو آپس میں تعاون کا تجربہ اور ایسے نکات فراہم کرتی ہیں جن کی افواج کو عسکری اور سیکیورٹی آپریشنز میں حصّہ لینے پر پڑتی ہے۔“

ابی نادر نے حوالہ دیا کہ تینیوں ممالک پہلے ہی شام اور یمن میں تنازعات کے حوالہ سے تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اردن شام اور عراق کے تین سرحدوں والے علاقہ میں عسکری پیش رفت ”اس مستعد فوج کے لیے خطہ میں جاری تنازعہ میں شامل ہونے کے لیے ایک راہداری ہو گی،“ بطورِ خاص جبکہ اس کا کلیدی مقصد عراق اور شام میں دہشتگردی سے لڑائی ہے۔

انہوں نے کہا، تین سرحدوں والا علاقہ ”اردن ، شام اور عراق کا مقامِ رابطہ ہونے اور سعودی علاقۂ عملداری کے ساتھ قربت کی وجہ سے“ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے ۔

انہوں نے مزید کہا، اس لیے یہ ایک راہداری ہے کہ جس کے ذریعہ مشترکہ عسکری فورسز شام میں داخل ہو سکتی ہیں اور ”دولتِ اسلامیۂ“ (داعش) کا مقابلہ کرنے کے لیے شمال کی جانب پیش قدمی کر سکتی ہیں۔

ابی نادر نے اس ممکنہ موقع کی جانب اشارہ کیا جو یہ علاقہ عراقی-شامی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے فراہم کرتا ہے۔

ایرانی توسیع کا سدِّباب

بین الاقوامی امور کے امریکی یونیورسٹی کے لبنانی پروفیسر امداد سلامے نے کہا کہ ریاض اجلاس میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے پر مکمل اتفاق ہوا، اور یہ خطے میں عسکری اتحاد کی تشکیل کی بنیاد رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا، دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ”شدّت پسندانہ افواج کو ردِّ عمل دینے ]کے سلسلہ میں[ سیکیورٹی انفارمیشن کے تبادلہ کے لیے ایک اشتراک“ کی تشکیل کی ضرورت ہے۔

سلامے نے کہا کہ وہ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ مشرکہ فورسز کا مقصد دہشتگردی کا مقابلہ کرنا، اور ایرانی توسیع کو روکنے کے لیے خطے مین ایک بڑی عسکری فوج تشکیل دینا ہے۔

انہوں نے کہا، ”ایسی فورس کی موجودگی بطورِ خاص اس لیے سودمند ہوگی کیوں کہ خلیجی خطے کی ]سیکیورٹی اور[ استحکام ، جو کہ عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، خدشہ کی زد میں ہے۔“

انہوں نے کہا کہ خطے کے استحکام کو یقینی بنانے اور ایران سے درپیش خدشہ کو روکنے کی ضرورت ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 17

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

7 تبصرے 💬

💬

wafa tuqeer | 08-07-2017

mujy army ka bhot zada shooq ha ma army me ana chahte hn matirc arts ky 7 kia ha f a kar rahe hn am wafa in city lahore plzzzzzzx u help me


💬

Munsif khan | 08-06-2017

پاک فوج عظیم ہے


💬

osama Ilyas | 08-01-2017

بحریہ شاندار ہے


💬

Zaigham | 08-01-2017

جناب میری عمر 16 برس ہے، مجھے پی اے ایف میں ایئرو ٹیکنیشن کے طور پر شامل ہونا ہے اور میں نے سائنس میں میٹرک کر رکھا ہے۔۔ برائے مہربانی مجھے جواب دیں، اللہ حافظ۔


💬

hafiza muhammad siddiqu | 07-24-2017

Mujay pak army bht pasand hai


💬

Amir Saeed | 07-16-2017

پاکستانی دفاع کے لیے بحریہ شاندار ہے


💬

Arshad Ali | 07-05-2017

نہایت مفید اور معلوماتی تحریر۔ میں دوبارہ ایسے مقالے پڑھنا چاہوں گا۔


انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج